محمد حامد سراج …ایک نادیدہ دوست کی علم دوستی : ڈاکٹرمحمدالیاس الاعظمی

( خطوط کے آئینے میں)

 

محمد حامد سراج [۱۹۵۸-۲۰۱۹ء] ہمارے عہد کے ایک ممتاز اور منفرد افسانہ نگار تھے۔ اس حوالہ سے انہوں نے اردو کی بڑی خدمت انجام دی۔ ان کے پانچ افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ جن کے نام وقت کی فصیل، برائے فروخت، چوب دار، بخیہ گری اور برادہ ہیں۔ ان مجموعوں سے زیادہ انہیں ان کے خاکہ’’ میّا ‘‘سے شہرت وناموی ملی۔ یہ ماں پر لکھا گیاایک طویل اوربے مثال خاکہ ہے۔ اس میں ان کے قلم نے جادو دکھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بڑی مقبولیت ملی۔اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے اور پھراسے رشید احمد صدیقی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ان کے علاوہ بھی ان کے متعدد ادبی کارنامے ہیں۔ جیسے افسانوں کا انتخاب، مشاہیر کی خودنوشتوں کا انتخاب، بادشاہوں کی آپ بیتیوںکا انتخاب وغیرہ۔ان کے افسانوںکاکلیات مجموعہ کے نام سے شائع ہوگیاہے۔
محمدحامد سراج مرحوم ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۵۸ء کو میاں والی میں پیدا ہوئے۔ خانقاہ سراجیہ انہیں کے آبا و اجداداوربزرگوں کی یادگاراورنشانی ہے۔ آپ انہیں دیکھتے تو پہلی نظر میں وہ افسانہ نگار نہیں پیر معلوم ہوتے اور تھے بھی وہ اصلاً پیر ہی۔ میں نے انہیں دیکھا نہیں، مگر جو تصویریں ان کی دیکھی ہیں وہ بولتی ہیں کہ محمدحامد سراجؒ پیر ہی نہیں پیر میکدہ بھی تھے۔
۱۳؍نومبر ۲۰۱۹ء کو انہوں نے وفات پائی تو بڑا دکھ ہوا۔ وہ صرف ایک اچھے اہل قلم اور معتبرافسانہ نگار تھے، بلکہ ایک بہت ہی پیارے انسان بھی تھے۔ میرے ان سے ۲۰۱۳ء میں تعلقات قائم ہوئے۔ اسی سال انہوں نے اپنے جد امجد کی سوانح ’’ہمارے بابا جی ‘‘ لکھی تھی جس کا ادبی حلقوںمیںبڑاذکرتھا۔ یہ ضخیم سوانح عمری انہوں نے نہایت محنت اور عرق ریزی سے قلم بند کی ہے۔ ان سے میرے تعلقات یوںقائم ہوئے کہ جناب راشد اشرف کراچی نے فیس بک پرایک مجاہد آزادی ظفر حسن ایبک [۱۸۹۵ -۱۹۸۹ء[ کی آپ بیتی’’ خاطرات ‘‘پرایک پوسٹ لکھی۔ اس پرمیری نظر پڑی تو دیکھا کہ اس کی فہرست میں علامہ شبلی نعمانی[۱۸۵۷-۱۹۱۴ء] کی شہرہ آفاق کتب ’’سیرۃ النبی‘‘ اور’’ الفاروق‘‘ کے ترکی تراجم کا ذکر ہے۔