محبتِ الٰہی : قرۃ العین جاوید

 

کیا اللّہ مجھ سے محبت کرتا ہے؟

یہ سوال اکثر میرے زہن میں گردش کرتا۔۔۔پھر ایک دن مجھے خیال آیا کہ میرا رب جن بندوں کو زیادہ چاہتا ہے۔
ان کے بارے میں تو اس نے آئتیں اتاری ہیں سو میں قرآن مجید کھول کر بیٹھ گئی۔
میں نے ڈھونڈا تو پہلی آیت ملی “وہ متقین” سے محبت کرتا ہے۔
مجھے ملال ہوا کہ مجھ میں تو ذرا سا بھی تقوٰی نہیں۔
پھر میں نے آگے پڑھا کہ وہ “صابرین “کو محبوب رکھتا ہے ۔
مجھے اپنا بے صبرا ہونے پر شدید افسوس ہوا۔
مزید آگے بڑھی تو جانا اللّہ مجاہدین یعنی کوشش کرنے والے سے محبت کرتا ہے مجھے احساس ہوا کہ میں تو بہت کم حوصلے والی لڑکی ہوں ۔
پھر پڑھا کہ وہ احسان یعنی نیک اعمال کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مگر میں اس سے بھی بہت دور رہی ہوں۔
میں نے اپنی تلاش ترک کرنے کا فیصلہ کیا اس ڈر سے کہ اب میرے پاس ایسا کچھ بھی نہیں جس کی وجہ سے اللّہ مجھ سے محبت کرے۔۔۔میں نے اپنے اعمال سب آلودہ فتور اور گناہوں سے بھرے پائے۔
پھر میں مصحف بند کرنے لگی کہ اچانک
میری نظر ۔۔۔۔۔۔۔۔ “”ان اللّہ یحب التوابین “”
پر پڑی
(بے شک اللّہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے)
تو میں نے اپنا مقام پا لیا.
جیسے ایک بچے کو بہت چیخ و پکار کے بعد ماں ملے نا۔۔۔اور بچہ بھی ہچکیاں لیتے ہوئے پوری شدت کے ساتھ ماں کے سینے سے یوں لگ جائے کہ جیسے برسوں کی جدائی تھی اور اب ماں سے کبھی دور نہیں جانا ..
بالکل ویسے ہی اللہ جی آپکی محبت اور آپکی قربت میرے لیے سب سے عزیز ہے .. دل کرتا ہے سب کچھ چھوڑ کر آپکے آغوش میں آکر یوں سمٹ جاؤں کہ جاں کو قرار آجائے
وہ محبت وہ ایک سکون وہ الگ سی قربت کا احساس جس میں،میں اپنا آپ بھول کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ بدلتے موسموں کی سیر میں کھکھلاتے اور مرجھاتے پھولوں کو دیکھتی ہوں
ہواؤں میں اڑتے اور چہچہاتے پرندے جیسے مجھے اپنی منزل کے راہی لگتے ہیں .. مجھے کچھ بھی برا نہیں لگتا .. یوں لگتا ہے جیسے میری سانسوں سے قریب بادلوں میں اس ہوا میں مجھے ہر جگہ آپ کی قربت کا لمس ملتا ہے سب اچھا لگنے لگتا ہے
میرے لیے زندگی صرف یہی تو ہے
آپ ایک لمحے کے لیے بھی دور ہوں تو … یوں لگتا جیسے سانسوں کی آنکھ مچولی شروع ہوچکی ہو ..
جیسے بہار میں بھی دل مرجھا سا گیا ہو ..
جیسے چاندنی کے باوجود مجھے اپنا آنگن سُونا اور تاریک لگے
پہلے یہ تھا کہ اس زندگی سے کوئی راہِ فرار ہی نہیں ملتی تھی مگر اب ..
میرا آپ کے علاوہ اور کہیں دل ہی نہیں لگتا میرے اللہ..
مایوسی دل میں جگہ پکڑنے لگی تھی کہ اچانک نظروں سے قرآن کی ایک آیت گزری
“ان اللہ علی کل شیء قدیر”
“بےشک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے”
صرف قادر ہی نہیں، “پوری طرح قادر” ہے!
ہاں وہ میرا تو دل کی ان کہی مرادیں پوری کرتا ہے۔
مشکل یا نا ممکن ہماری ڈکشنری کے الفاظ ہیں، وہ کائنات کا رب تو معجزات پر قدرت رکھتا ہے۔
جب معاملات سارے The Best of Planners کے سپرد کر دئیے ہیں، تو فکر کیسی؟
رنج کیسا؟ ملال کیسا؟
ہم میں سے اکثر یہی کرتے ہیں ناہم چاہتے ہیں کہ ہماری دعائیں فوری قبول ہوں-
ہم ہمیشہ جلدبازی سے کام لیتے ہیں اور جلد ہی مایوس بھی ہوجاتے ہیں –
ہم ہر معاملے میں اتنے جلد باز کیوں ہیں آخر ؟؟

