بے شرم لڑکی (شخصی خاکہ) : سعید اشعرؔ

سعید اشعر
سعید اشعرؔ
           یار بڑی ہی بے شرم لڑکی ہے۔ ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے۔ اس پر کوئی اثر ہی نہیں۔ زندگی نے اس کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا۔ اس کے پچھواڑے پر لات مارتی اور جان چھڑوا لیتی۔ سو طریقے اور بھی ہیں۔ پر نہیں۔ ہر بار اسے معاف کرکے گلے لگا لیتی ہے۔ کم از کم میں تو تھک گیا ہوں۔ ہر تیسرے روز اسے دفنا کر آتا ہوں۔ میرے واپس پہنچنے سے پہلے یہ گھر پہنچی ہوتی ہے۔ اس وقت بھی ایک جنازے پر بیٹھی ایسے بلک رہی ہے جیسے خود مر گئی ہو۔ مرنے والی اس کی دوست ہے۔ کولیگ ہے۔ دونوں ہارون آباد کے ایک سکول کی ٹیچرز ہیں۔ نجانے کیسا سکول ہے۔ ہر سال اس کی ایک ٹیچر مر جاتی ہے۔ ایک ہی مرض کینسر تشخیص ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اس کی بڑی بہن شاہدہ صاعقی بھی اس مرض کا شکار ہو چکی ہے۔ کئی بار اسے کہہ چکا ہوں
“گڈے اس سکول سے ٹراسفر کروا لے۔”
میری کب سنتی ہے۔
              ذرا ڈھیٹ پنا تو دیکھیں۔ ایسے مکان میں رہ رہی ہے جو عرصہ دراز تک بند رہنے کی وجہ سے ان دیکھی مخلوقات کا ٹھکانہ بن چکا ہے۔ ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہتی ہے اور سامنے رکھے میز پر پاؤں کے نشان ابھرتے چلے جاتے ہیں۔ کام والی خوف سے چیختی چلاتی ہوئی محلہ چھوڑ دیتی ہے۔ پچھلے مہینے دیکھتے ہی دیکھتے دن دیہاڑے بغیر آن کیے کچن میں رکھے تمام اپلائنسس دو منٹ میں راکھ ہو جاتے ہیں۔ ایسی بے شرم ہے اسی کچن میں موم بتی جلا کر رات کا کھانا بناتی ہے۔ اس گھر کو چھوڑ کر جانے کے لئے نہیں آمادہ۔ منطق دیکھیں۔
“شاہدہ آپی کا گھر ہے۔ برباد ہو جائے گا”
       گھر میں عجیب عجیب آوازیں سننے کو ملتی ہیں۔ یہ مزے سے ایم فل کر رہی ہے۔ پہلے جس گھر میں تھی۔ وہاں پہلا مقالہ مکمل کیا۔ غزل کی۔۔۔۔۔جہتیں۔ بوجوہ گھر بدلنا پڑا۔ پیچھے مالک مکان کے بچوں نے مقالے کا ہر پیچ جہاز بنا کر اڑا دیا۔ مقالہ سبمٹ کروانے کا وقت آیا تو نیا موضوع منتخب کر لیا۔ جدیدیت اور ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ کسی کوریئر سے انچارج کو بھیجا۔ راستے میں ہی گم ہو گیا۔ پھر گھر بدلا۔ اس بار اس بھوت گھر میں تیسری بار موضوع بدل کر لکھا۔ ایک ہفتہ رہتا تھا۔ جن کی بچی نے “شاہدہ صاعقی کی شعری جہات” پر لکھ کر سبمٹ کروا دیا۔ دیکھتے ہیں کیا رزلٹ آتا ہے۔ تب تک ہم کچھ اور باتیں کرتے ہیں۔
اب تک آپ سب سمجھ گئے ہوں گے میں ہما شاہ کا کھاتہ کھول کے بیٹھا ہوں۔ کوئی منہ پھٹ پوچھ سکتا ہے کہ تمہاری کیا لگتی ہے
“کان کھول کے سنو۔ میری پتر ہے۔ میرا گڈا ہے۔ میری سہیلی ہے۔ اور اور۔۔۔۔۔۔ “
