سفرنامہ “ترکی جو میں نے دیکھا“۔۔۔ ایک جائزہ : ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

سفر نامہ تحریر کرنے کا رجحان دنیا کی ہر زبان میں پایا جاتا ہے جس کی ابتدا زمانہ قدیم میں اس وقت ہوگئی تھی جب انسان نے تحریر کے فن سے آگاہی حاصل کی۔یہ صنفِ ادب اپنے قارئین کو ان خِطّوں اور سر زمینوں کی معاشرت،سماج،سیاست،ثقافت، تہذیب اور تاریخ کے مختلف گوشوں سے باخبر کرتی ہے جہاں عام آدمی کی با آسانی رسائی نہیں ہوپاتی۔چوں کہ انسانی فطرت کا لازمہ ہے کہ وہ دوسروں کی سرگزشت سن کر سر شاری اور بہجت محسوس کرتا ہے،اس لیے جب کوئی سیاح سفر سے لوٹتا ہے تو اس کے ہم وطن اس سے سفر نامہ تحریر کرنے کی ضرور فرمایش کرتے ہیں یوں وہ اپنی یادداشت کے زور پر اس خاص خطے کے بارے میں اپنے تاثرات،تجربات اور احساسات کو مجتمع کرتا ہے اور اپنے سفر کی کہانی قلم بند کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس طرح اب تک ہزاروں سفر نامے تحریر کیے جا چکے ہیں۔محققین کا خیال ہے کہ دنیا کا پہلا سفر نامہ ہیرو ڈوٹس (Hero Dotus)نے تحریر کیا۔چوں کہ اس کے بارے میں معلومات ناپید ہیں اس لیے یونانی سیاح میگس تھینز کے سفر نامے ”سفر نامہ ہند“(INDICA)کو پہلا دریافت شدہ سفر نامہ تسلیم کر لیا گیا ہے جو تین سو قبل مسیح میں لکھا گیا جب یہاں چندر گپت موریہ کی حکومت تھی اور پاٹلی پتراس کا دارالحکومت تھا۔اس سفر نامے میں اس دور کی معلومات، تہذیب وثقافت اور تاریخ اس انداز سے یکجا ہو گئی ہے کہ وہ مستند تاریخ مرتب کرنے کے مصدر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔اردو میں سفر نامہ نگاری کا آغاز یوسف کمبل پوش کے ”عجائباتِ فرنگ“سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد مولوی مسیح الدین، سر سید احمد خان، شبلی نعمانی،محمد حسین آزاد اور مولوی جعفر تھانیسری نے کامیاب سفر نامے رقم کر کے اس صنف کی روایت کو مضبوط کیا۔ بیسویں صدی میں سفر نامے کی طویل روایت ہے جن میں جگن ناتھ آزاد،عبدالماجد دریا بادی اور محمود نظامی سے لے کرگوپی چند نارنگ، بیگم اختر ریاض الدین، مستنصر حسین تارڑ اور رضا علی عابدی تک کئی اہم نام شامل ہیں۔قدیم اور جدید سفر ناموں کا موازنہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پہلے سیاح سفر کرتے تھے اور پھرسفر کے اختتام پر اپنے تاثرات، تجربات اور احساسات کو سفر نامے کا روپ دے دیتے تھے لیکن جدید دور کے سیاح سفر نامہ ترتیب دینے کے مقصد ہی سے سفر کرتے ہیں جس سے ان کی تحریر میں تازگی کا احساس نمایاں ہوا ہے۔ جدید سفر ناموں میں کہانی کا رچاواور افسانوی رنگ ابھرا ہے جس نے بیانیہ سے آمیز ہو کر سفر نامے کی صنف کو تخلیقی سر بلندی عطا کی ہے۔
اردو ادب میں ترکی کے سفر ناموں کی طویل روایت موجود ہے جس میں اہم نام فرخ سہیل گوئیندی کا ہے جن کے سفر نامے ”ترکی ہی ترکی“ نے خاص شہرت حاصل کی۔اس کے علاوہ سلمیٰ اعوان کا”استنبول کہ عالم میں منتخب“،محمد خالد اختر”استنبول کے گنبد“اور”کیا ہم ابھی قونیہ میں ہیں“،فیروز گیلانی ”یارِ ترکی“،حسنین نازش ”قاردش“،محمد حمزہ فاروقی ”قیدِ مقام سے گزر“،جسٹس خواجہ محمد شریف”زبانِ یارِ من ترکی“،ڈاکٹر اے بی اشرف”ذوقِ دشت نوردی“ ڈاکٹر جعفر حسن مبارک کا”اپنے استنبول میں“اورزاہد منیر عامرکا”دیارش شمس“ وغیرہ زیادہ نمایاں ہیں جنھوں نے ترکی سفر ناموں کی روایت کو مستحکم اور مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ان سفر ناموں میں ایک اہم اضافہ، ڈاکٹراعجاز فاروق اکرم کا سفر نامہ ہے جو مثال پبلشرز، فیصل آباد سے ”ترکی جو میں نے دیکھا“کے عنوان سے2021ء میں شائع ہوا ہے۔