دعا مومن کا ہتھیار ہے
اور مومن کو چاہیے کہ
وہ دعائیں کرے اور پھر
اللہ پاک جی پر یقین رکھتے ہوۓ
اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کا انتظار کرے کیوں کہ مومن جلد بازی کرنے والا نہیں ہوتا اور نہ ہی مایوس ہوتا ہے
وہ تو اپنے رب کی حکمت سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اللہ جی کی رضا میں راضی رہنے والا ہوتا ہے.
کچھ صلے اس جہان کے لیے نہیں ہوتےجب اِس بات کی سمجھ آ جائے تو خود بخود صبر آ جاتا ہے.
تم چاہتے ہو خدا تمہاری مدد کرے اور تمہیں وہ پریشانی کے دلدل سے نکال دے تو تمہیں اس پر توکّل کرنا ہوگا،جیسا
حضرت موسیٰ ؑ نے سمندر میں کیا ،
حضرت یونس ؑ نے مچھلی کے پیٹ میں کیا ،
حضرت ابراھیم ؑ نے حضرت اسمٰعیل ؑ کی گردن پر چھری رکھتے ہوے کیا
اور حضرت محمّد ؐ نے بیٹوں کی وفات پر کیا ۔
خدا نے وعدہ کیا ہے کے وہ تمہارے لئے انجام کو آغاز سے بہتر بنائےگا مگر اس کے لئے تمہیں آغاز میں اپنے حصے کی آزمائش سے گزرنا ہوگا – صبر کرنا ہوگا اور یقین کرنا ہوگا ۔۔
کیوں کہ
زم زم ایڑہیاں رگڑنے سے ملتا ہے

