مائینڈ پلیٹر : نجویٰ زیبین ۔۔۔ ترجمہ:محمد کامران خالد

Mind Platterیہ چند ادب پارے لبنانی نژاد کنیڈین ادیبہ نجویٰ زیبین کی کتاب ” مائینڈ پلیٹر”
سے منتخب اقتباسات کا ترجمہ ہیں۔نجویٰ زیبین نے اس کتاب میں اپنے ذاتی تجربات،مشاہدات اور تخیلات کو دل نشین انداز سے بیان کیا ہے۔ یہ دراصل یہ ان کی ضمیر کی صدائیں ہیں جو انھوں نے عام انسان کی زبان میں بیان کی ہیں۔اس کتاب میں زندگی کے تمام زندہ پہلوؤں؛ محبت،دوستی،ہمدردی،درددل،عزت واحترام،رغبت،دیانتدای اور کئی زاویوں سے اپنے احساسات و جذبات کو جمع کیا گیاہے۔یہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ اَن دیکھے اور اَن سنے دکھ درد،احساس اور دھتکارے ہوئے لوگوں کی دل کی آوازیں اور ضمیر کی صدائیں ہیں جن کو نجویٰ زیبین نے ایک زندہ مجسم صورت دے دی۔یہاں اس کتاب میں سے چند منتخب تحریروں کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔میں نےعنوانات کو کسی شعر کے مصرعے سے باندھا ہے۔
سادگی سادگی ہے کیا کہیے
Simplicity Is The Key
“ہم اکثر زندگی میں سادہ اور معمولی نظرآنے والی چھوٹی چھوٹی باتوں اور چیزوں میں پنہاں حُسن کو نظر انداز کردیتے ہیں جیسے : دل کو خوش کرتی ایک مسکان،اداسی کے عالَم میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا،تنہائی کی راتوں میں ماہِ کامل کا نظارہ،منزلوں کا پتا دیتا ہوا تاروں بھرا آسمان،زخموں پر مرہم کا نمائندہ مہربانی کاایک سادہ عمل،دلوں کی تاروں کو چھیڑتی ایک متاثر کن گپ شپ،ایک بچپن کی دل کو لبھاتی اور گدگداتی یاد،زندگی کو سہارا دیتا ہوا ماں کا ایک بوسہ۔ یہ وہ چیزیں اور باتیں ہیں جو ہماری زندگی میں حُسن و لطافت کےرنگ بھر دیتی ہیں۔ کیونکہ یہ ہمیشہ ایک حقیقت یا زندہ جاوید یاد کے طور پر ہمارے ساتھ امیدِزیست بن کررہتی ہیں ۔ حالاں کہ وہ چیزیں جنھیں ہم اپنی دانست میں خوشی کا منبع گردانتے ہیں اور ان کے حصول کے لیے جان کو جوکھم میں ڈالے رہتے ہیں اور زندگی بھر کی محنت ان میں جھونک دیتے ہیں پھر بھی ان سے حقیقی خوشی حاصل نہیں ہوپاتی جبکہ خوشی سے نہال کرتی ان سادہ چیزوں کے حصول کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کرنا پڑتی لیکن پھر بھی ہم ان کو اپنانے میں تامل کا شکار نظر آتے ہیں۔ جب ہم سادگی کی قدر نہیں کرتے تو ہم اپنی زندگی کی انتہائی خوب صورت اور اہم چیزوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ جب ہم سادگی کی قدر نہیں کرپاتے تو ہم سچی خوشی سے بھی دور ہوجاتے ہیں۔”
خوب آرائشیں بھی ہیں لیکن
سادگی سادگی ہے کیا کہئے
تاج احمد تاج

