اہل ذوق اور چشم بینا کے لیے۔۔۔۔ کچھ پیچیدہ باتیں : تابندہ سراج

کچھ ڈر ، کچھ وہم ،کچھ انجان پن اور کچھ مایوسی مل کر، کبھی کبھار زندگی کی چھلانگوں کو آزمائش بنا دیتے ہیں۔ بیماری اور موت کے بارے میں میرا نظریہ الگ تو نہیں ہے، پر میرے خاندان والوں کو عجیب ضرور لگتا ہے۔ مجھے موت کا نام لینے سے ڈر نہیں لگتا، ہاں اس بات سے ضرور ڈرتی ہوں کہ لے کر کیا جانا ہے اور اکٹھا کیا کیا، پھر مرنے کے بعد کیا ہوگا۔۔۔میں اپنوں کی موت کا تصور کرسکتی ہوں ، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مجھے ان سے محبت نہیں یا خدانخواستہ میں یہ چاہتی ہوں۔۔۔ لیکن میں یہ بات سمجھا نہیں سکتی، کہ یہ احساس مجھے رشتوں اور زندگی کے تعلق کی مضبوطی دیتا ہے۔اگرچہ کئی لوگ اس کو بدشگونی تصور کرتے ہیں۔۔۔ میں دنیا سے رخصت ہونے والے اپنے پیاروں کو بھلا نہیں پاتی مگر ان کے دوبارہ لوٹ آنے کی خواہش بھی نہیں کرتی۔۔۔بہت سے لوگوں کی طرح موت میرے نزدیک زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ موت کا نام نہ لینے سے بھی وہ آکر ہی رہتی ہے ۔۔۔ بیمار ہونا مجھے بہت ناپسند ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں بیماری کا جلد اور زیادہ شکار ہو جاتی ہوں۔۔۔ بیماری کے دوران میں زیادہ صاف رہنے کی کوشش کرتی ہوں، شوخ کپڑے پہننا، بال سنوارے رکھنا،خوش بو لگانا اور کاجل کی مقدار میں مزید اضافہ کردینا۔۔۔ اگرچہ اس سب ایکٹنگ کے باوجود چہرہ سب بتا دیتا ہے۔۔۔لیکن بیماری میں بھی خود کو اچھا لگنا مجھے اچھا لگتا ہے۔۔۔۔ان سب باتوں سے میں بالکل بھی بہادر اور سمجھ دار ہونے کا تاثر نہیں دے رہی بلکہ شاید اکھڑ اور سخت مزاج ۔۔۔ میں بیماری میں ناز اٹھوانے اور اس کا اظہار کرنے کو اپنا تانیثی حق گردانتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ آہیں بھرنا ایک بیمار خاتون کو ہی زیب دیتا ہے۔ عام حالات میں، میں multi tasking (ایک وقت میں کئی کام کرنا) ہوں۔ اکثر و بیشتر ہاتھ ،پیر ،زبان اور ذہن ایک ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔ ایسی عادت مجھے جلد تھکا بھی دیتی ہے لیکن اپنے حواس کا بجا اور جابجا استعمال میرے نزدیک صلاحیت ہے۔ اس لیے بیماری میں فراغت زیادہ میسر ہونے کے باعث، تخلیقی و تخریبی مشاغل میں کہیں زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔۔۔۔

تو بس ایسے ہی کچھ اپنے بارے میں کہنا تھا۔۔۔کہہ دیا۔۔۔ اب آپ بھگتیں ۔

You might also like
Loading...