میں جانتی ہوں تمہارا دل دکھتا ہے تم سب کے لیے اچھا سوچتی چھا کرتی ہو اور بدلے میں تمہارے ہاتھ جھوٹی تعریفیں بھی نہیں آتیں
لوگوں کے لیے جیو گی تو نہ سانس آئے گی نا سکون
یوں ہی سرابوں میں بھٹکتے بھٹکتے تھک جاؤ گی اور حقیقت کا سرا ہاتھ نا آنے پائے گا
سنو.۔۔!
تمہیں تمہارے مسئلوں کا آسان حل بتاؤں ..؟؟
ساتوں آسمان پیدا کرنے والا میرا اور تمہارا رب ..
وہ جو عرش عظیم کا مالک ہے اس سے جوڑ لو
وہ تمہارے اس نازک دل اور کمزور جسم کو لوگوں کے ہاتھوں پسنے نہیں دے گا
تم گرنے لگو گی تو تھام لے گا
رونے لگو گی محبت بھرا ہاتھ بڑھا کر چپ کروا لے گا
ڈر جاوں گی تو اپنی آگوش میں لاکر پرسکون کردے گا
تمہیں وہ سب دے گا
تمہارے دل پہ حاوی لوگوں کی چاہتوں کو ہٹا کر اپنی محبت کا بیج بودے گا
پھر تم اسکے لیے خاص ہوجاؤگی
مگر قدم تمہیں بڑھانا ہے یقین مانو وہ ہاتھ پکڑے گا٬٬
صبح اٹھتے ہی مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھو گی تو اس کی چاہت بھری نگاہوں کا حصار خود پہ محسوس کرو گی
لوگوں سے بےنیازی پاکر جب ہر کام اس کے لیے کرو گی
تو کبھی بھی دل لوگوں کی باتوں کی طرف نہیں جائے گا .. اور نہ ہی تم یہ دیکھو گی کون تمہاری نیکی کا بدلہ دے رہا اور کون نہیں ٬٬
سنو تم ایسا کرو گی نا تو تم محسنین کی صفت میں آجاؤ گی
جانتی ہو محسن کون ہوتا ہے..؟
وہ جو ہر کام کو اس کی خوب صورتی سے احسن طریقے سے انجام دے حق سے بڑھ کر ادا کرے انصاف کی تمنا کیے بغیر صرف اللہ کی رضا کے لیے ٬٬
اور جانتی ہو .. اس کا اجر کیا ہے ..؟
اللہ جی قرآن میں کہتےہیں واللہ یحب المحسنین
اور اللہ محسنین سے محبت کرتا ہے
تو کیا اس عرش عظیم کے مالک کی محبت تمہاری زندگی کے لیے کافی نہ ہوگی ..
“یقین جانو اللّٰه کا وعدہ سچا ہے، پس دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز نہ دھوکے میں ڈالے”
جب ہم اپنی ساری کوششیں لوگوں کو راضی کرنے میں لگا دیتے ہیں..
تو دنیا اور آخرت میں خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں..
پھر نہ تو اللّٰه راضی ہوتا ہے اور نہ ہی لوگ…
لیکن جب ہم لوگوں سے بےنیاز ہو کر، اپنی کوششیں اللّٰه کو راضی کرنے کے لئے لگاتے ہیں، تو لوگ خود بخود ہم سے راضی ہونے لگتے ہیں..
بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نیتوں اور کوششوں کا رخ درست کر لیں..
جب میرا دل کسی ایسے کام کے لیے مچلتا ہے جو میرے رب ️ کو پسند نہیں تو میں اپنے رب سے دعا کرتی ہوں۔۔

اے میرے رب ️میں آپ کی نافرمانی نہیں کرنا چاہتی۔۔
میں آپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی میری خواہش ایک عظیم منزل ہے۔۔

مجھے ان جنتیوں میں شامل ہونا ہے جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے، مجھے ان جنتیوں میں شامل ہونا ہے جو میرے محبوب محمد مصطفیٰ صلہ اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ سے ملیں گے، مجھے ان جنتیوں میں داخل ہونا ہے جو بنا پردے کے آپ کا دیدار کریں گے۔۔

لیکن میں بہت کمزور ہوں، عاجز اور بے بس،
مجھے ہمت دے، مجھے قوت دے، مجھے قوت گویائ دیے مجھے بچا لے مجھ پر رحم فرما دیے یارب!!
اور جب اللہ تعالیٰ اس کام سے میرے دل میں بے رغبتی پیدا کردیتے ہیں تو شکر کے آنسوؤں کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔

واللہ مجھے اس بات سے زیادہ کوئی بات خوشی نہیں دیتی کہ میرے رب ️ نے مجھے اس کام سے بچا لیا جو اس کو پسند نہیں۔۔۔

باقی دنیا ومافیا سب عارضی ہے میرے لئے اس میں حقیقی خوشی کے لائق کچھ نہیں. سب وقتی اور عارضی خوشیاں ہیں۔۔

جب ہم یہ کہہ دیتے ہیں ناں کہ اللہ اپنے تمام معاملات تیرے سپرد کرتے ہیں تو پھر وسوسے کا شکار نہیں ہوتے۔ خلوص دل سے دعائیں مانگیں اور مانگتے جائیں، اس یقین کے ساتھ کہ میرا رب سن رہا ہے

قبولیت دعا میں تاخیر کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے کسی گناہ کی سزا مل رہی ہے یہ وسوسہ ہے جو شیطان ہمارے دل میں ڈالتا ہے اور اس کا کام مایوس کرنا ہے