لاؤ تیشہ ایک دریا دوسرا پیدا کریں
Take responsibility
“اپنی زندگی میں فلاح و بہبود کے لیے دوسروں کے کندھوں پر سوارہونے کو وتیرہ مت بنائیے۔ ممکن ہے کہ آپ دوسروں کے منصوبوں میں معمے کی پہیلی میں ایک ٹکڑے کی طرح اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن اگر وہ اپنی چال کے مہرے بدل دیں تو پھر آپ کا کیابنے گا۔۔۔! اس لیے ہوش کے ناخن لو اور ذرا سوچو! آپ کے پاس ایک روشن دماغ ہے جو منطقی انداز میں آپ کی راہنمائی کرتا ہے اور آپ کے پاس زندہ دل ہے جو شعور کے ذریعے آپ کی رہبری کرتا ہے۔ آپ اپنے اندراحساس ذمہ داری پیدا کیجیے اور زندگی کی دوڑ میں آگے نکلتے ہوئے اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔ خود کو دوسروں کی چال کا حصہ مت بنائیں۔ اپنی منصوبہ بندی خود کریں اور اس کا حصہ بنیں۔”

دوسروں سے کب تلک ہم پیاس کا شکوہ کریں
لاؤ تیشہ ایک دریا دوسرا پیدا کریں
نذیر بنارسی

دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا
Rest Your Heart
“دل بہت انمول چیز ہے اس لیے اسے ہمیشہ ترو تازہ اور خوش بہاررکھیے۔ ممکن ہے کہ یہ زندہ دل دوسروں کو غیر مشروط طور پر درگزر کرنے والا بن جائے،اس لیے اپنے ساتھ مستقل بدسلوکی کرنے والوں سے الجھ کر اسے پراگندہ مت کیجیے۔ اسی طرح آپ چاہتے ہیں یہ دل صبر سے لبریز رہے تو اسے بے قدرے لوگوں سے سے الجھنے سے باز رکھیے۔”
دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا
مہ و ستارہ ہیں بحرِ وجود میں گرداب

(اقبال)
راضی بہ رضا ہوتے ہیں اربابِ قناعت
Contentment
“کیا آپ نے کبھی پانی کی قلت کے سبب پیاسے سمندر یا سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرتی ہانپتی ہوا کے بارے میں سنا ہے؟ یا آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہو کہ آسمان تنگیء داماں کا شکوہ کرتے ہوئےاپنی حدوں سے نکلنے کے لیے بے تاب ہورہا ہے یا قوسِ قزح ہفت رنگ سے مزید رنگوں کی خواہش مند ہو،نہیں نا! ایسا ہوبھی کیسے سکتا ہے،اس لیے خدا سے مزید طلب سے قبل اس کی عطا شدہ نعمتوں پر نظر کیجیے۔ اور ضرورت سے زائد کی چاہت میں خود کو ہلکان مت کرو۔ اپنی خواہشات کو ضروریات پر غالب مت آنے دو،کیوں کہ اگر ایسا کرو گے توایک دن ایسا آئے گا جب تم اپنی خواہش کی تکمیل کے چکر میں اپنی ضرورت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔”
راضی بہ رضا ہوتے ہیں اربابِ قناعت
وہ اپنا بھرم دستِ طلب سے نہیں کھوتے
(نامعلوم
زندگی بھر زندگی کی جستجو کرتے رہو
Lifelong Learning
“اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم کے حصول کا عمل محض ایک ادارے میں ہی ممکن ہے تو بارِدگر سوچیں۔ چاہیے یہ کہ جب تک آپ کی سانسیں چل رہی ہیں آپ کا دل و دماغ اور آپ کی روح علم و دانش کی تلاش میں سرگرداں رہیں،تو تسلسل کے ساتھ اپنی توجہ ان کی طرف رکھیے اور ان کی طلب اور پیاس کا انتظام کیجیے۔ سوال کرنا اور جواب کی تلاش پیاس بجھانے کی طرح ہو تو یہ زندگی میں تحریک کا سبب ہوگا۔علم محض ایک شعبے تک ہی محدود نہیں ہے۔ علم وہ قوت ہے جو آپ کی زندگی کی گاڑی کو چلاتی ہے اور اسے بامقصد بناتی ہے۔ چنانچہ زندگی بھر علم کادروازہ کھلا رہتا ہے اور یہ چلتا پھرتا ادارہ ہےکیونکہ علم کسی سرحدوں اور دیواروں کا پابند نہیں ہوتا۔ زندگی کا ہر شعبہ طیورِ علم کی آغوش میں پنہاں ہے۔ تو آپ کس بات کا انتظار کررہے ہیں۔۔۔۔علم کے آسمان میں اڑان بھریے۔”
ظلمتوں میں روشنی کی جستجو کرتے رہو
زندگی بھر زندگی کی جستجو کرتے رہو
انور صابری

