’’فن بطور تکنیک‘‘ : وکٹر شکلو وسکی…اُردو ترجمہ:ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

’’فن پیکروں(Images)میں سوچنے کا عمل ہے۔‘‘شاعری بھی اسی طرح پیکروں میں سو چتی ہے جسے عمومی طور پر ’’ذہنی کوشش کے بھر پور استفادہ‘‘ (Economy of Mental Effort)کااندازقرار دیا جا سکتاہے۔انداز جو ’’(تخلیقی) عمل کی اضافی آسانی کا احساس‘‘دلاتا ہے۔پیکر تراشی کے بغیر کوئی فن موجود نہیں۔’’فن پیکروں میں سوچنے کا عمل ہے‘‘یہ مسلمہ اصول (Maxims)فن کے انفرادی کام کی تعبیر وتوضیح سے نا قابلِ یقین حد تک دور لے جاتے ہیں۔بطور پیکری فکر(Imagistic Thought) کے ،غنائی شاعری ، فنِ تعمیر اور موسیقی کی قدر کا اندازہ لگانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔
ابھی تک کئی لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پیکروں میں سوچنا شاعری کانمایاں وصف ہے۔’’پیکری فن‘‘ کی تاریخ کو ،وہ پیکروں میں تغیر کی تاریخ پر مشتمل خیال کرتے ہیں ،لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ پیکروں میں معمولی تبدیلی(صدیوں بعد) رونما ہوتی ہے،ایک صدی سے دوسری صدی میں،ایک قوم سے دوسری قوم میں اورایک شاعر سے دوسرے شاعر کے ہاں پیکر بغیر تبدیلی کے سفر کرتے ہیں۔ایک شاعر کے ہاں پیکراس کا طرہ امتیاز ہیں ،آپ جتنا اس کے عہد کی تفہیم کرتے ہیں ،اس بات کے قائل ہوتے جاتے ہیں کہ شاعر کے ہاں مستعمل پیکر ،اور جو آپ سوچ رہے ہیں وہ دوسرے شاعر کے ہاںغیر تغیر پذیر ہیں۔شعرا کے کام کی نئی تکنیکوں ،زبان کے وسائل کے ارتقا اور نظم و نسق ،جسے وہ دریافت کرتے اور آگے پھیلاتے ہیں،کے ذیل میں جماعت بندی کی جاتی ہے ۔شعراپیکر تخلیق کرنے کے بجائے انھیں منظم کرنے سے زیادہ سرو کار رکھتے ہیں۔پیکر شعرا کو عطا کیے جاتے ہیں،انھیں یاد رکھنے کی صلاحیت انھیں تخلیق کرنے کی صلاحیت سے زیادہ اہم ہے۔
پیکری فکر(Imagistic Thought) نہ توکسی صورت فن کے جملہ پہلوؤں کا اور نہ لفظی فن (Verbal art)کے تمام پہلوؤںکااحاطہ کرتی ہے ۔پیکرتراشی میں تغیر،شاعری میں ارتقا کے لیے ضروری نہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ اظہار ہی شاعرانہ تصور کیا جاتا ہے،جسے شاعرجمالیاتی مسرت کے حصول کے لیے تخلیق کرتاہے ،اگرچہ اسے اس نیت سے تخلیق نہیں کیا جاتا ۔پس (ادبی)کام نثری طورپرتحریر کیا جاتا ہے اور شاعرانہ طورپر قبول کیاجاتا ہے یا شاعرانہ طور پر تحریر کیا جاتا ہے اور نثری طور پر قبول کیا جاتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے جس طرح ہم فن پارے کا ادراک کرتے ہیں وہی خوبیاں اس سے منسوب کر دیتے ہیں ۔فن کے کاموںسے،ہماری ناقص رائے میں ،ہمارا مطلب ہے ،فن جو مخصوص تکنیکوںسے تخلیق پذیر ہوتا ہے،جتنا ممکن ہو بدیہی طور پر فنکارانہ بنایا جاتا ہے۔
پیکر تراشی کے دو پہلو ہیں :(پہلا)پیکر تراشی بطور تفکر،اشیا کو زمروں میں تقسیم کرنے کا ذریعہ اور(دوسرا)پیکر تراشی بطور شاعرانہ( عمل) تاثر کو تقویت دینا۔میںاس کی وضاحت ایک مثال سے کروں گا ۔میں بچے کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا چا ہتا ہوں جو روٹی اور مکھن کھا رہا ہے، مکھن اس کی انگلیوں سے چپک رہا ہے۔میں اسے ’’ مکھنی انگلیوں والا ‘‘کہ کر پکارتاہوں ،یہ زبان کی ایک صنعت ہے ۔(مذکورہ جملہ) واضح طور پر نثر پارہ ہے۔ایک اور مثال لیجیے،بچہ میری عینک سے کھیل رہا ہے اور اسے گرا دیتا ہے اور میں اسے ’’مکھنی انگلیوں والا‘‘ کہ کر پکارتا ہوں ،یہ زبان کی صنعت کا شعر پارہ ہے۔ اوّل الذکر مثال میں ’’مکھنی انگلیاں‘‘ مجاز مرسل اور مؤخر الذکر میں استعارہ ہیں،لیکن یہ وہ (تصور)نہیں جس پہ میں زور دینا چاہتا ہوں۔