سفر نامہ تحریر کرنا مشکل کام ہے لیکن اس سے بھی مشکل اس میں تخلیقیت کے عُنصر کو شامل کرنا ہے۔اس حوالے سے سفر نامہ نگار میں کئی خوبیوں کا ہونا ضروری ہے۔مثلاً اس کا صاحب اُسلوب ہونے کے ساتھ ساتھ ایسی نظر کا حامل ہونا ضروری ہے جو کسی مصور کو قدرت نے ودیعت کی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ تاریخی شعور، عمرانی و ثقافتی نظر،فطری نظاروں سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت اور اس خاص خطے کے افراد کی، دلوں کی دھڑکن سننے کی بصیرت بھی سفر نامہ نگار کے لیے ضروری ہے۔اسی لیے جب وہ کسی ملک کا دورہ کرتا ہے تو وہ وہاں کے مناظر کی لفظی تصویر کشی،وہاں کی ثقافتی اقدار،ماحولیاتی خصوصیات،افکار و خیالات،توہمات و اساطیراورتیقنات کا ذکر یوں کرتا ہے کہ اس کا سفر نامہ اس ملک کی سماجی، تاریخی، ثقافتی، سیاسی،ماحولیاتی اور موسمیاتی تاریخ کو محفوظ کر لیتا ہے۔ اعجاز فاروق اکرم کے سفر نامے ”ترکی جو میں نے دیکھا“میں مذکورہ خصوصیات کسی حد تک مجتمع ہو گئی ہیں۔ان کا تخلیق کردہ سفر نامہ ادبی فن پارہ بھی ہے اور سیاسی، تاریخی اور ثقافتی عناصر پر مبنی ایک دلچسپ دستاویز بھی۔ان کا سفر نامہ پڑھ کر زندگی کی بو قلمونی اور وسعت کا احساس ہوتا ہے۔زندگی صرف سانس لینے، بھوک مٹانے، افزایش نسل اورآسائشیں اکٹھی کرنے کا نام نہیں بلکہ نئی ثقافتوں، تہذیبوں اور خطوں سے شناسائی حاصل کرنے اوراس کی ذیل میں اپنے وجود کو از سرِ نو دریافت کرنے کا نام بھی ہے۔ ”ترکی جو میں نے دیکھا“میں سفر نامہ نگار نے ترکی کے ثقافتی، سیاسی اور تاریخی حالات کو دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔مثلاً انطالیہ کی بندر گاہ کے حوالے سے ان کے تاثرات ملاحظہ ہوں:
”یہاں کی بندر گاہ فوجی اورتجارتی لحاظ سے ترکی کی اہم بندر گاہ ہے۔رومیوں نے اسی وجہ سے اسے اس خطے میں اپنی داخلہ گاہ بنایا۔اسی کے ذریعے اپنے لشکر اور اس کی رسد کا اہتمام و سامان کیا۔آج بھی یہ تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔کبھی یہ بندر گاہ،سر زمین اور ساحل،توپوں کی گھن گرج،تلواروں کے شور اور بارود کی بو سے جنگ کی آگ بھڑکاتے تھے۔۔۔آج یہ امن،سکون ترقی، جسمانی راحت کا پیغام دیتے اور خوشگوار ہواؤں، معطر فضاؤں اور دل موہ لینے والے سمندری مناظر اور لذیذ کھانوں سے آباد اور مزے لوٹنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں“(ص:۱۰۱)
ایک معیاری اور عمدہ سفر نامہ اپنے تخلیقی بیانیے کی بنیاد پر کامیاب یا ناکام ہوتا ہے لیکن بعض سفر نامہ نگار بیانیے میں تخلیقی جوہر پیدا کرتے کرتے مبالغہ کی حدود کو چھونے لگتے ہیں، جہاں سفر نامہ،سفر نامہ نہیں رہتا بلکہ ادب کی کوئی اور ہی صنف بن جاتا ہے۔بیانیہ میں تخلیقیت پیدا کرتے ہوئے لازمی ہے کہ مبالغہ سے گریز کیا جائے اور معروضیت کے عنصر کو یقینی بنایا جائے۔