میں اس کے چوبیس گھنٹوں سے باخبر رہتا ہوں۔ رات تین بجے جاگ رہی ہو تو میں پوچھتا ہوں خیر تو ہے۔ سکول میں کس وقت اس کا کون سا پیریڈ چل رہا ہے۔ واپس کب گھر پہنچی۔ بیمار ہے۔ گھر میں کیا پکا ہے۔ لاہور جانے کا۔ ہاسپٹل جانے کا۔ اس کا سارا روزنامچہ میرے پاس ہے۔
میں نے ایک بار اسے “اماں جی” کہہ دیا۔ اس کا تراہ نکل گیا۔ بے اختیار بولی “ہیں؟؟؟؟ “
“دیکھو جو بیٹا سب سے پیارا ہوتا ہے اصل میں وہ باپ ہوتا ہے۔ اس منطق کے مطابق تمہارا اماں جی ہونا بنتا ہے”
بہت سارے لوگوں کا جی چاہ رہا ہوگا کہ دیکھنے چلیں آخر یہ نمونہ ہے کیا۔ اسے ملنے کے لئے بڑا آسان طریقہ ہے۔ اس کے محلہ میں کہیں پہنچ جائیں۔ پتہ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ کچھ دیر بعد آواز آئے گی۔
“الو کے پٹھے”
گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو کسی نے نہیں پکارا۔ توقف کریں۔ یہی آواز دوبارہ سنائی دے گی۔ سمت کا تعین کرتے ہوئے چل پڑیں۔ وقفے وقفے سے آواز سنائی دے گی۔ منزلِ مقصود پر پہنچ کر پتہ چلے گا۔ ہما شاہ اپنے جگر کے ٹکڑے احمد کی تربیت فرما رہی ہے۔
اگر تو آپ اس کی عیادت کے لئے جا رہے ہیں۔ پھر تو صبح کا ناشتہ اور دن کا کھانا بالکل ہی نظر انداز کر دیں۔ جب بھوک خوب چمک اٹھے۔ شام کو اس کے ہاں پہنچ جائیں۔ یہ اکثر بسترِ مرگ پر پڑی ملتی ہے۔ آپ کا کام ختم۔ اب یہ اس کا مسئلہ ہے۔ جیسے تیسے کر کے اٹھے گی۔ کچن پہنچے گی۔ قورمہ، بریانی۔ رائتہ اور میٹھا تو آسانی سے بنا لیتی ہے۔ آپ اتنی دیر خوش گپیوں میں مصروف رہیں۔ لو جی احمد گرما گرم نان لے آیا ہے۔ ڈٹ کر کھانا تناول فرمائیں۔ پانچ سات آدمی ہوں تو گپ شپ لگاتے وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ گیارہ بج جاتے ہیں۔ آپ تو نکلیں۔ برتنوں کا دھونا اور کچن کی صفائی اتنا بڑا کام نہیں۔ ایک بجے تک یہ آرام سے کر لے گی۔ صبح ہوتے ہی بہاول پور کی ویگن میں بیٹھ جائے گی۔ اب یہ ہارون آباد کے ڈاکٹروں کے بس کا کام نہیں۔
یہ کیا۔ اس بار بہاولپور نہیں جا رہی۔ مزے سے لیٹی ہے۔ احمد نے کتنی اودھم مچائی ہوئی ہے۔ ایک بار بھی اسے الو کا پٹھا نہیں کہا۔ اوہو شام ہو جاتی ہے۔ یہ سوئی ہوئی ہے۔ کیسی بے فکری ہے۔ یہ رات بھی سوتے سوتے گزر جاتی ہے۔ ساڑھے نو بجے شاہدہ آپی کی ایک دوست آ ٹپکتی ہے۔ زبردستی اس کے منہ میں پانی ڈالتی ہے۔ جھنجھوڑتی ہے۔ تب جا کر اس کی آنکھ کھلتی ہے۔ اس کو چمچ سے تھوڑا تھوڑا سوپ دیتی ہے۔
“رات تمہاری باجی خواب میں آئی کہنے لگی میرا گڈا بیمار ہے اسے بخار ہے۔ میں اس کے لئے پریشان ہوں۔صبح اٹھی تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کروں۔ مسلسل بے چین رہی۔ آخر سوپ بنایا اور تمہارے پاس آ گئی “
       شاہدہ آپی اس کی بڑی بہن ہی نہیں ماں بھی ہیں۔ مرشد بھی ہیں۔ شفیق، مہربان، رحمدل، خدا ترس، قناعت پسند، سخی، درویش، فقیر اور تہجد گزار۔ خاموشی سے ضرورت مندوں کا خیال رکھتیں۔ جب تک رہیں۔ ہما شاہ بھی اس کا گڈا رہی۔ وہ اپنے گڈے کا ہر طرح خیال رکھتیں۔ پھر وہ چلی گئیں۔ اور گڈا۔ رُل گئی۔
