رحمان حفیظ ۔۔۔ بادشاہ گر پوٹهوہاری باوا : سعید سادھو

جب سے سوشل میڈیا آیا ہے شاعر کی اہمیت تبدیل ہو گئی ہے جانے یہ پہلے سے بڑهی ہے یا کم ہوئی ہے مگر تبدیل ضرور ہوئی ہے.
لہذا اب شاعری شعور کی بجائے شہرت کے لئے کی جاتی ہے. حالانکہ ماضی کے کئی بڑے نام جن کے راستے پہ کالج کی لڑکیاں غول در غول دانے چگتی تهیں آج ان کی شناخت ایک ایک مصرعے کو ترستی ہے.
لیکن آج کے دور میں بهی کچھ لوگ ایسے ضرور ہیں جو خود تو فقیر رہنے پہ بضد ہیں مگر حاضر سروس شاعری کے کئی بادشاہ بنا چکے ہیں.
کئی نام گنوائے جا سکتے ہیں لیکن چونکہ اس تحریر میں کسی قسم کا کوئی مقصد ملوث نہیں لہذا فقط اس بادشاہ گر کے بارے بات کرنا مقصود ہے اور اس کی وجہ بهی موٹر وے سفر میں ان کی یاد ہے اس کے علاوہ مجهے ان سے کوئی ضرورت یا کام درپیش نہیں ہے.
ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آج تک ان سے کوئی کام نہ پڑا تا ہم اگر پڑ بهی جائے تو وہ انکار نہیں کریں گے اور پوٹهوہاری سرشت کے مطابق تو بالکل بهی نہیں.
موصوف اسلام آباد میں اپنی کار پر کوٹ پہنے سوار ہوتے ہیں اور سارا دن دوستوں کو مصرعہ مصرعہ شعر کرتے جوڑتے دکهائی دیتے ہیں. اگر کسی دهابے پہ بیٹهے ہوں تو ان کے اندر کا لمبی بهاری مونچھ والا حقہ بردار پوٹهوہاری بابا باہر کو ہمکنے لگتا ہے جس نے دهوتی کی بجائے لانگڑ باندهی ہوتی ہے اور اس کا فقط ایک ہی مقصد ہوتا ہے رونق بنائے رکهنا.
اس کا کوئی مقصد نہیں سوائے محفل آرائی یا رونق بازی کے.
کئی بادشاہ تو اس نے ایسے اونچے تعمیر کر دیے ہیں ہہ وہ بادشاہ اب اس پوٹهوہاری فقیر سے بہت دور کسی مسند پہ جا بیٹهے ہیں ایسے میں یہ فقیر خالصتا فقیر پن کے مطابق انہیں ذرا بهی احساس نہیں دلاتا کہ بادشاہو میں اب بهی فقیر ہوں.
انحراف شروع کیا تو سب سے روابط کئے رابطے کے لئے چهوٹے بڑے کسی کی تمیز کے بنا فقط ایک پلیٹ فارم کو کامیاب کرنا مقصود تها. پہاڑی خمیر کا حامل یہ باوا آج تک نا کام ہونا نہیں سیکه پایا. کم از کم مججے ایسے ہی لگا.
یہ کام سوچتا ہے اس کی ٹهان لیتا ہے اور بس کام کی چوٹی سر کر جاتا ہے.
مجهے یونہی یاد آیا اور میں نے تذکرہ کیا یقین کیجئے اسے یہ تحریر بالکل پسند نہیں آئے گا بلکہ اب وہ مجه سے محتاط بهی ہو سکتا ہے. مگر یہ طے ہے کہ یہ مضمون فقط ہماری قوت مشاہدہ کی دین ہے اس دہی میں کسی قسم کی مخبری کا خمیر نہیں لگایا گیا.
بنیادی طور پر محکمہ شاہرات کا اچها خاصا آفیسر ہے لیکن اس کا زیادہ تر پیسہ دوستوں کو چائے پلانے کهانا کهلانے میں گزر جاتا ہے. پروگرام سے قبل اور بعد میں دوستوں کو مطلوبہ بس اسٹاپوں یا گهر پہنچانا اس کا وطیرہ ہے.
خود بهی شعر کہتا ہے مگر ان پر ذرا سا بهی سینہ پهلانے کو راضی نہیں اور دوسروں کو چیخ چیخ کر سمجهاتا ہے کہ بهئی تم اچها کہتے ہو.
دن کے کسی وقت آپ ان سے ملاقات کا وقت لیں یہ دفتر کی فائلوں کا ایک اور گٹها گاڑی کی ڈگی میں رکه کے آپ کو وقت دینگے اور وہ گڈا بیوی بچوں کا وقت چاٹ جائے گا.
ہم نے انہیں 2009 میں کہیں دیکها چونکہ بہت قریب سے دیکها لہذا ٹهیک دیکهنے کا دعوی نہ کر سکتے تهے اب چونکہ دوری سے دیکه رہا ہوں تو صاف اور واضح دکه رہا ہے . لیکن یہ 2009 میں فقط ہمارے سامنے آئے ورنہ یہ پاکستانی ادبی منظر نامے پہ یا پاکستانی ادبی (بلکہ سماجی) منظر نامہ ان کے سامنے دہائیوں سے ہے..
خاموشی سے ادبی جوڑ “جوڑ” میں موجود زبان کے مروجہ جملوں میں از سر نو تبدیلی کی وجہ یہ شخص رحمان حفیظ ہے .
اکادمی ادبیات کو غیر سرکاری سطح پر ٹهیک ٹهیک بلکہ ٹهیک ٹهاک استعمال کرتا ہوا رحمان حفیظ جو سرکار کے حصے کا کام اپنی جیب اور دل سے کر رہا ہے. یقین کیجئے اس نے سرکار سے کوئی فائدہ نہیں لینا
رحمان حفیظ میرے بے ضرر بهائی خوش رہو.
تم ایسے جینئوین بے لوث فقیر بادشاہ گر فقیر ٹاواں ٹاواں بهی نہیں ملتے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post