سفر نامہ نگار اور تاریخ دان کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے معروضیت اگر کہیں موضوعیت کے قریب چلی جائے تو اس پر چھوٹ دی جا سکتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخ دان جن واقعات کو قلم بند کر رہا ہوتا ہے اسے ان کا ذاتی تجربہ نہیں ہوتا لیکن سفر نامہ نگار اپنے ذاتی تجربات، محسوسات اور تاثرات تحریر کر رہا ہوتا ہے جس میں مو ضوعیت کا شامل ہونا قدرتی امر ہے۔اس لیے اس سے فوٹو گرافی کے بجائے مصوری کا تقاضا کر نا درست عمل ہوگا جہاں اس کے تخیل کوکھُل کر کھیلنے کی اجازت ہے۔واقعات کے بیان میں اگر کہانی کا عنصر شامل ہے تو یہ قاری کے لیے مزید دلچسپی کا سامان مہیا کر سکتا ہے۔ مثلاً ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
”مزارِا ایوب کی منور و معطر یادیں اور روح پرور منظر قلب ونظر میں سموئے جب مزار مبارک سے باہر نکلے،تو ہر فکر اور اندیشے اور شرکائے قافلہ کی ناراضی کے ڈراور وقتِ واپسی سے بے نیاز ہو کر اصحاب قبور کے لیے دعائیں کرتے اور تصاویر بناتے بناتے ہم راستا کھو بیٹھے۔اب لگے چھوٹنے پسینے۔جب تلاشِ بسیار کے بعد وہ جگہ نہ ملی جہاں ہماری بسیں ہماری منتظر تھیں اور شرکائے قافلہ ہمیں کوسنے میں مصروف اور منتظمین ہم سے رابطے کی کوشش میں سر گرم۔ہمارے پاس نہ مقامی فون سم تھی نہ انٹر نیٹ کنکشن،لوگوں کو انگریزی نہیں آتی تھی اور ہمیں ترکی۔لہٰذا اپنی منزلِ مراد سے چند قدموں اور دیواروں کے فاصلے کے اندرگلیوں میں ہی بھٹکتے رہے۔“ (ص:۳۶۱)
مذکورہ سفر نامے میں جہاں سفر نامہ نگار نے ذاتی واقعات، تجربات، مشاہدات اور تاثرات کو تخلیقی رنگ میں قاری کے سامنے پیش کیا ہے وہیں ترکی کے تمدنی اور ثقافتی حالات کو خوب صورت پیرائے میں پیش کیا ہے۔موجودہ سماجی، ثقافتی اور تمدنی حالات کا انھوں نے گزشتہ ادوار سے موازنہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔وہ ترکی جو عہدِ عثمانیہ کے دور میں موجود تھا اور وہ ترکی جو کمال اتا ترک کے عہد سے گزرتا ہوآج طیب ایردوان کے دور میں موجود ہے اس میں واضح فرق ہے۔اس موازنے نے ترک قوم کے نفسی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔مزید ان مشابہتوں اور تضادات کو بھی اس سفر نامے میں دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ترک اور پاکستانی قوم میں موجود ہیں:
”زیادہ تر خواتین اور بچیاں بے حجاب نظر آئیں اور اسی حلیے اور لباس و انداز میں۔۔۔چست لباس،کھلے بال اور بے حجاب چہرہ۔البتہ کہیں کہیں اس لباس پر حجاب مگر کھلے چہرے کے منظر بھی دکھائی دئیے۔ایک بچی مکمل عبایا میں بھی نظر آئی، مگر اندرون عبایا وہی لباس جھلک رہا تھا اور کچھ کچھ اس نے چہرہ بھی چھپا رکھا تھا۔ہم سمجھے یہ پاکستانی بچی ہے جو شاید ہمارے ہی
(گروپ کی کسی دوسری بس کی سوار ہے۔۔۔“(ص:97
ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم نے جہاں ترکی تمدن اور رہن سہن میں لباس کو دکھانے کی کوشش کی ہے وہیں ترکی کھانوں اور مشروبات کابیان بھی سفر نامے میں تفصیلاً کیا ہے۔مثلا ”ترکی سیاہ قہوہ“ کا تعارف کراتے ہوئے اسے ترک معاشرت، تہذیب،مجلس اور کھانے پینے کی ہر تقریب کا لازمی جز قرار دیا ہے۔ان کے مشاہدے کے مطابق اِسے سیاہ، میٹھے سمیت یا اس کے بغیر گول شیشے کے گلاس میں پینا، ترک تہذیب کا نشان ہے۔قونیہ میں رومی ٹوپی کے علاوہ دو مشہور چیزوں کا ذکر خاص طو ر پر کرتے ہیں،ایک قیمے والی روٹی جسے مقامی زبان ”ایتلی اکمک“ اور دوسرا پتیسہ جسے ”پشمانیے“ کہا جاتا ہے۔خوب صورت اور دلکش عمارات،وسیع و عریض سڑکوں، پھولوں، درختوں اورسمندروں کے ساحل، گھروں کے طرزِ تعمیر اور ان کے صحنوں میں اگے پودوں،گلیوں،بازاروں،سڑکوں اور دکانوں کی صفائی وغیرہ کا ذکر بڑے خوش کن انداز میں کرتے ہیں۔ پرنسس آئی لینڈ کے جزیرے پر فضائی آلودگی نہ ہونے کے برابر ہے اس کا اظہار انھوں نے کچھ اس انداز سے کیا ہے کہ قاری اپنی چشمِ تخیل سے اس جزیرے پر پہنچ کر ان کا ہم سفر بن جاتا ہے۔اس ضمن میں اقتباس ملاحظہ ہو:
”دھوئیں، پٹرول اور شور سے یکسر پاک اسی پُرسکون ماحول نے شہر کے ہنگاموں اور چکا چوند سے دور سیاحوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔موسم کی دلکشی،ماحول کی لطافت،چہار جانب شفاف پانیوں کی تاحدِ نظر لہروں کے ساتھ،جابجا لہراتے،پھڑ پھڑاتے سرخ ترک پرچموں کے ساتھ جزیروں کے کناروں پر اُڑتے،اترتے،پَر پھیلاتے،چونچیں لڑاتے،اٹھکیلیاں کرتے،سیگل،سمندری مرغابی،سیاحوں کے دل لبھا رہے تھے۔ایک دو نہیں سیکڑوں،آلودگی اور انسانی چیرہ دستیوں سے بالکل محفوظ،فطرت اور قدرت کا ایک دلکش اظہار۔“(ص:۳۳۱)
مذکورہ سفر نامے کے مصنف کی اس سفر نامے میں ایک اہم خوبی جو سامنے آئی ہے وہ ان کا اندازِ تحریر ہے۔وہ تخیل اور اندازِ بیان کے زور پر، وہ سب کچھ دکھانے اور محسوس کرانے کی کوشش کرتے ہیں جو انھوں نے خود سے دیکھا اور محسوس کیاہے۔یہ وہ ہنر ہے جوزبان و بیان پر دسترس کے بغیر نا ممکن ہے۔ان کے اُسلوب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لفظوں کے تخلیقی استعمال سے واقف ہیں۔الفاظ کے پارکھ اور نباض ہونے کی صلاحیت نے انھیں اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ آنکھ کو آئینہ دکھا سکیں۔قاری کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لیے انھوں نے شگفتگی،واقعات کی مناسب ترتیب،شعری لب و لہجے اوراشعار کے بر محل استعمال کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔متن میں اردو اور عربی کے معروف شعرا کے اشعار کو نثرمیں اس انداز سے پیش کیا ہے کہ قاری لطف کشید کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔سفر نامے کے بیشتر عناوین اشعار کے مصرعوں پر رکھے گئے ہیں جو اُن کے اعلاشعری ذوق کے غماز ہیں۔ان شعرا میں اقبال کے اشعار کی نثری شکلیں سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔اس کے علاوہ، میر تقی میر، غالب، شاد لکھنوی،مصطفیٰ زیدی، خواجہ عزیز الحسن مجذوب،فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی کے نام نمایاں ہیں۔متن میں سے چند ایک مثالیں ملاحظہ کریں:
”جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید اس طرح جیے کہ حکمت و تدبر سے ترک سیاست میں داخل ہوئے،ادھر ڈوبے، ادھر نکلے،ادھر ڈوبے ادھر نکلے کے مصداق قدم بڑھاتے ہی گئے۔“(جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں۔۔۔اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے،اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے۔اقبالؔ)
”اگرچہ اس عشق کی دوا تو نہیں کی،مگر پھر بھی مرض بڑھتا گیا“(وصالِ یار سے دونا ہوا عشق۔۔۔مرض بڑھتا گیا،جوں جوں دوا کی۔شاد لکھنوی)
”سو بقول مشتاق احمد یوسفی ہم سیاچن و برف کے گلیشئیر بھی گئے اور اپنے تھر موس میں برف کی ڈلیاں ڈال کر لے گئے،لہٰذا حسن انسان سے نمٹنے کے بجائے تخلیق ِ خدا اور حسنِ جمال پروردگار ہی میں مگن رہے۔“ (اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود۔۔۔حسنِ انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں۔ احمد ندیم قاسمی)