شبلیات کے طالب علم کے لئے یہ اطلاع بے حد اہم تھی۔ اس لئے کہ’’ سیرۃ النبی‘‘اور’’الفاروق‘‘ کے بعض ترکی تراجم نظر سے گذرے تھے، لیکن ان کامترجم کوئی اور شخص تھا۔ ظفر حسن ایبک نہ تھے ۔چنانچہ میں نے راشد اشرف صاحب کو لکھا کہ’’ خاطرات‘‘ یا اس کا عکس فراہم کیجئے، مگرشاید ان کی مصروفیات نے ادھر متوجہ ہونے کا موقع نہیں دیااورانہوںنے کوئی جواب نہیںدیا۔ کئی ماہ گذر گئے ۔ میںتقریباً مایوس ہو گیا تھا کہ ۱۵؍ ستمبر ۲۰۱۳ء کومرحوم محمد حامد سراج صاحب کا خط ملا۔
الیاس اعظمی صاحب ۔ السلام علیکم
امید ہے عافیت سے ہوں گے۔ راشد اشرف کی وال پر آپ نے ظفر حسن ایبک کی آپ بیتی کے لئے لکھا ہے۔ ۱۹۹۰ء کے آس پاس سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے شائع کی تھی۔ میں ٹیلیفون کرکے معلوم کروں گا، اگر دستیاب ہوئی تو آپ کے لئے منگوا کر نومبر میں علی گڑھ اپنے دوست غالب نشتر کی بکس کے ساتھ بھجوا دوں گا۔ وہ وہاں سے آپ کو پوسٹ کر دیں گے۔ دعاؤں کی درخواست ہے۔
محمد حامد سراج
میں نے مرحوم محمدحامد سراج کو نہ خط لکھا تھا اور نہ میں ان سے واقف تھا۔انہوں نے خود سے میری طلب اورعلمی جستجو دیکھ کرکتاب فراہم کرنے کافیصلہ کیاتھا۔ دراصل یہی وہ نیکی اور شرافت ہے جو بعض خاندانوںاوربزرگوںکے خانوادوں میں برسوں سے رائج ہے اورتہذیبی رواداری کا حصہ بنی ہوئی ہے ۔
کچھ دنوں کے میں نے انہیں’’خاطرات‘‘کاقصہ یاد دلایا تو انہوںنے یکم دسمبر ۲۰۱۳ء کومجھے لکھا کہ
بھائی السلام علیکم
ظفر حسن ایبک کی آپ بیتی خاطرات دس پندرہ روز میں آپ کو اسکین کرکے PDF میں میل کر رہا ہوں۔ ان شاء اللہ اگر پرنٹ آؤٹ نکال کر جلد بندی کراکے آپ کی خواہش ہو تو وہ بھی مشکل نہیں۔ جیسی آپ کی خواہش ہو۔
بس تھوڑا انتظار الیاس صاحب
کل میں نے جہلم میں ایک بہت بڑے بک شوروم پر رابطہ کیا اور سنگ میل کے ساتھ فیصل آباد، مثال بک پبلشرز پر بھی’’ خاطرات‘‘ کہیں بھی دستیاب نہیں ہے۔ میں اپنا نسخہ اسلام آباد V Prints کے اپنے دوست ملک صفدر صاحب کو بھیج رہا ہوں۔ وہ ہفتہ دس دن میں اسکین کر دیں گے۔ وہ آپ کو ای میل کر دوں گا۔
لیکن پھرشاید یہ ممکن نہ ہوسکااور دو ڈھائی ماہ ان کی طرف سے خاموشی رہی۔ میں نے بھی تقریباً اسے بھلاہی دیا تھا کہ ۱۸؍ مارچ ۲۰۱۴ء کو ان کا میسج ملا:
برادرم!