شاعرانہ پیکر تراشی مستحکم ترین ممکنہ اثر پذیری کی تخلیق کا وسیلہ ہے۔بطور منہاج یہ’اپنے مقصد پر انحصار کرتے ہوئے ‘ کسی اورشاعرانہ تکنیک سے نہ کم اور نہ زیادہ مؤثر ہے ۔معمولی یا منفی متوازیت،موازنہ ،تکرار، متوازن ساخت ، مبالغہ آمیزی (وغیرہ)عام طور پر مروج خطیبانہ پیرائے اور اُن جملہ منہاجات سے ،جواظہار کے جذباتی اثر پر زور دیتے ہیں(لفظوں اور حتیٰ کہ آوازوں کی ادائی سمیت )،سے نہ کم یا زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ شاعرانہ پیکر تراشی یا تو جانوروں کی کہانیوں اور بیلڈز میں پیکر تراشی کے ذخیرے سے مکمل حد تک مماثلت رکھتی ہے یا پیکروں میں سوچنے سے ۔شعری پیکر تراشی شعری زبان کے متعدد پیراؤں میں سے ایک ہے جب کہ نثری تمثال کاری تجرید کا وسیلہ ہے۔
توانائی کی کفایت شعاری ،تخلیقیت کے مقصد اور قانون کے بارے میں تصورات، عملی زبان پر نفاذ کے ضمن میں تو ٹھیک ہیں تاہم انھیں شعری زبان تک پھیلا دیا گیا ہے،یوں وہ عملی زبان اورشعری زبان کے قوانین میں فرق کرنے سے قاصر ہیں ۔ہمیں شعری زبان میں خرچ اور کفایت شعاری کے قانون پر بات کرتے ہوئے، نثر کے حوالے سے تمثیل کی بنیادوںپربات کرنے کے بجائے ،شعری زبان کے قوانین کی بنیادوں پر بات کرنی چاہیے۔
ہم ادراک کے عمومی قوانین کا معائنہ کریںتو واضح ہوتا ہے کہ جیسے ادراک ہماری عادت کا حصہ بن جاتا ہے،یہ خود کار ہو جاتا ہے،مثلا ہماری جملہ عادات خود کار طریقے سے لاشعوری منطقے میں دھکیل دی جاتی ہیں ۔اگر کوئی قلم پکڑے جانے کے احساس کو یاد رکھے یا غیر ملکی زبان کو پہلی بار بولے جانے کو ،اور اس کا موازنہ دس ہزار بار کسی عمل کو دہرایے جانے سے کرے ،وہ ہم سے متفق ہو گا۔اس طرح کی عادات ان قوانین کی وضاحت کرتی ہیں ،جن سے ہم عام بول چال کی سطح پرمحاورات اور الفاظ کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں ۔اس عمل میں الجبرا کو ذہن میں لائیے جہاں چیزیں علامات سے بدل دی جاتی ہیں ،مکمل الفاظ تیز رفتاری میں ادا نہیں کیے جاتے،ان کی ابتدائی آوازوں کا ادراک کیا جاتا ہے۔الیگزینڈر پوگوڈن ایک لڑکے کی مثال دیتا ہے جو ایک فقرہ ذہن میں لارہا ہے،’’ سویٹزر لینڈ کے پہاڑ خوب صورت ہیں ۔’’س۔ک ۔پ ۔خ۔ہ‘‘جو حروف کے اس تسلسل پر بنی ہے۔
فکر کی یہ خوبی نہ صرف الجبریائی منہاج کی سفارش کرتی ہے بلکہ الفاظ کے انتخاب پر آمادہ بھی کرتی ہے(الفاظ ، خاص طور پر ابتدائی الفاظ)۔الجبرے کی اس منہج فکر سے ہم اشیا کوان کی مبہم شکل میں ذہن میں لاتے ہیں،ہم (ذہنی طورپر) ان کو مکمل صورت میں نہیں دیکھ سکتے لیکن ہم ان کی خصوصیات سے ان کو پہچان لیتے ہیں ۔ہم اشیا کو یوں دیکھتے ہیں جیسے وہ کسی تھیلے میں بند کی گئی ہوں ،ہم جانتے ہیں کہ ان کی اجزائی ترکیب کیا ہے،ہم ا ن کا نیم رخ سایہ دیکھتے ہیں۔(ہمیں) مدروکہ شے کا نثری انداز میں ادراک ہوتا ہے،غیر واضح اور حتیٰ کہ پہلا تاثر بھی قایم نہیں ہوتا،آخر کار یہ تک فراموش ہو جاتا ہے کہ یہ شے کیاتھی۔ ایسا ادراک واضح کرتا ہے کہ کیوں ہم نثری لفظ کو مکمل طور پر سننے سے قاصر رہتے ہیں۔(اس ضمن میں جیکبنسکی کا مضمون ملاحظہ ہو)اور کیوں ہم (زبان کی دیگر پھسلنوں کے ہمراہ)اس کے تلفظ کو ادا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔
الجبرا کاری کا عمل اور انتہا درجے کی خود کاری (Over-automatization)ادراکی کوششوںکی حد درجہ کفایت شعاری کا باعث بنتی ہے۔شے کو یا تو مناسب خدو خال یا نمبرز عطا کیے جائیں یا کچھ اور علامتیںجو بطور فارمولا عمل پیرا ہوتے ہوئے وقوف میں ظاہر نہ ہوں :
’’ میں صفائی کررہا تھا اور چکر لگاتے ایک مسند کے پاس پہنچا،مجھے یاد نہیں کہ میں نے اس پر سے گرد جھاڑی یا نہیں،کیوں کہ یہ لمحات عادتاً یا لاشعوری طور پر وقوع پذیر ہوئے تھے اس لیے میرے لیے یہ ناممکن تھاکہ میں انھیں محسوس کرتا یا یاد رکھ پاتا،پس میں نے اس پر سے گرد جھاڑی اور بھول گیا اور یہ سب لاشعوری طور پر ہوا،یہ ایسے ہی تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ،اگر اسے کوئی شعوری طور پر دیکھ رہا تھاتو حقائق متعین ہو سکتے ہیں۔ اسے کوئی بھی نہیں دیکھ رہاتھا یا دیکھ بھی رہاتھا تو لاشعوری طور پر۔اگر کئی لوگوں کی تمام زندگیاں لاشعوری طور پر گزریں تو ایسی زندگیاں ایسے ہی ہیں جیسے یہ تھیں ہی نہیں۔‘‘
اس طرح زندگی نہ ہونے کے برابر شمارہوئی ۔ عادت کاری(Habitualization)کام، کپڑے،فرنیچر،بیوی اور جنگ کے خوف کوہڑپ کر جاتی ہے۔’’اگر کئی لوگوں کی تمام زندگیاں لاشعوری طور پر گزرتی ہیں تو ایسی زندگیاں ایسے ہیں جیسے یہ تھیں ہی نہیں۔‘‘فن کا وجود اس صورت ممکن ہے کہ کوئی زندگی کے احساس کو دریافت کرے،یہ چیزوں کو محسوس کرانے کے لیے موجود ہوتا ہے،(اسے چاہیے کہ)پتھر کو پتھریت عطا کرے۔فن کا مقصد یہ ہے کہ جیسے چیزوں کا ادراک کیا جاتا ہے ویسے احساس کو آگے منتقل کرے نہ کہ جیسے چیزیں جانی جاتی ہیں۔فن کی تکنیک یہ ہے کہ وہ اشیا کو نامانوس بناتا ہے،ہئیت میں اشکال پیدا کرتا ہے ،مشکل میں اضافہ کرتے ہوئے ادراک کے عمل کو طول دیتا ہے،اس لیے کہ ادراک کا عمل بذاتِ خود جمالیاتی مقصد کا حامل ہوتا ہے اور اسے طول دیا جانا چاہیے۔فن شے کے فنکارانہ تجربے کا نام ہے، شے اہمیت کی حامل نہیں۔۔۔۔ کسی شے کو متعدد بار دیکھنے کے بعد،ہمیںاس کی شناخت ہو جاتی ہے ۔شے جب ہمارے سامنے آتی ہے تو ہم اس کا وقوف حاصل کر لیتے ہیںلیکن ہم اسے دیکھتے نہیں،پس ہم اس کے بارے میں کچھ خاص نہیں کہ سکتے،فن ادراک کے خود کارانہ عمل سے متعدد انداز میں پردہ کشائی کرتا ہے۔یہاں میں لیو ٹالسٹائی کے بار بار استعمال کیے گئے طریقہ کار کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔لکھاری جو کم از کم میرازکووسکی کے لیے چیزوں کو ایسے پیش کر رہا ہے جیسے اس نے خود ان کو کلیت میں دیکھا ہو اور ان میں کوئی تبدیلی نہ لایاہو۔ٹالسٹائی مانوس شے کا نام لیے بغیرشے کو اجنبی بنا دیتا ہے۔وہ شے کو ایسے بیان کرتا ہے جیسے اس نے اسے پہلی بار دیکھا ہو،کوئی واقعہ ایسے بیان کرتا ہے جیسے پہلی بار وقوع پذیر ہوا ہو۔کسی بھی شے کے بیان میں وہ اس کے اجزاکے مروج ناموں کے ذکر سے گریز کرتا ہے اور ناموں کے بجائے دیگر اشیا کے متعلقہ اجزا کو بیان کر دیتا ہے۔مثال کے طور پر “Shame”میں وہ تازیانہ مارنے کو یوں اجنبیاتا ہے’’ ان کو کوڑے مارو جو قانون شکنی کرتے ہیں ،ان کو زمین پہ دے مارو اور ان کے پیندوں کو سوئچوں سے کوٹ ڈالو‘‘اور پھر چند سطور کے بعد’’ان کے برہنہ چوتڑوں پر چابک برساؤ‘‘ اور پھر وہ ذکر کرتا ہے:
’’کیوں محض یہ باقاعدہ (واضح) احمق ،درد کا باعث بننے والا وحشی اور کوئی دوسرانہیں۔۔۔کیوں شانوں پر یا جسم کے کسی دیگر حصے میں سوئیاں نہیں چبھوتا،ہاتھوں کو نہیں بھینچتا ،پیروں کو شکنجوں میں نہیں کستایا اس طرح کی دیگر کوئی حرکت نہیں کرتا ‘‘
میں اس سخت مثال پر معذرت خواہ ہوں لیکن ٹالسٹائی کا شعوربیدار کرنے کا مخصوص انداز ہے۔چابک برسانے کا مانوس عمل اس کی اصل (Nature) تبدیل کیے بغیر بیان اور ہئیت دونوں سے غیرمانوس بنایا گیا ہے۔ٹالسٹائی مستقلاً ’’ اجنبیانے کے عمل‘‘کی تکنیک استعمال کرتا ہے،مثلا ً ’’خول سٹومر ‘‘ کا راوی گھوڑا ہے اور (ایک شخص کے مؤقف سے ہٹ کر )یہ گھوڑے کا مؤقف ہے جو کہانی کے مواد کو نامانوس بنا دیا ہے ۔یہاںگھوڑا نجی ملکیت کے ادارے کوکس احترام سے دیکھتا ہے ،(ملاحظہ ہو):
’’مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ جو انھوں نے عیسائیت اور کوڑے بازی (Whipping)کے بارے میں کہا۔اس وقت میں مکمل تاریکی میں گھرا ہوا تھا ’’اس کے اپنے ‘‘ کا کیا معنی ہے،’’اپنے بچھیرے کے‘‘ ۔ ان جملوں سے میںنے دیکھا کہ لوگ میرے اور اصطبل کے بارے میں سوچ رہے تھے ۔اس وقت میں اس تعلق کے بارے میںکچھ سمجھنے سے قاصر رہا،کافی عرصے بعد جب انھوں نے مجھے دیگر گھوڑوں سے جداکر دیا تومیری سمجھ میں آیااور اس وقت میں یہ تک نہ دیکھ سکا کہ اس کا مطلب کیا ہے،جب انھوں نے مجھے انسان کی ملکیت قرار دیا۔
لفظ ’’ میرا گھوڑا‘‘ میرے لیے زندہ گھوڑے کا حوالہ بنا اور مجھے ’’ میری زمین ‘‘،’’ میری ہوا‘‘اور’’ میرے پانی‘‘ کے الفاظ نے حیرت زدہ کردیا لیکن ان الفاظ نے مجھ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔میں ان کے بارے میں مستقل طور پر سوچتا رہا۔لوگوں کے ساتھ مختلف قسم کے تجربات کے بعد مجھے سمجھ آئی کہ آخر کار ان کا مطلب کیا ہے،ان کا مطلب تھا :زندگی میں (وہ)الفاظ سے راہنمائی لیتے ہیں نہ کہ اعمال سے۔یہ کافی نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کے کرنے یا نہ کرنے کے امکان سے محبت کریں،جیسا کہ مختلف عنوانات پر بذریعہ الفاظ بولنے کے امکان پر(وہ) ایک دوسرے سے متفق تھے۔ایسے الفاظ جیسا کہ ’’میرا‘‘جس کا وہ مختلف چیزوں ،مخلوقات ،اشیا،حتیٰ کہ زمین اور گھوڑوں پر بھی اطلاق کرتے تھے۔ان کا اس بات پر اتفاق تھا کہ صرف ایک شخص ہی کسی شے کے بارے میں ’’ میرا ‘‘ کا لفظ استعمال کر سکتا ہے۔ ایک شخص جو کئی چیزوں کے بارے میں ’’ میرا‘‘ کا لفظ استعمال کرتا تھا ۔ان کے باہمی سمجھوتے کے مطابق(جو انھوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کر رکھا تھا)اسے وہ پر نشاط تصور کرتے تھے۔میں اس نکتے کو نہیں سمجھ سکا لیکن یہ ہے حقیقت۔طویل عرصے تک میں نے خود کو حقیقی معنوں میںواضح کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے اس وضاحت کو مسترد کرنا پڑا کیوں کہ یہ غلط تھی۔
ان میں سے کئی ایسے ہیں جو مجھے ذاتی خیال کرتے تھے لیکن کبھی ڈنڈا نہیں مارا،اگرچہ دوسرے ایسا کر لیتے تھے اور یہی معاملہ ان کا بھی تھا جو مجھے خوراک دیتے تھے۔کوچوان ، سائیس اور عموماً باہر سے آنے والے مجھ سے رحمدل دلانہ سلوک کرتے،تاہم جو مجھے ذاتی سمجھتے تھے ان کا معاملہ اس سے برعکس تھا۔مقررہ وقت میں میرے مشاہدے کے دائرہ کار میں وسعت پیدا ہوئی،میں نے خود کو مطمئن کیاکہ ’’میرا‘‘ کا اشارہ (لفظ) ہم گھوڑوں سے متعلق ہے جس کی بنیاد انسانی جبلت کی تنگی کے سوا کچھ نہیں ،جسے وہ شعور یا ذاتی ملکیت کا حق قرار دیتے ہیں ۔