شاہدہ باجی کے لین دین کا سارا حساب کتاب ہما شاہ کے ذمہ ہے۔ وہ باقاعدگی سے اسے ایک نوٹ بک پر درج کرتی ہے۔ ان کی وفات کے بعد کسی نے آ کر لین دین کی بات نہیں کی۔ جس نے جو لیا ہوا ہے خاموش ہے۔ ہما شاہ نے بھی کسی کو یاد نہیں دلایا۔ اسے پتہ ہے باجی نے جس جس کو بھی ادھار دیا ہے۔ یہ سوچ کر دیا کہ واپس مل گیا تو ٹھیک ورنہ اللہ معاف کرے۔ البتہ ایک کپڑا بیچنے والی نے کمال کر دکھایا۔ کچھ ایسے پیسوں کا تقاضا کیا جو وہ پہلے لے چکی ہے۔ ہما شاہ وہ بھی ادا کر دیتی ہے۔ صدقہ ہی سہی۔
کوئی اس کی روحانی توجیہہ کرے یا نفسیاتی۔ عجیب واقعہ ہوتا ہے۔ ہما کا ہاتھ تنگ ہے۔ کسی سے پانچ ہزار پکڑتی ہے۔ سفید پوش لوگوں کے لئے یہ بہت ہی تکلیف دہ کام ہے۔ دو تین دن کے بعد شاہدہ آپی کی ایک جاننے والی آن پہنچتی ہے۔ اپنا دکھڑا بیان کرتی ہے۔ اسے دس ہزار چاہییں۔ مرے کو مارے شاہ مدار۔ ہما نے معذرت تو کر لی اب اس کی خیر نہیں۔ رات شاہدہ آپی خواب میں آتی ہیں۔
“تمہارے پاس نہیں تھے تمہیں بھی تو کسی نے دیے۔ اسے کیوں واپس کر دیا”
پھر کیا تھا۔ صبح بھاگم بھاگ پیسوں کا بندوبست کیا اور اس کے گھر خود دے کر آئی۔
          اسے حالات نے نہیں بگاڑا۔ پیدائشی ایسی ہے۔ کسے خبر تھی یہ جو سفید خرگوش کا بچہ پیدا ہوا ہے بعد میں ایک خونخوار بلا بنے گا۔ ذرا تصور کریں۔ ابھی دو سال کی نہیں۔ میں اسے اٹھائے اٹھائے دکان پر سودا لینے جاتا ہوں۔ واپسی پر یہ مجھے اپنی جیب سے ٹافیاں اورچیونگم نکال کر دیتی ہے۔ ادائیگی کے لئے دوبارہ دکان پر جانا پڑتا ہے۔ اس بار تو مصیبت ہی کھڑی ہو جاتی ہے۔ میں کئی دکانوں پر جاتا ہوں۔ واپسی پر یہ مجھے ٹافیاں اور چیونگم دیتی ہے۔ یا اللہ اب میں کس کس دکان پر جاکر انکوائری کروں۔
لو جی ہما شاہ چھ سال کی ہو جاتی ہے۔ امی اور ابو سکھی ہیں یا پریشان ابھی اس کا شعور نہیں۔ دو بڑے بھائی ہیں۔ اُن کا تیسرا بھائی یہ بن جاتی ہے۔ محلے کے سب لڑکے اسے گڈا کہتے۔ کیونکہ یہ اپنے ابا کا گڈا ہے۔ اپنے سے بڑے بھائی سہیل کے کپڑے پہنتی ہے۔ لڑکوں والی کٹنگ کی وجہ سے کوئی اسے بطور لڑکی نہیں جانتا۔ اسے بگاڑنے میں سب سے بڑے بھائی صادق شاہ کا بھی بہت ہاتھ ہے یہ جب بھی کسی سے مار کھاتی ہے۔ کہتا
“ڈوب مر۔ مار کھا کے آگئی لتاں توڑ دے جیہڑا کج کہوے۔ میری بہن ہو کے مار کھا آئی”
یہ سکول نہیں جاتی وہاں ایک لڑکی اسے بہت مارتی ہے بڑا بھائی صادق شاہ اسے سائیکل پہ بٹھاتا ہے۔ تیز تیز پیڈل چلاتے ہوئے کہتا ہے اب اگر سکول نہ گئیں اور اس لڑکی سے ڈریں تو میں سائیکل کسی ٹرک یا کار میں مار دونگا۔ پھر کیا تھا ہما شاہ مولا جٹ بن جاتی ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے اس کا ہاتھ سیدھا اس کے گریبان تک پہنچ جاتا ہے۔
