ِِ’’ غزل ‘‘ اور ’’شدیدغزل‘‘ کی آمد : سعید سادھو

نوجوان شاعر اکثر راتوں کو غزل کہا کرتے تھے. موٹر سائیکل کسی کسی کے پاس تھا سو بائیک پہ ہوا کھاتے ہوئے غزل کم کم کو نصیب ہوتی تھی.
بلکہ ایک شاعر کے پاس موٹر بائیک موجود تھا جسے وہ ہفتہ وار حلقہ جاتی اجلاس میں گھر سے کوئی دو تین بلکہ چار پانچ کلو میٹر دور ادبی نشست میں ساتھ لاتے اور واپس بھی لے جاتے، جی ہاں فدوی نے انہیں موٹر سائیکل ہو ہمیشہ “دھروکتے” ہی دیکھا ہے، یہ ہمت موٹر سائیکل کو میرے سامنے کبھی نہ ہو سکی حالانکہ موٹر سائیکل نے ابھی ابھی ریکروٹی گزاری تھی اور سپاہیانہ چمک بوٹ تا چہرہ لیے ہوئے تھا. شاعر کا ادبی تو خیر ٹھیک ہے مگر جسمانی قد اتنا چھوٹا بھی نہیں تھا کہ قینچی سائیکل کی طرز پہ بھی نہ چلا سکتے مگر، بے جانوں کو ہفتہ وار ہوا لگوانا بھی اچھے وقت کے جان دار کبھی نہ بھولتے تھے.
واپسی پر اکثر جونئیر شاعر ہینڈل تھامے اقبال، پرویز، عروض وغیرہ پر ان کی ازبر ہو چکی ریہرسل بار بار سنا کرتے.
ہاں تو شاعری چونکہ آج کل کے دور کی طرح ہوا کھاتے ہوئے ممکن نہیں تھی لہذا اس کا اکثر و بیشتر ایک وقت مقرر تھا. سو رات ڈھلتے ہی شاعری کا مینا بازار باقاعدہ سجتا تھا. تکیے کے ارد گرد قلم رکھے جاتے. پنسل بال پوائنٹ کی نسبت، مارکر قابل اعتماد ہوتا تھا. کہ پنسل کا سکہ ٹوٹ جانے یا بال پوائنٹ “ہینگ” ہو جانے کا احتمال رہتا تھا لہذا مردہ سے مردہ اور بزرگ سے بزرگ مارکر کاغذ دیکھتے ہی کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی ہمت رکھتا تھا.
اس کے علاوہ ایک رف ڈائری جو فقط شاعری کے لیے ہوا کرتی تھی، روشنی کا موجود ومیسر آلہ، ماچس، لالٹین، یا شاعر کے ابا امیر ہیں تو ننھے سیلوں والی بیٹری.
مچھر دانی میں گھمسان کی عورتیں شاعر کے خیال میں آتیں اور وہ کہہ اٹھتا
.
.
اخے
.
. جب تک کہ تُو غزل میں اتاری نہ جائے گی
بستر پہ آج رات سنواری نہ جائے گی
.
.
کبھی کبھار جب بستر خاندان کے دیگر افراد سے دور ہوتا، یا ستاروں چاند وغیرہ کے زیادہ قریب تو غزل در غزل اترتی تھی.
لیکن حبس کی راتوں میں ایک غزل اترتے اترتے سحر ہونے لگتی.
پیارے بچو شعراء کے ہاں یہ دائمی بیماری ہے کہ غزل لکھ کر سنانی لازمی ہوتی ہے، دیوار کو، پیڑ کو، ستاروں کو، اپنے آپ کو، لیکن جب سے موبائل آیا ہے یہ بیماری قدرتی مناظر کی بجائے روبوٹوں کے ذریعے روبوٹوں کو ہی سنائی جانے لگی ہے.
یہ واقعہ موبائل پر گروپ کال کی سہولت سے تقریباً پہلے کا ہے.
نیا نیا نوکیا 3310 آیا تھا جسے آج کے دور کے ایپل جتنی عزت ملا کرتی تھی.
ابا کی کمائی، جمع اپنی مزدوری پہ پلنے والے ہلکے پھلکے نیلی پیلی روشنی دیتے موبائلوں سے کام چلاتے.
انہی دنوں کا واقعہ ہے کہ ہمارے ایک دوست کو رات دو بجے بہت شدید غزل آگئی.
کچھ ہی دیر میں وہ مکمل غزل برآمد کیے ہاتھ پر رکھے گھوم رہے تھے، چھت، صحن، اندھیرے اور خود کو سنا چکےمگر پیلی نیلی روشنی والے موبائل میں اپنی برادری کے 3310 کو غزل سنانے کی کسک پیدا ہونے لگی.
3310 ایک شادی شدہ hanging gazzeted افسر کے بائیں جانب موجود تھا دائیں جانب مرحوم کی بیوہ معذرت خواہ ہوں بیوی موجود تھیں کہ 3310 نے غزل سننے سے پہلے ہی داد دینی شروع کر دی.
اور داد بھی بقول رؤوف امیر چھت اڑا دینے والی داد.
شاعر تو خیر خود غزلو غزلی ہو کر مجروح پڑا تھا مگر بیوی بے چاری کو پہلا اختلاج قلب نصیب ہوا
اور 3310 نے نیلی پیلی روشنی کو فقط دو چار گالیوں سے نواز کر بیگم کو ہسپتال پہنچانے میں ہی عافیت جانی.

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post