تلاش سے اللہ مل جاتا ہے۔ یہ تو کتاب تھی۔ … ’’خاطرات‘‘ … جہلم سے ہمارے دوست امر شاہد نے بک کارنر سے ڈھونڈھ نکالی۔ … اپنا ایڈریس بھیجئے۔ اگلے ہفتے علی گڑھ غالب نشتر کی کتابوں کے ساتھ بھیج رہا ہوں۔ وہ علی گڑھ سے آپ کو پوسٹ کر دیں گے۔
اس علم دوستی اوردلچسپی کے لئے میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اوراپنا پتہ بھیج دیا۔ دوسرے دن پھر انہوں نے لکھا کہ
غالب نشتر علی گڑھ یونیورسٹی میں اردو کے لکچرر (؟اسکالر) ہیں۔ وہ اردو افسانے پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ افسانے پر انہیں کتابیں بھجوانا ہیں۔ ساتھ ہی آپ کی کتاب بھی بھیج رہا ہوں۔ یہاں سے ڈاک خرچ ہوش ربا ہے۔ دو کلو کا پیکٹ ہویا پانچ کلو وزن ہو … خرچ ایک ہی پڑتا ہے۔ سو بھائی کوشش ہوتی ہے کہ جب کتابیں اتنی جمع ہو جائیں کہ وزن پانچ کلو کے پیکٹ کا ہوجائے تو پھر بھجوانا آسان ہوجاتا ہے۔
پھر۳؍ اپریل ۲۰۱۴ء کو لکھا کہ
آپ کو علی گڑھ غالب نشتر کے پتہ پر ’’خاطرات‘‘ پوسٹ کر دی ہے۔ دل مطمئن ہو گیا ہے۔
ہمارے کرم فرمااورنامورمحقق ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی صاحب نے اسی دوران ’’مقالات عبدالقادر‘‘ منگانے کی اس حقیرسے فرمائش کی۔ خدا جانے انہوں نے میرا کیوںانتخاب کیا۔ حالانکہ وہ خودوہاں کے متعدد اشخاص سے بخوبی واقف تھے۔ بہرحال میں نے محمدحامد سراج مرحوم کو اس کے لئے بھی لکھ دیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ:
بھائی الیاس اعظمی سلام و رحمت
آپ کے لئے تحفہ خاطرات دس روز ہوئے علی گڑھ غالب نشتر کے پاس پہنچ چکی ہے۔ کیا آپ تک پہنچی۔ جلد خبر کیجئے کہ دل کو اطمینان ہو۔ سر شیخ عبدالقادر کے مجموعہ مضامن ’’مقالات عبدالقادر‘‘ کا پتہ کرتا ہوں۔
چندروزبعد’’خاطرات‘‘مجھے مل گئی ،مگر مجھ سے غلطی ہوئی اور وہ غلطی جو عموماً نہیں ہوتی، یعنی کتاب ملنے کی رسیدبروقت نہ دے سکا، مگرجب میںنے انہیںمطلع کیاتو انہوں نے میری اس کوتاہی کی طرف توجہ نہ دے کر ایک مختصر مگربڑا مومنانہ خط لکھا :
مکرمی الیاس اعظمی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
میرے لئے یہ تسلی اور خوشی کی بات ہے کہ میرے اللہ نے مجھے وعدہ نبھانے کی توفیق عطا کی اور کتاب بحفاظت آپ تک پہنچ گئی۔ … اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
۲۸؍اپریل ۲۰۱۴ء کو میں نے شکریہ ادا کیا۔ اسی وقت ان کا ایک اور میسج ملا کہ آپ اپنا ای میل بھیج دیں ۔میں آپ کو سافٹ کاپی بھیج دیتا ہوں۔ شاید وہ اپنی کتابیں بھیجنے والے تھے۔ میں نے انہیں اپنا ای میل بھیج دیا، لیکن اس کے بعد میںشدید بیمار ہوا۔حتیٰ کہ کچھ ہوش و حواس نہ رہا۔ مہینوںعلاج و معالجہ کے بعد معلوم ہوا کہ دل کی نسیںبندہوگئی ہیں اور آپریشن لازمی ہے۔چنانچہ ۴؍جولائی ۲۰۱۶ء کوممبئی کے ایک ہسپتال میںکامیاب آپریشن ہوا ۔اس کے بعد بہت دنوں تک میں بالکل بیکار عضو معطل رہا۔ نہ کسی سے خط و کتابت اور لکھنے پڑھنے کی سدھ بدھ۔ کچھ دنوں بعد اللہ نے توفیق بخشی اور میں پھر سے آہستہ آہستہ اپنے معمولات کی طرف بڑھنے لگا۔ میسنجر ریکارڈ کے مطابق میں نے۲؍ ستمبر ۲۰۱۷ء کو ایک طویل وقفے کے بعدمحمد حامد سراج صاحب کو عید قرباں کی مبارک باد دی ہے۔ ادھر سے خاموشی رہی۔ ۱۹؍ نومبر ۲۰۱۷ء کو میں نے پھر انہیں لکھا کہ