”وائے ناکامی کہ متاعِ کارواں جاتا رہا۔اور اب تو حالت یہ ہے کہ احساسِ زیاں بھی جاتا رہا۔خیال ابھرا، تو ہی ناداں کہ چند ”کرنوں“ پہ قناعت کر گیا“ (وائے ناکامی!متاعِ کارواں جاتا رہا۔۔۔کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا۔علامہ اقبال)
شعروں کو متن میں ضم کرتے ایک جگہ وہ تسامح کا شکار ہوگئے ہیں جہاں انھوں نے بزم اکبر آبادی کے شعر کو غالب سے منسوب کر دیا ہے۔سفرنامے کے صفحہ چوالیس پر وہ لکھتے ہیں ”البتہ جب پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں داخلہ لیا توچاروں طرف ”حسینائیں“۔غالب کے اس مصرعے نے مخمصے میں ڈالے رکھا کہ حسیناؤں کے خطوط سے کیا مراد ہے۔ کاغذ پر لکھے گئے خطوط، یعنی مکتوبات یا خطوط۔۔۔اور اس نے کس پر مرنے کی بات کی تھی۔“(ص؛۴۴) بعض محققین کو تو بزم اکبر آبادی کے شعر ہونے پر بھی اعتراض ہے لیکن اتنا سب کا اتفاق ہے کہ یہ غالب کا شعر نہیں۔
مختصر بات کی جائے تو ”ترکی جو میں نے دیکھا“ایک ایسا سفر نامہ ہے جس میں لمبی چوڑی تحقیق ہے اور نہ واقعات کو رنگین بنانے کے لیے مبالغہ آرائی۔سفر نامہ نگار جن جن شہروں اور راستوں سے گزرا ہے اس نے انھیں عام فہم انداز میں بیان کر دیا ہے۔مذکورہ سفر نامہ ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہیں ہے بلکہ اس کی قرأت کے بعد قاری کے دل میں ترکی کی تہذیب و ثقافت اور تاریخ سے محبت اور خلوص کا جذبہ اجاگر ہوتا ہے جو اسے اس ملک کی سیرو سیاحت پر آمادہ کر لیتا ہے۔واقعات کو روایتی انداز میں بیان نہیں کیا گیاجنھوں نے ترکی کے مقامات کو قاری سے متعارف کرایا ہو بلکہ انھوں نے کیفیاتِ سفر کو بھی بیان کیا ہے جو ان کی تخلیقیت کی واضح دلیل ہے۔مقامات کے تعارف میں زمان و مکاں کو دخل ہوتا ہے لیکن کیفیات اس سے ماورا ہوتی ہیں اور یہ خصوصیت معلومات کی فراوانی سے سفر نامہ نگار کو دور لے جاتی ہیں اور اس کا رشتہ تاریخی دستاویز کے بجائے ادبی فن پارے سے جوڑتی ہیں۔کچھ آپ بیتی، کچھ جگ بیتی،کچھ افسانہ طرازی، کچھ داستان نگاری اور کچھ ذاتی احساسات،جذبات اورتاثرات نے مل جل کر سفر کے باطنی رنگ میں قاری کو رنگنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ کسی حد تک کامیاب ہیں۔ اسے ہم اردو ادب کے کسی بڑے سفر نامے کے سامنے نہیں رکھ سکتے تو اسے کمزورسفر نامہ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ مناظر کا بیان، واقعیت نگاری،کردار نگاری،مکالمات،ملاقاتوں کے احوال،تاریخی واقعات کے تناظر میں موجودہ صورتِ حال کا تجزیہ وغیرہ ایسے پہلو ہیں جن پر بہت کچھ تحریر کیا جا سکتا ہے لیکن طوالت کے خوف سے محض ان کا ذکر کر دیا ہے۔

  1. ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم says

    شکریہ ڈاکٹر عبدالعزیز ملک صاحب آپ کی تحریر نے سفرنامے کو وقعت عطا کی اور ڈاکٹر خیال صاحب نے شائع فرماکر معتبر بنادیا۔۔سلامت رہیئے،شادوآباد رہیئے ۔

    1. ڈاکٹر عبدالعزیز ملک says

      ڈاکٹر صاحب آپ اس کے حقدار تھے آپ نے خوب لکھا اور ڈاکٹر یونس خیال صاحب نے اس کی اشاعت کو یقینی بنا کر اسے وقعت بخشی ۔۔۔۔ دونوں دوست سلامت رہیں

  2. Muhammad umar Munis says

    Mashallah

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post