ایک آدمی کہتا ہے۔’’ یہ میرا گھوڑا ہے‘‘اور کبھی اس میں زندگی بسر نہیں کرتا ،وہ محض اس کی تعمیر وترقی کے بارے میں فکر مند رہتا ہے۔ایک سوداگر کہتا ہے۔’’ میری دکان‘‘ یا ’’ میری خشک اشیا والی دکان‘‘اور اپنی دکان میں موجود عمدہ اور قیمتی کپڑوں میں سے ایک بھی نہیں پہنتا۔ایسے لوگ بھی ہیں جو زمین کے قطعہ کو اپنا خیال کرتے ہیں لیکن انھوں نے نہ کبھی اسے دیکھا نہ اس پر گھومے پھرے۔ایسے لوگ بھی ہیں جو دوسروں کو اپنا کہتے ہیں،انھوں نے کبھی انھیں دیکھا تک نہیں۔ان کے(اور ان کی ملکیت ) کے مابین کل رشتہ یہ ہے کہ نام نہاد’’مالکین‘‘دوسروں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرتے ہیں ۔کچھ لوگ عورتوں پر ملکیت ظاہر کرتے ہیں اور انھیں ’’ بیگمیں ‘‘ کہتے ہیں لیکن ان کی عورتیں دیگر مردوں کے ساتھ رہتی ہیں۔لوگ زندگی میں اچھائی کی جدو جہد نہیں کرتے لیکن اشیا کی ملکیت کے لیے ضرور کوشش کرتے ہیں ۔میں اس بات کا قائل ہو گیا ہوں کہ ہم میں اور انسانوں میں واضح فرق موجود ہے۔اس لیے ایسا کچھ نہیں سوچا جا سکتا جس میں ہم بر تر ہوں لیکن ایک اچھی بات یہ سوچی جا سکتی ہے کہ ہم بہادری سے زندہ مخلوقات کی سیڑھی پر انسان سے بر تر سطح پر کھڑے ہونے کا دعوا کر سکتے ہیں۔انسان کے اعمال، جن کے ساتھ کم از کم میں برتاؤ کرتا رہا ہوں ،الفاظ سے راہنمائی لیتے ہیں جب کہ اپنے کارناموں سے ۔
کہانی کے اختتام سے پہلے گھوڑا مر جاتا ہے لیکن کا راوی کاانداز اور تکنیک نہیں بدلتی:
’’ کافی دیر بعد وہ ’’ سر پوخووسکی‘‘کی لاش کو رکھتے ہیں جس نے دنیا کا تجربہ کیاتھا ،جس نے زمین پر کھایا پیا تھا۔انھوں نے منافع کی خاطر اس کی کھال ،گوشت اور ہڈیاں کہیں نہیں بھیجیںلیکن اس کی کھال گزشتہ بیس برسوں سے ہر ایک کے لیے بوجھ تھی۔اس کی تدفین لوگوں کے لیے سطحی(زاید) خجالت کا باعث تھی۔طویل عرصے تک نہ تو کسی کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی بلکہ یہ لوگوں پہ بوجھ بھی بنا رہا ۔اس کے باوجود جس مردے نے دوسرے مردے کو دفنایا،یہ ضروری سمجھا کہ پھولی ہوئی لاش کوجو جلد ہی خراب ہونا شروع ہو جائے گی،کو اچھی سی یونیفارم اور بوٹ پہنائے جائیں،اس پر نیا کفن ڈالا جائے جس کے چاروں کونوں پر پھندنے لگے ہوں ،پھر اسے بحری جہاز میں ڈال کر ماسکو لے جایا جائے،وہاں قبر کھود کر قدیم ہڈیوں کو باہر نکالا جائے اور اس جگہ متعفن لاش کو کیڑوں کے گروہ میں نئے یونیفارم اور صاف ستھرے بوٹوں سمیت دفن کر دیا جائے۔‘‘
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ٹالسٹائی کہانی کے آخر پر بھی تکنیک کا استعمال جاری رکھتا ہے جب کہ اس کی ضرورت (اس کے استعمال کی وجہ سے) باقی نہیں رہی۔’’ جنگ اور امن ‘‘ میں پوری جنگ کے بیان میں یہی تکنیک استعمال کرتا ہے جیسے جنگیں کوئی نئی شے ہوں۔یہ بیانات اتنے طویل ہیں کہ ان کے اقتباسات درج نہیں کیے جا سکتے۔یہ ضروری ہوگا کہ چارجلدوں پر مشتمل ناول کے اہم حصوں کے خلاصے ( نچوڑ) بیان کر دیے جائیں ۔ٹالسٹائی مہمان خانے اور تھیٹر کے بیان میں یہی طریقہ استعمال کرتا ہے:
’’ سٹیج کا درمیانی حصہ چپٹے بورڈوں پر مشتمل تھا جس کے اطراف میں درختوں کی تصویریں آویزاں تھیں اور ان کے عقب میں لینن کا کپڑا فرشی بورڈوں تک پھیلا یا گیا تھا ۔سرخ انگیاؤں اور سفید چولیوں میں ملبوس دو شیزائیں سٹیج کے درمیان میں براجمان تھیں ۔ایک فربہ اندام سفید ریشمی لباس پہنے ساتھ والے تنگ بینچ میں بیٹھی تھی جس کے پیچھے سبز رنگ کا پلیٹ بورڈ کا ڈبہ چپکایا گیا تھا۔وہ سب گا رہے تھے ،جب انھوں نے گانا ختم کیا ،سفید لباس والی دوشیزہ آمادہ کار(Prompter)کے صندوق کے پاس گئی ۔ایک آدمی ریشمی لباس پہنے موٹی ٹانگوں پر چپکی ہوئی پینٹ پہنے اس کے قریب آیا اور مایوسی کے عالم میں اس کے گرد بازو پھیلاکر گانا گانا شروع کر دیا۔(جسم پر)چپکی ہوئی پینٹ والے(Tight-fitting Pant) نے اکیلے ہی گانے کا کچھ حصہ گایااور اس کے بعد لڑکی نے اسے مکمل کیااور پھر دونوں خاموش ہو گئے۔جیسے ہی موسیقی دوبارہ بجی وہ اپنے حصے کا گانا مکمل کرنے کا منتظر تھا،اس نے سفید کپڑوں والی لڑکی کے ہاتھو ں پر انگلیاں چلانا شروع کر دیں،انھوں نے دو گانا ختم کیا۔تھیٹرمیں موجود ہر شخص نے تالیاں، اور منہ سے زور دار آوازیں نکال کرانھیں داد دی۔سٹیج پر موجود مرد اور عورت نے ،جنھوں نے عاشقوں کا کردار ادا کیا تھا ، جھکے ، مسکرائے اور ہاتھ ہوا میں بلند کیے۔دوسرے ایکٹ میں تصویروں پر نقش یادگاروں کو لینن کے کپڑے میں جو چاندنی کی نمایندگی کر رہا تھا ،عیاں کیا گیا ۔انھوں نے فریم میں لیمپ کے سایوں کو بلند کیا،جب موسیقاروں نے ارگن بجائے تودائیں بائیں سے سیاہ لبادے اوڑھے لوگوں کی بڑی تعداد سٹیج پر نمودار ہوگئی ،ان کے ہاتھوں میں خنجر تھے(انھوں نے) ہاتھوں کو لہرانا شروع کردیا،پھر مزید لوگوں کی بھاگ دوڑ شروع ہوئی اور وہ اس دوشیزہ کو گھسیٹ کر دور لے گئے ۔جس نے سفید لباس زیب تن کیا ہوا تھا ،وہ اب آسمانی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھی۔انھوں نے اسے عجلت میں نہیں گھسیٹابلکہ اس کے ساتھ دیر تک گاتے رہے۔دائیں بائیں کے مناظر سے دکھائی دیا کہ انھوں نے اسے کسی دھاتی شے سے تین بار ضرب لگائی ، ہر شخص نے ناچ گانا کیا اور بھجن گائے ۔متعدد بار تماشائیوں کے پُر جوش نعروں نے اس سر گرمی میں خلل ڈالا۔‘‘
کوئی بھی جو ٹالسٹائی سے واقف ہے اس کے کام سے سیکڑوں ایسے پیراگراف کی نشان دہی کر سکتا ہے۔عام تناظر سے اس کے چیزوں کو دیکھنے کا طریقہ کار (انداز) اس کے آخری کام میں نمایاں ہے۔ٹالسٹائی نے رسومات اور فرسودہ عقاید کو بیان کیا ،ان پر وہ ایسے حملہ آور ہوا جیسے وہ نامانوس ہوں ۔الفاظ کے حسبِ معمول معنی کو جو گرجا گھر کی رسومات میں عام تھے ،اس نے عام بول چال کے معنوں میں بدل دیا۔کئی اشخاص جیسے زخموں سے کراہ اٹھے ہوں ، انھوں نے اسے گستاخی قرار دیا ۔جسے وہ مقدس خیال کرتے تھے اس نے انھیں اجنبی اور دیوتا آسا بنا کر پیش کیا۔اس کی بڑی وجہ وہ تکنیک تھی جس کے ذریعے ٹالسٹائی نے ماحول کا ادراک کیا اور اسے بیانیہ شکل دی ۔طویل عرصے تک جس سے وہ گریز کرتا رہا ،اس سے رو گردانی کر نے کے بعد، وہ اس نتیجے پر پہنچاکہ اس کے ادراکات نے اس کے ایمان کو متزلزل کر دیا ہے۔
اجنبیانے کے فن کی تکنیک صرف ٹالسٹائی کے ہاںنہیں ہے ، میں نے ٹالسٹائی کے کا م کی مثال دی کیوں کہ اس سے زیادہ لوگ واقفیت رکھتے ہیں۔اب اس تکنیک کی اصل کی وضاحت کرتے ہوئے،اس کے نفاذکی حدود کا کسی حد تک تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر یہ محسوس کرتا ہوں کہ اجنبیانے کا عمل ہر اس جگہ موجود ہے جہاں ہئیت موجود ہواور پیکر زندگی کی تغیر پذیر پیچیدگیوں کے لیے مستقل حوالہ (Referent)نہیں ہے جو اس کے ذریعے آشکار ہوتی ہیں ۔اس کا مقصد ہمیں معنی کا ادراک کرانا نہیں ہے بلکہ شے کا مخصوص ادراک تخلیق کرنا ہے۔ہر شے کو جاننے کے ذرائع کے بجائے (ادراک)شے کی بصیرت تخلیق کرتا ہے۔