امید کہ مزاج بخیر ہوگا۔ میں نے آپ سے دستخط شدہ’’ میا‘‘ کی فرمائش کی تھی۔ اس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ کو یہاں سے جن کتابوں کی ضرورت ہو ان کی فہرست بھیج دیں میں آپ کووہ کتابیں بھیج دیتا ہوں اور آپ مجھے ’’میا‘‘ بھیج دیں۔
اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ
جنوری فروری (۲۰۱۸ء) میں بھائی جہلم بک کارنر نے کچھ کتابیں بھجوانا ہیں ہندوستان۔’’ میا‘‘ وہ یاد سے آپ کو بھیج دیں گے۔ مجھے صرف آپ کی دعا اور محبت چاہئے۔ آپ ایسے صاحب علم سے رابطے میں رہنا میرے لئے اللہ کا انعام اور اعزاز ہے۔‘‘
میں اپنی ذات اورحیثیت سے بخوبی واقف ہوں۔ ان کے آخری جملے سے شرم سار ہوا اور اللہ تعالی سے دعا کی وہ لوگوںکابھرم رکھ لے۔ اور آج تک میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ صرف میرے رب کا کرم ہے کہ بات ابتک بنی ہوئی ہے۔ ورنہ میں کیا اور میری بساط کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ بچپن سے آج تک بھرم ہی باقی رکھنے میں مصروف ہوں۔
’’خاطرات‘‘ ملی توبے حدخوشی ہوئی۔ اس میںعلامہ شبلی کی ’’سیرۃالنبی‘‘ اور’’ الفاروق‘‘ کے ترکی تراجم کی تفصیل مل گئی۔معلوم ہواکہ ظفرحسن ایبک نے مذکورہ کتابوںکااولاً انگریزی میں ترجمہ کیااورپھرترک اسکالرمحمدعمررضاکحالہ نے انہیںترکی کاجامہ پہنایا اور نہایت اہتمام سے شائع کرایا۔ البتہ اس بارے کچھ اطلاع فراہم نہیںہوئی کہ ظفرحسن ایبک کے وہ انگریزی تراجم کیا ہوئے جن سے ترکی ترجمہ کیاگیاتھا۔ وہ شائع تونہیں ہوئے،مگراس کے مسودات کہاںگئے۔؟ یہ تمام تفصیل اور ’’خاطرات‘‘ کاتعارف،ظفرحسن ایبک کاتذکرہ اور ’’خاطرات‘‘ میںواردذکرشبلی کا مطالعہ اپنی کتاب ’’ شبلی ۔خودنوشتوںمیں‘‘ قلم بند کیا ہے۔جو گذشتہ سال یعنی ۲۰۱۹ء میںادبی دائرہ اعظم گڑھ سے ہوچکی ہے۔
اس کے بعد مجھے ان ادباء و شعراء پر ایک مضمون لکھنے کا خیال آیا جو اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے اور تقسیم وطن کے نتیجے میں ہجرت کر گئے اور وہاں انہوں نے اپنے اپنے طورپرشعر و ادب کی بڑی خدمت کی اور بڑا نام پیدا کیا۔ ان میں انجم اعظمی، فضا اعظمی، فہیم اعظمی، نجم الحسن رضوی، مفتون احمد[مولاناعبدالسلام ندوی کے بھانجے]وغیرہ۔ان کے علاوہ اور بہت سے نام اس وقت ذہن میں نہیں آرہے ہیں۔ میں نے اپنے اس خیا ل کا ذکر مرحوم حامدسراج سے کیا تو انہوں نے فوراً ہی نجم الحسن رضوی کا فیس بک اکاؤنٹ کا لنک بھیج دیا اور مجھے لکھا کہ
برادرم !نجم الحسن رضوی صاحب کو عرض کر دیا ہے کہ اپنا واٹسیپ نمبر بھیج دیں۔
مگر پھر اسی دن ان کا دوسرا میسج آیا کہ
اللہ ! اللہ!