دل میں بھی جھانک مری ظاہری حالت پہ نہ جا
Don’t Be Shallow
“کٹھور دل،بہرے کان اور بخیل ہاتھ پرجھولتے ہوئے ہیرے کے جھمکے کی حیثیت بارے کیا پوچھتے ہو؟۔۔۔عشق کی راہوں میں سرگرداں سرپھروں کی ظاہری حالت پر توجہ کرنے والے ان کی باطنی دنیا سے بھلا کیسے واقف ہوپائیں گے؟
دیکھو میاں ! سونے کا پانی چڑھے ہوئے انڈے سے دھوکا کھانے والوں میں سے نہ بننا۔ جس کی بیرونی سطح کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والی چمک پہلی ہی ٹھوکر سے ہوا ہوجاتی ہے، تووہ کبھی بھی تمھاری چشمِ روشن کو بھلی نہیں لگے گی۔ دل کی آنکھ سےلوگوں کے باطنی احوال پر نظر کرو نہ کہ ظاہری نمودونمائش پر فریفتہ ہوتے پھرو۔”
میری پوشاک تو پہچان نہیں ہے میری
دل میں بھی جھانک مری ظاہری حالت پہ نہ جا
اعتبار ساجد

برتاؤ اس طرح کا رہے ہر کسی کے ساتھ
The Way They Treat You
“کیا آپ نے اکثر دوسروں کو یہ کہتے سنا کہ لوگوں سے ویسے ہی پیش آؤ جیسے وہ تمھارے سے برتاؤ کرتے ہیں۔۔؟ ہیں نا ! لیکن آپ نے ایسا نہیں کرنا۔ ان کے ساتھ ان سے بہتر طور پیش آؤ جیسا وہ آپ کے ساتھ سلوک روا رکھتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا برا عمل آپ کو بھی ویسا سلوک کرنے پر مجبور کریں تو پھر آپ یہ کہنے میں کیسے حق بجانب ہوسکتے ہیں کہ آپ ان سے بہتر ہیں۔ اگر کوئی آپ کے نیک کام پر تنقید کرے اورآپ کی حوصلہ شکنی کرے تو آپ اس کی اس کام میں حوصلہ افزائی کریں اور ساتھ دیں جو اس کے حق میں بہتر ہے۔ میاں ! یادرکھو کہ نہ صرف آپ کو ان کی ناخوشگوار اور دل کو رنجیدہ کرنے والی باتوں کو صرفِ نظر کرنا ہے بلکہ ردعمل میں آپ کے لہجے میں بھی ناخوشگواری یا طنز کا عنصر شامل نہ ہو۔ اگر کوئی شخص آپ کی بے توقیری کرے تو بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ اس کو خندہ پیشانی اور شائستگی کے ساتھ جواب دیں۔ معاشرے کے نیک و صالح افراد کی صحبت اختیارکرو اور ان کے پیچھے چلو خود کو رذیل لوگوں سے مت ملاؤ بلکہ ہمیشہ ان عظیم ہستیوں کے طرف نظر کرو جو ذوفشانی سےزندگانی جیتے رہے حتیٰ کہ اپنے دشمنوں کے بھی دل موہ لیے۔”
برتاؤ اس طرح کا رہے ہر کسی کے ساتھ
خود کو لئے دیے بھی رہو دوستی کے ساتھ
احمد وصی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post