اس سے 5 سال بڑا بھائی سہیل انتہائی شریف بچہ ہے۔ یہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ باہر سے مار کھا کے آتا ہے اور یہ دوسروں کو مار پیٹ کے آتی ہے۔
ایک بار سہیل کو کوئی لڑکا پیٹتا ہے۔ یہ اسے تڑی دے کے آتا ہے۔
“میں ہُنی گڈا نوں لے کے آیا”
گڈا تو پہلے سے تیار بیٹھی ہے گڈا کا نام سنتے ہی لڑکا غائب ہو جاتا ہے مگر یہ اسے ڈھونڈ کے خوب دھنائی کرتی ہے۔
“تیری جرات کیسے ہوئی میرے بھائی کو مارنے کی”
پٹنے والے لڑکے کا والد ہما کے والد سے شکوہ کناں ہوتا ہے۔
“آپ کے چھوٹے بیٹے نے میرے بیٹے کی دیکھیں کیا درگت بنا دی ہے۔”
سب موقعہِ واردات پر پہنچتے ہیں۔ یہ وہیں چوک میں اپنی آستینیں چڑھائے بڑی شان سے بیٹھی ہے۔
اس کے والد کے منہ سے “”اوہ” کی آواز برآمد ہوتی ہے۔ کہتے ہیں
“یہ تو گڈا ہے
چل گڈے گھر”
اس کی امی نہایت ملنسار اور حلیم الطبع ہیں۔ کہتی ہیں
“اللہ جانے کدے تے چلی گئی اے”
کنچے، اخروٹ، پاپے اور گلی ڈنڈا۔ یہ ہیں اس کے پسندیدہ کھیل۔ صبح دو کنچے لے کر گھر سے غائب۔ شام کو جھولی بھر کے کنچوں کی واپس گھر آنا۔ اماں پھینک دیتیں ہیں۔ اگلے دن پھر دو کنچے اور گڈا۔ اماں کو اس کی فکر رہتی ہے۔
“اللہ جانے ایہ کڑی کی کرے گی”
وقت کا پہیہ آگے کی طرف گھومتا ہے۔ ہمارا گڈا پیچھے کیوں رہے۔ معصوم چڑیوں کی کم بختی آئی۔۔ بڑے بھائی صادق شاہ کی چھرے والی بندوق سے اپنا نشانہ پختہ کرکے شکار کرنا شروع کر دیتی ہے۔
پہیے سے یاد آیا۔ اس کے ابا سائیکل ڈیلر ہیں۔وہاں سے سائیکل لیکر نکلتی۔ اور ساتھ سب ملازمین کو تڑی دے کر آتی کہ ابا کو نہ بتانا۔ اور کافی دیر بعد جب ابا کو سمجھ آتی کہ ایک نئی سائیکل غائب ہے تو وہ کہتے گڈا آیا ہوگا۔
پتہ ہی نہیں چلا گڈا گیارہ سال کی ہو جاتی ہے۔ اور عمر کا پہیہ مزید تیزی سے گھومنے لگتا ہے۔ لیکن ہما کے اندر کا مولا جٹ اپنی جگہ چٹان کی طرح ایستادہ رہا۔
دونوں بہنیں ساتھ ساتھ بازار سے گزر رہی ہیں۔ ایک بدقسمت شاہدہ آپی کو اپنی بائیک سے ٹکر دے مارتا ہے۔ آپی گر جاتی ہیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ وہ ایک دم معذرت کر لیتا۔ وہ سیانا بنا۔ الٹا ان خواتین کو اونچا اونچا بول کر دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہما اسے سمجھاتی ہے۔ لیکن اس کی تو مت ہی ماری ہوئی ہے۔ مزید شیر ہو گیا۔ ہما تو خاموش ہو گئی۔ لیکن اس کے اندر کا مولا جٹ چیخ اٹھتا ہے۔
“الو کے پٹھے۔ تیری۔۔۔۔۔۔تیری۔۔۔۔۔۔”
قریب ہی ایک حلوائی بڑے چھلنے کے ساتھ تیل کی کڑہائی سے گرم گرم لڈو نکال رہا ہے۔ ہماری مولا جٹ وہی چھلنا لیتی ہے اور سیدھا اس بدقست کی پیٹھ پر جما دیتی ہے۔ اب آگے آگے مضروب ہے اور پیچھے پیچھے چھلنا بدست مولاجٹ۔