اس طرح کی تشکیلات جیسے “The Pester and the Morter”یا”The Old Nick and Infernal Region”بھی اجنبیانے کے عمل کی مثالیں ہیں۔میرا مضمون جو پلاٹ کی تشکیل کے ضمن میں تحریر کیا گیا ہے میں نے اس میں اجنبیانے کے عمل کی نفسیاتی متوازیت پر لکھا ہے۔یہاں اس کا اعادہ کرتا ہوں کہ متوازیت میں غیر ہم آہنگی کاا دراک ہم آہنگ تناظر میں اہم ہے ۔متوازیت کا مقصد ، پیکر تراشی کے عمومی مقصد کے مانند ، شے کے معمول کے ادراک کونئے ادراک کے کُرے میں منتقل کرنا ہے،اسی لیے معنوی سطح پر نادر تبدیلی لائی جاتی ہے۔شاعرانہ تقریر کے مطالعے سے آشکار ہوتا ہے کہ اس کی فونیمیاتی،لغوی ساخت،لفظوں کی تقسیم کی خصوصیات اور اس کی فکری ساخت کی خوبیاں الفاظ سے تشکیل پذیر ہوتی ہیں ۔ہم ہر جگہ فنکارانہ ٹریڈ مارک کا سامنا کرتے ہیں،اس لیے کہ ہمیں مادے سے واسطہ پڑتا ہے جو بدیہی طور پر خود کاریت(Automatism)یا ادراک کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہوتا ہے۔مصنف کا کام بصیرت کی تخلیق کرنا ہے جو ادراک کی خود کاری کے الٹ سے بر آمد ہوتا ہے۔(ادبی) کام فنکاری سے تخلیق کیا جاتا ہے تاکہ ادراک میں مزاحم ہواور اسے سست رو بنا دے ۔اس ڈھیل (التوا) کے نتیجے میں شے کا ادراک خلاکی وسعت میں نہیں ہوتا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنے تسلسل کے باعث معرضِ ادراک میں آتا ہے۔پس شاعرانہ زبان اطمینان بخش ہے۔ارسطو کے بقول شاعرانہ زبان کو اجنبی اور حیرت زا ہونا چاہیے۔دراصل یہ اکثرغیر ملکی ہوتی ہے :سومیری آشوریوں کی زبان، قرونِ وسطیٰ میں یورپی لاطینی زبان،عرب فارسیوں کی زبان،قدیم بلغاری روسی ادب کی زبان استعمال کرتے رہے ہیں یا شاعرانہ زبان کو مقامی گیتوں کی زبان سے ترفع بخشا جاتا ہے۔ شاعرانہ زبان کی عام قدامت (Archaism)،نئے شیریں اُسلوب کی پیچیدگی،آرناٹ ڈینیل کے سے مبہم اسلوب مع سخت (Roughened)ہیئت جو تلفظ میں اشکال پیدا کرتی ہے،انھیں ایک ہی پیرائے میں استعما ل کیا جاتا ہے۔لیو جیکبنسکی نے اسے علم الاصوات کا اصول کہا ہے کہ مماثل آوازوں کی تکرار سے (شاعرانہ زبان کو) سخت (rough)بنایا جاتا ہے یوں شاعری کی زبان ، مشکل ،سخت اور مزاحم بن جاتی ہے۔چند خاص مثالوں میں شاعری کی زبان ،نثر کی زبان کے قریب چلی جاتی ہے لیکن یہ زبان کی سخت ہئیت (Roughened Fom)سے تجاوز نہیں کرتی۔
اس کی بہن تے تیانہ
پہلی بارارادتاً ہم
اس کی نزاکت اجالیں گے
اسی نام کے ساتھ،ناولوں کے اوراق میں
یہ پشکن کی تحریر ہے۔عام طور پر پشکن کے ہم عصروں میں درژے ون کا پر تکلف اسلوب رائج تھالیکن پشکن کا اسلوب چوں کہ عام سا دکھائی دیتا ہے،غیر متوقع اور مشکل تھا ۔ہمیں اس کے جملوں کے عامیانہ پن پر اس(پشکن) کے معاصرین کی بے چینی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔اس نے عام بول چال کی زبان کو توجہ میں طول دینے کی غرض سے بطورِ خاص حربہ استعمال کیا ہے جب کہ اس کے ہم عصر عام طور پر فرانسی تقریر میں روسی الفاظ استعما ل کرتے تھے ۔