نجم الحسن صاحب کی بیٹی کا میسج آیا ہے کہ وہ دنیا سے گذر گئے۔
آپ ان کی بیٹی سے رابطہ کر لیجئے۔ میرے پاس ان کی بکس ہیں۔ ایک دو دن میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ کو ان کی سوانحی معلومات فراہم کروں۔ ان شاء اللہ ۔
پھر انہوں نے ان کے کوائف بھیجے۔ نجم الحسن رضوی مرحوم کا اصل نام سجاد حسین رضوی تھا۔ ۲۳؍ اپریل کو وہ دیو گام ،ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ کب ہجرت کی یہ معلوم نہیں ہو سکا۔ البتہ ان کی تعلیم سکھر، حیدرآباد اور کراچی میں ہوئی تھی اور وہ اردو صحافت اور اردو ادب میں ایم اے پاس تھے۔ اصلاً افسانہ نگار تھے۔ ان کے تین مجموعے’’ چشم تماشا‘‘ [۱۹۸۲ء] ’’ہاتھ بیچنے والے‘‘ [۱۹۹۴ء]’’ پرسے کا موسم‘‘ [۱۹۹۷ء]۔ ۱۹۹۹ء میں طنز و مزاح پر مشتمل ایک کتاب ’’ہمارا بدمعاشی نظام‘‘ بھی شائع ہوئی تھی۔ متعدد کتابیں زیر طبع اورزیر تالیف تھیں۔ فروری ۲۰۱۸ء میں کراچی میں انتقال ہوا۔
اس زمانہ میں برادرم محمدحامد سراج صاحب خودنوشتوں پر کام کر رہے تھے۔ اس میں وہ علامہ شبلی نعمانی کو بھی شامل کر رہے تھے ۔جن کی آپ بیتی ہمارے ایک اور کرم فرما اور اردو کے ممتاز اہل قلم ادیب ، نقاد اورشاعر ڈاکٹر خالد ندیم صاحب صدرشعبہ اردوسرگودھایونیورسٹی نے بڑی عرق ریزی سے تیار کی ہے جو مثال پبلشرلاہور اور دارالمصنّفین اعظم گڑھ دونوں اداروں سے شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب ان کے پاس تھی ۔مزید کتابوں کے لئے انہوں نے مجھے میل کیا اور لکھا کہ جو کتابیں آپ فراہم کر سکتے ہیں کر دیں اور جو ممکن نہ ہوں، ان کی نشاندہی کر دیں۔ چنانچہ میں نے انہیں ایک مفصل خط کے ذریعہ علامہ شبلی اور شبلیات کی تفصیل لکھ بھیجی اور چند دنوں بعد علامہ شبلی سے متعلق اپنی دستیاب دس سے زاید کتابیں ان کو بھیج دیں۔ وہ ان کتابوں کو پاکر ایسا خوش ہوئے کہ میں بتا نہیں سکتا۔ کتاب دوستی کاتووہ اعلی نمونہ تھے۔واقعہ یہ ہے کہ کتاب دوست تو بہت مل سکتے ہیں لیکن کتاب کے ساتھ صاحب کتاب سے یکساں محبت کم لوگوںمیں پائی جاتی ہے۔ ان کایہ خط ملاحظہ کیجئے:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
بھائی یہ آپ کا اس فقیر پر غیر معمولی احسان ہے۔ جزاک اللہ خیراً۔ سمجھ نہیں پا رہاہوں کہ اپنے محسن کا شکریہ کس طرح ادا کروں ۔
اور جب انہیں کتابیں مل گئیں تو انہوں نے مجھے خط لکھ کرنہ صرف شکریہ ادا کیا ،بلکہ فیس بک پر ایک پوسٹ بھی لکھی اور اپنی محبت کا اظہار کیا یوںکیا۔
میرے محترم، میرے مکرم محمد الیاس اعظمی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عادل رضا منصوری صاحب کی طرف سے آج پارسل مل گیاہے۔ آپ کی طرف سے بھیجی گئی ہر کتاب کو عقیدت و محبت سے چوما۔ سینے سے لگایا۔ آپ نے اس فقیر پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اللہ کریم آپ کو اس کی جزا دے۔ خوشی کہ وہ کیفیت ہے کہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ شکریہ کیسے ادا کروں۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے۔ قریب ہوتے، پہنچنا ممکن ہوتا تو آپ کی پیشانی چومتا۔ دعاؤں کی التجا ہے۔