یہ تو ایک رخ ہے۔ ہما شاہ کی شخصیت کے بے شمار رخ ہیں۔ جاتے جاتے چند ایک پر سرسری نگاہ ڈال لیتے ہیں۔ چونکہ اس کا اپنا مزاج بے ترتیب رہتا ہے۔ ہم بھی کسی تکلف کی پروا نہیں کرتے۔ بڑی بہن شاعرہ ہے۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ تو رنگ پکڑتا ہے۔ اس نے بھی شاعری کرنا ضروری سمجھا۔ پھر ایسے آوارہ اور لوفر افراد کا مشغلہ شاعری سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔ جیسی بچپن میں جی بھر کے آوارگی کی۔ شاعری بھی اسی حساب سے وافر کر رہی ہے۔ ایک ہی نشست میں دس دس غزلیں کہنا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ غلطی سے اگر میں کسی نئی زمین پر مشورہ لے لوں تو سمجھو پانچ منٹ میں دس بارہ شعر اس نے ٹھوک دینے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اس کی اس عادت سے بھرپور فوائد حاصل کیے۔ ایک آدھ کچا پکا سا اسے مصرع سنا دیا۔ اور بدلے میں اس زمین سے ملتی جلتی پانچ سات غزلیں اینٹھ لیں۔ بے وقوفی کی حد تک پرخلوص ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی خیرات خوروں کے اب تک کئی شعری مجموعے آ چکے ہیں۔ اپنی سینکڑوں غزلیں یہ اپنے ہی ہاتھوں ضائع کر چکی ہے۔ ایک مخصوص رو میں رہتی ہے۔ اسے اندازہ ہی نہیں کیسے کیسے نشتر شعر اس نے کہہ رکھے ہیں۔ اس کی اس بے نیازی اور پختہ کاری سے کچھ لوگ اپنی مرضی کا مطلب نکالنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ اس میں بہت سارے اندرون اور بیرون ملک کے سید اور غیر سید، معروف اور غیر معروف مشاہیر شامل ہیں۔ ہما شاہ نے اس کارِ خیر کو میرے سپرد کیا ہوا ہے۔ ہر ایک کے ملفوظات میرے پاس فوٹو شاٹس کی صورت میں محفوظ ہیں۔ محبت اور نفرت دونوں جذبوں میں شدت پسند ہے۔ اس کا عکس اس کی شاعری پر بھی بہت گہرا ہے۔ اس کا شعر اس کے وجود سے الگ ہونے والی کوئی موج ہے۔
جس پر کیا اندھا اعتبار کیا۔ تاکہ بعد میں ارمان نہ رہے۔ کسی بات سے سبق حاصل کرنا ہے تو مکمل حاصل کرنا ہے۔ اس کے لئے بڑی محنت، تحقیق اور لگن سے مواقع پیدا کرے گی۔ کسی بھروسے کے طفیل لاکھوں کا نقصان اٹھانے پر یہ بڑی خوش اور مطمئن ہے۔ دنیاوی اور اخروی فوائد کی ایک لمبی چوڑی لسٹ میرے ہاتھ پر رکھ دی۔ میری اتنی ہی فکر تھی تو یہ مال میرے ہاتھ پر رکھتیں۔ اس کی اور اپنی ساری غیر مطبوعہ کتابیں ایک ہی ہلے میں چھپوا لیتا۔ دو تین بڑے شہروں میں ان کی پرتکلف رونمائی ہو جاتی۔ تین چار اخبارات میں کالم چھپ جاتے۔ لیکن اپنی اتنی قسمت کہاں۔ ایسے مواقع پر بات کرنے کی سعیِ ناکام کا بس ایک ہی حاصل ہے۔ اپنا فلسفہ بگھارنا شروع کر دیتی ہے۔ اگر تیس جملے بیان کرتی ہے تو دس جملے ایک جملہ کی تکرار ہوتے ہیں۔
“میں نے کہا۔”
ایک بار کراچی سے راولپنڈی جا رہا تھا حسبِ معمول گاڑی قدرے لیٹ تھی اس سے آدھا گھنٹہ بات ہوئی۔ سارے رستہ ریل کی پٹڑیوں سے ایک ہی آواز سنائی دیتی رہی
“میں نے کہا۔ میں نے کہا۔ میں نے کہا۔۔۔۔۔۔۔”