اللہ دراصل ہمیں آزماتا ہے کہ میرا بندہ مجھ پہ کتنا بھروسہ رکھتا ہے تو بس اپنا دل اس رب کی طرف متوجہ رکھیں اور اس کی رحمتوں کے منتظر رہیں، اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔
بعض دفعہ اللہ پاک آپ کو آپ کی سب سے پسندیدہ چیزوں اور لوگوں سے دور کر دیا کرتا ہے۔۔مقصد آپ کا دل دکھانا نہیں ہوتا۔۔دراصل آپ کا اس رب کے قریب ہونا مقصود ہوتا ہے۔۔۔ اگر کہیں بھی محسوس ہو کہ اکیلے ہو تو مت بھولنا کہ آپ کم از کم اکیلے نہیں ہو سکتے۔۔اللہ پاک کبھی بھی کسی کو اکیلا نہیں کرتا۔۔۔اس کا نام ذرا دل سے لو۔۔دل کی گہرائیوں سے پکارو اسے۔۔۔آپ کی ماں ایک پکار پر اتنا تڑپتی ہے تو وہ کتنا پاس آتا ہوگا۔۔۔کبھی امید نہیں کھونی، کبھی اداس نہیں ہونا کیونکہ وہ کبھی امید توڑتا نہیں ہے۔۔
وہدلوںکوجوڑنےوالاہے وہنوراعلینورکردیاکرتاہے.
‎خُدا کے نزدیک جس انسان کی جتنی قدرو منزلت ہوتی ہے اُس کا امتحــان اُتنا ہی بڑا لیا جاتا ہے
بندہ جیسے جیسے ٹھوکریں کھاتا جاتا ہے، خدا سے اُتنا ہی قریب ہوتا جاتا ہےـ
کیا تم نے کبھی اللّٰہ ﷻ کو دیکھا ہے ؟
نہیں دیکھا نا۔۔۔مگر میں نے اسے محسوس کیا ہے ۔۔۔
کیسے ؟
کہاں ؟
کب ؟
میں نے اللّٰہﷻ کو محسوس کیا ہے چمکتی ہوئی
آنکھوں میں یقیں بھروسہ ، اعتماد کے ٹھاٹھیں مارتے
سمندر میں ۔۔
میں نے محسوس کیا ہے نور سے منور چہروں میں ۔
وہ نور کا ہالہ چہرے “جنہیں دیکھ کر رب یاد آ جاتا ہے ”

میں نے سنا ہے اسے ان باتوں میں جو سکون سے تراشیدہ ہوں۔
میں نے محسوس کیا ہے تشہد میں “اشهدان لأ إله إلا الله وحده لا شريك له” پہ ہلتے ہوے لب اور اٹھتی ہوئی شہادت کہ انگلی میں۔۔۔

میں نے بھوکے کا پیٹ بھرنے والے کی آنکھوں میں
رب العالمین کو محسوس کیا ہے ۔۔

کہ جب میں نے کہا
“گناہ گار” ہوں !
جواب آیا میں تو “غَفَّارُ” ہوں ۔

جب کہا میں نے عیبوں میں گرفتار ہوں !
تو وہ فرما اٹھا میں تو “ستار” ہوں
میں دنیا کی محبتوں سے اکتا گئی ہوں
تو وہ فرمانے لگا میں تو “وَدُودُ” ہوں

میں راستے سے بھٹک گئی ہوں مولا
جواب آیا میں هَادِي و رَشِيد ہوں ۔
پھر میں ہر دکھ ، درد کو سپردِ خدا کر دیا
ہر بات ختم ہو جاتی ہے اس بات پر کہ اللہ ساتھ ہے، وہ جانتا ہے، وہ “سب کچھ” جانتا ہے، وہ چھوٹی سے چھوٹی کوشش کو بھی پسند کرتا ہے، وہ ان آنسوؤں کو بھی جانتا ہے جو گرتے نہیں بس سنبھل جاتے ہیں، اور ان آنسوؤں کو بھی جو دل روتا ہے اور کسی اور کو خبر نہیں ہونے دیتا،
میں نے جینا سیکھ لیا
دنیا کے ٹوٹے پھوٹے سہاروں کے بغیر دنیا کی ادھوری داستانوں کے بغیر
لازوال دعووں کے بغیر
اپنے رب کے احسانوں کے ساتھ
اس کے سچے وعدوں کے ساتھ
فضا میں اونچی اڑانوں کے ساتھ
میں نے جینا سیکھ لیا…. میرے اللہ
زندگی تیری عطا تھی
سو تیرے نام کی ہے

سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ عظیم
[8:35 am, 15/07/2020] Dr Younus khayyal:

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post