فیس بک پر جو پوسٹ لکھی وہ بھی ان کی نیکی،شرافت، مروت،محبت اور وضع داری کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ کون اس زمانہ میں ان علمی کاموں کی اس قدر قدر کرتا ہے۔ انہوں نے تمام کتب کے سرورق اسکین کرکے فیس بک پرپوسٹ کئے اور اس پر ۲۷؍ جولائی ۲۰۱۸ء کو یہ نوٹ لکھا کہ
میرے انتہائی محترم و مکرم محبی ڈاکٹر الیاس اعظمی صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ
مجھے یاد نہیں کتنے برس گذر گئے۔ آپ نے یاد دلایا تو یاد آیا کہ بہت سال پہلے آپ کو ظفر حسن ایبک کی خاطرات کی تلاش تھی جو کئی بار شائع ہوئی، لیکن آخری بار سنگ میل لاہور نے شائع کی تھی۔ آپ کے لئے سنگ میل سے بھی رابطہ کیا، لیکن خاطرات نہیں ملی۔ لیکن ہمت باندھے رکھی اور آخر کار ایک نسخہ دستیاب ہوگیا جو آپ کو بھجوا دیا۔ میں یہ سب بھول چکا تھا۔
میری خواہش تھی کہ سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کام مولانا شبلیؒ نے شروع کیا اور جسے مولانا سید سلیمان ندوی نے مکمل کیا، ان کی حیات طیبہ اور محنتوں کا، اخلاص کا مکمل مطالعہ کیا جائے۔ اس حوالے سے آپ کااسم گرامی کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ نے مولانا شبلیؒ پر جو کام کیا ہے وہ وقیع اور علمی لحاظ سے اعلیٰ پائے کا ہے۔ جو صدیوں میں دھڑکتاہے۔ میری خواہش پر آپ نے اپنی کتب بھجوائیں۔ جزاک اللہ
الفاظ کے جتنے بھی جوڑ بٹھالوں مگر شکریہ نہیں ادا کر سکتا کہ کتنا قیمتی خزینہ آپ نے میرے نام بھیجا ہے۔ میرا دل ،میری روح سرشار ہے۔ دعاؤں کی التجا ہے۔ رب کریم آپ کو تادیر صحت و عافیت اور ایمان کے ساتھ سلامت رکھے۔
اس کے بعد وہ بیمار ہوئے۔ ان کی خطرناک اور موذی بیماری کا دیگر احباب نے ذکر کیا۔ میں دم بخود رہ گیااورخاصاپریشان ہوا۔ بڑی دعائیں کیں اور اللہ سے صحت مانگی، مگر اس کا راز اسی کو معلوم ہے کہ کس بندے کے لئے کیا بہتر ہے۔ ذرا طبیعت سنبھلی تو کچھ دیر ہی کے لئے سہی نٹ پر آجاتے اورخیر خیریت مل جاتی۔
مجھے انہوں نے کئی کتابیں بھیجنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس دوران دونوں ممالک کے تعلقات اس قدر خراب ہوئے کہ ڈاک کا نظام سرے سے بند کر دیاگیا۔یہ اہل علم وادب ہی کانقصان تھا۔ ایک خط لکھ کر اس المیہ پر بھی انہوں نے افسوس کااظہارکیا۔
اوپر ذکر آچکا ہے کہ میں ان اعظمی ادباء و شعراء اورنقادوںپر کچھ کام کرنا چاہتا تھا جو ۱۹۴۷ء یااس کے بعدہجرت کر گئے تھے۔ انہیں میری یہ خواہش یاد تھی۔ چنانچہ انہوں نے لکھا کہ
’’ڈاکٹر فہیم اعظمی مرحوم نے لگ بھگ پندرہ بیس برس ماہنامہ صریر نکالا۔ انہوں نے اپنی کتابیں خود شائع کی تھی۔ اب جانے کہیں دستیاب ہیں کہ نہیں۔ میرا اس خاندان میں کسی سے بھی تعارف اور رابطہ نہیں۔ فضا اعظمی صاحب کی کتابیں مبین مرزا نے ’’بازیافت‘‘ سے شائع کی ہیں۔ وہاں رابطے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ فضا اعظمی پاکستان میںہیں یا بیرون ملک۔ اگر میںبھول نہیںرہا تو میں نے نجم الحسن رضوی صاحب کا لنک آپ کو بھیجا تھا، جو ان کی بیٹی دیکھتی ہیں۔‘‘