           تلاشِ بسیار کے بعد بھی ہما شاہ اگر اپنے گھر میں، سکول میں، کسی سہیلی کے پاس، سہیل کے ہاں یا کہیں بھی نہ ملے تو فوراً بہاولپور کی ویگن میں بیٹھیں۔ کسی ہسپتال میں داخل ہوگی۔ اور اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر فیس بک پر اس کا ہونا یقینی ہے۔ کسی کی پوسٹ پر مولا جٹ بنی گنڈاسا لہرا رہی ہوگی۔ دس دس چڑی ماروں کو ایک ہی وار میں چاروں شانے چت کر رہی ہو گی۔ ایسے کسی دنگل میں جب خود بھی لہو لہان اور نڈھال ہو جاتی ہے مجھے آواز دیتی ہے کہ ڈانگ لے کر پہنچو۔ میں پہنچ تو جاتا ہوں لیکن ہاتھوں میں پکڑی ڈانگ کی بہ نسبت اپنی ٹانگوں پر دھیان زیادہ مرکوز ہوتا ہے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ رجعتِ قہقہری کے لئے ڈانگ کی نہیں ٹانگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ پہلے پہل تو ایک گروپ کو باقاعدہ بطور اکھاڑا استعمال کرتی رہی ہے۔ ہر ہفتہ ایک پہلوان نما شاعر کا اوپن چیلنج انٹرویو ہوتا۔ اس کے ساتھ ہی باقی سب بھی اپنے ڈوہلے دکھاتے اکھاڑے میں کود پڑتے۔ سب ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں جٹ جاتے۔ آخر میں سب اپنی اپنی جیت کا خود ہی اعلان کرکے اکھاڑے سے باہر آ جاتے۔
پچھلے مہینے مجھے کال کرتی ہے۔
“صبح ہاسپٹل جاؤں گی۔ میرا آپریشن ہے۔”
“یہ کیسے ممکن ہے۔ تمہارا بی پی کبھی دیوار پھلانگنے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی نڈھال ہو کر زمین پر لیٹ جاتا ہے۔ ایچ بی پانچ اور چھ کے بیچ لٹکا ہوا ہے۔ ابھی ضرورت نہیں۔”
ہفتہ پورا شش و پنج میں گزر جاتا ہے۔ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر مناتی۔ ہونی نے ہو کر رہنا ہوتا ہے۔ ہما آپریشن تھیٹر پہنچ گئی۔ ہنر مندوں نے اپنے حصے کا کام مکمل کیا۔ باقی اللہ پہ چھوڑ دیا۔ اللہ کی اللہ جانے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ سامنے سکرین پر بننے والا گراف ویسا ہے جیسا ہونا چاہیے۔ بیپ۔۔۔بیپ۔۔۔بیپ
ہر بیپ کی لمبائی اور اس کا دوسری بیپ سے وقفہ طے شدہ حدود میں ہے۔
اچانک سب کچھ درہم برہم ہو جاتا ہے۔ بیپ بیپ نے اپنا ردہم چھوڑ دیا گراف سمٹ کے ایک لائن بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر طوبٰی نے اپنی آنکھیں بند کرکے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر لی۔ سب سکتے میں آ گئے۔
اور پھر سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔
رات کے پچھلے پہر وٹس اپ پر مجھے میسیج ملتا ہے۔
“لالہ اب ٹھیک ہے۔”
میری سولی سے نیچے اتر آتا ہوں۔
شاہ جی مجھے پتہ ہے تم بہت بے شرم ہو۔ تمہیں کچھ نہیں ہونا۔ اپنی ان حرکتوں سے باز آ جاؤ۔ میں بلڈ پریشر کا مریض ہوں۔ میں مرنا نہیں چاہتا۔ مجھے ابھی بہت کام کرنے ہیں۔

You might also like
  1. ہما شاہ says

    واااہ

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post