ہنوز مزید خصوصیات کا حامل مظہر رو بہ عمل ہے۔روسی ادبی زبان جو ابتدا میںروس کے لیے غیر ملکی تھی،لوگوں میں اتنی سرایت کر گئی ہے کہ اب ان کی گفتگو کا لازمی حصہ بن گئی ہے۔اس کے بر عکس اب ادب نے مقامی زبانوں کے لہجوں اور بر بری زبانوں سے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔حال ہی میں میکسم گورکی نے پرانی ادبی زبان کی لفظیات کو لیسکوف کے عام بول چال کے محاورے سے بدل دیا ہے۔عام گفتگو اور ادبی زبان نے اب ایک دوسرے کی جگہ بدل لی ہے اور آخر کار خلیبنیکوف کی راہنمائی میںنئی اور مناسب شاعرانہ زبان کو تخلیق کرنے کا نمایاںرجحان ظاہر ہوا ہے۔ان ارتقائی تبدیلیوں کی روشنی میں ہم شاعری کی تعریف لطیف اور پر پیچ زبان کے طور پر کر سکتے ہیں ۔شاعرانہ بیان اب ایک تشکیل شدہ بیان ہے۔نثر آسان ،عام فہم اور مناسب بیان ہے۔نثر کی اچھائی اب نثر کی راستی ،سطحیت اور بچے کے سے براہِ راست جملوں سے جُڑی ہے۔میں کھردری ہیئت(Roughened Form)اور مزاحمت (Retardation)کو بطور طوالت کے عمومی قانون کے پلاٹ کی تشکیل کے مضمون میں زیرِ بحث لاؤں گا ۔اس کے باوجود ان لوگوں کو جو فنکارانہ توانائی کے صرفے کے تصور پر زور دیتے ہیں ،جیسے شاعرانہ زبان پہلی نظر میں دکھائی دیتی ہے اور جیسے وہ موجود ہوتی ہے، کے مابین فرق کرتے ہیں۔(ان کا یہ مؤقف) ردھم کے مسئلے کے لیے قابلِ مدافعت ہے۔ سپنسر کا ردھم کے بارے میں بیان مطلقاًغیر متنازع دکھائی دیتا ہے:
’’جب جسم بدل بدل کر لگنے والی ضربوں کے سلسلے کو برداشت کرتا ہے تو اس کے پٹھوںکو شدید چوٹ سہنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔اسے نہیں معلو م کہ ایسی چوٹ کب لگے گی۔دماغ کو ان بے ترتیب ضربوں سے نبٹنے کے لیے ،ادراک کو اتنا فعال رکھنا ہے کہ آسانی سے کمترین آواز کو بھی پہچان لے۔اگر ضربیں ایک ترتیب اور مناسب وقفوں سے ہوں تواپنی قوتوں کو مجتمع کر کے ہر ضرب کے خلاف حسبِ ضرورت مزاحمت کرے گا ۔اگر آوازوں کو ردھم کے ساتھ ترتیب دیا جائے تودماغ ہر آواز پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے درکار توانائی کو اعتدال پہ لے آئے گا ۔
یہ سطحی مشاہدہ ،نثری اور شعری زبان کے قوانین میں تذبذب کی وجہ سے عام مغالطے کا شکار ہوتا ہے۔اسلوب کے فلسفے میں سپنسر ان دونوں میں فرق کرنے میں ناکام رہا ہے۔ردھم کے دو وظائف ہو سکتے ہیں۔نثر کا ردھم یا’دوبینشکا‘ کے گیت کے مانند کا کام ،عملے کے ارکان کو چھٹی دیتا ہے کہ وہ مل کر واویلا کریں اور خودکار طریقے سے اسے سہل بنائیں۔ در حقیقت موسیقی کے ساتھ چلنااس کے بغیر چلنے سے آسان ہے اور اس سے بھی زیادہ آسان اور زندگی سے لبریز(پُر جوش) گفتگو کرنا ہے،کیوں کہ چلنا تو لاشعوری عمل ہے،پس نثر کا ردھم شاعری کے ردھم کے بر عکس اہم خود کار عنصر ہے۔فن میں ترتیب ہوتی ہے،تاہم یونانی مندر کا ایک بھی ستون پوری طرح ترتیب میں نہیں ،شاعرانہ ردھم اسی طرح بے ترتیب ردھم ہے ۔ بے قاعدگیوں کو نظم میں لانے کی کوششیں کی گئی ہیں اوراس طرح کی کوششیں موجودہ ردھم کی تھیوری کا حصہ ہیں ،یہ واضح ہے کہ منظم کرنے کا عمل کام نہیں کرے گا ،کیوں کہ در حقیقت مسئلہ ردھم کی پیچیدگی کا نہیں ہے بلکہ ردھم کی بے ترتیبی کا ہے،ایک ایسی بے ترتیبی جس کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ردھم کی بے ترتیبی گفتگو نہیں بن سکتی ۔یہ زبان کو سخت (Roughening)بنانے کے مرحلے میں بے اثر ہوگی۔میں ردھم کو مزید زیرِ بحث نہیں لاؤں گا کیوں کہ میں اس پہ کتاب تحریر کرنے کا فیصلہ کر چکا ہوں ۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post