پھر مسلسل خاموشی رہی۔بیماری بڑھتی اورزندگی کادائرہ تنگ کرتی جارہی تھی مگروہ مردمجاہد سب کچھ بھول کراپنے کاموںمیںمشغول رہا۔اس دوران میں نے کئی تحریریں اورکئی مضامین کے لنک بھیجے، اس پر بھی خاموشی رہی ۔خامشی کی وجہ سے میری گھبراہٹ بڑھ رہی تھی کہ خدا جانے ان کی طبیعت کیسی ہے۔ ۱۱؍ اگست کو انہوں نے عید کی مبارک پیش کی۔ اس کے بعد پھر خاموشی۔ میں نے اپنے مضمون کا جو ڈاکٹر خلیق انجم پر ہماری زبان میںشائع ہوا تھا تراشہ بھیجا ۔ ۲۲؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو انہوں نے دو لفظ ’’جزاک اللہ۔ سلامت رہیں آپ… !!‘‘ لکھے۔ میرے نام ان کایہ آخری میسج اور آخری الفاظ تھے۔ پھر جو آئی تو ۱۳؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو ان کی خبر آئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ آہ ! ایسا نیک دل، فرشتہ صفت، صاحب کمال اور اردو کابڑاادیب ،افسانہ نگاراور شیدائی ہمارے درمیان سے رخصت ہو گیا۔ حق مغفرت کرے۔ آمین
جانے والے تجھے سلام۔ جااوراپنے رب کے پاس رہ۔ خوش و خرم رہ۔ اب وہاں آپ کو کوئی موذی مرض کبھی لاحق نہ ہوگااور دنیاکے اندیشہ ہائے دوردرازسے آپ ہمیشہ کے لئے مامون ہوگئے۔ ہاں ہمیں دکھ ہے تویہ ہے کہ ہم ان ادبی شہ پاروں سے محروم ہو گئے جو اب تجربات ومشاہدات کے بعد آپ کے قلم سے کاغذ پر ثبت ہوتے۔ مگر جو نقوش قلم یادگارہیں،وہ کچھ نہیں۔ اس کی قدر و قیمت محققین طے کریں گے اور وہ جو کچھ لکھیں گے ہم اسے بھی یاد رکھیں گے اورسب سے کہیں گے کہ ہم نے بھی محمد حامد سراج کو دیکھااوراس سے فیض پایا تھا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اوردرجات بلندکرے۔

 

You might also like
  1. Hameed Qaiser says

    ڈاکٹر اعظمی صاحب آپ نے ہمارے پیارے دوست محمد حامد سراج کے نادیدہ ہونے کے باوجود دل کی اتھاہ گہرائیوں سے لکھ کر انکے دیدار کا حق ادا کردیا۔ وہ پیارا دوست گھڑی بھر کو اردو ادب کے بام پر چھب دکھلا کر غائب ہوگیا مگر جس قدر کام کر گیا گویا تیرگی میں اپنے حصے کا چراغ روشن کرگیا۔ دکھ تو مگر یہ ہے کہ اردو ادب کی ایسی کتنی ہی شخصیات خون جگر سے چراغ جلاتے جلاتے خود بجھ گئیں مگر معاشرے کا اندھیر ختم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اللہ آپکو خوش رکھے آپ نے محمد حامد سراج مرحوم سے دوستی کا حق ادا کردیا ۔۔

  2. گمنام says

    محترم ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی صاحب اپ کا مضمون حامد سراج فہمی کے ذیل میں قابل قدر اضافہ ہے ، آپ نے مرحوم کو ان کی مراسلت میں دریافت کرنے کی کاوش کی ہے ،

    حامد سراج بہت محبت اور چاہت کرنے والے شخص اور ادیب تھے ۔ انجوں نے اپنی نو بہ نو تحریروں سے ادیبوں کے وسیع حلقے کو متاثر کیا ۔

  3. گمنام says

    شبیر احمد قادری فیصل آباد پاکستان

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post