عالمی ڈرامے کے اُردو تراجم : پروفیسرمجاہد حسین

’ایک سدا بہار آدمی‘دراصل ایک قتل کی رُوداد ہے جو رابرٹ بولٹ کی تخلیق ہے۔ پروفیسر ظفر المحسن پیرزادہ اس کے مترجم ہیں۔ ادارہ تالیف و ترجمہ جامعہ پنجاب لاہور سے جنوری ۲۰۱۳ء میں یہ کتاب منظر عام پر آئی۔ اس کا انتساب فاضل مترجم نے سابق وائس چانسلر جامعہ پنجاب ڈاکٹر مجاہد کامران کے نام منسوب کیا ہے۔ ۲۱۹ صفحات پر مشتمل اس کتاب کا دیباچہ ’حرفِ آغاز‘ کے نام سے ڈاکٹر اورنگزیب عالم گیر نے تحریر کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں:
’’عصرِ حاضر کے ڈراما نگاروں میں رابرٹ بولٹ کا نام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ جرمن استاد و ڈراما نگار بریخت کے مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے اس ڈراما نویس نے اسٹیج ڈرامے کی ہئیت اور تکنیک کے اعتبار سے بے حد اہم اور انقلابی اقدامات کئے جنہوں نے اس فن کی آبیاری اور نشوونما میں نمایاں کرار ادا کیا۔‘‘۱ ؎
مشہور انگریز دانشور و مدیر سر تھامس مور کے بارے میں بولٹ کے ڈرامے “A Man for All Seasons” کا شمار انتہائی کامیاب اور مؤثر ڈراموں میں ہوتا ہے۔ پروفیسر ظفر المحسن پیرزادہ نے اس ڈرامے کو ’اک سدا بہار آدمی‘ کے نام سے آزاد ترجمہ کی صورت میں اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ ان کا اسلوب بہت سلیس ہے، ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کے اسلوبِ نگارش کے حوالے سے رقمطراز ہیں۔
’’پروفیسر ظفر المحسن پیرزادہ بنیادی طور پر طبیعات کے پروفیسر ہیں لیکن مختلف موضوعات پر مطالعے کے شائق ہیں۔ اردو زبان و ادب سے بھی لگاؤ رکھتے ہیں جس کا ثبوت وہ کتابیں فراہم کرتی ہیں جو انہوں نے انگریزی سے اردو میں منتقل کی ہیں۔ یہ کتابیں متنوع موضوعات پر ہیں اور مترجم کی دونوں زبانوں پر مہارت کا ثبوت مہیا کرتی ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ’اک سدا بہار آدمی‘ جانے پہچانے انگریزی ڈراما نگار رابرٹ بولٹ کے ایک مشہور اور مقبول ڈرامے “A Man for All Seasons” کا اردو ترجمہ ہے۔ بولٹ جدید انگریزی ڈرامے کا ایک اہم نام ہے جس نے ڈرامے کی صنف میں تجربات کیے ہیں لیکن اس سے اس کے ڈراموں کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ تخلیقی ادب کا ترجمہ مختلف النوع تراجم میں بہت مشکل سمجھا جاتا ہے لیکن بالخصوص شاعری اور ڈرامے کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا مشکل تر ہے۔ پروفیسر پیرزادہ نے اصل ڈرامے کو اس کامیابی سے اردو میں منتقل کیا ہے کہ مصنف کے اسلوب کا اندازہ ہونے کے ساتھ ساتھ مترجم کی اردو زبان پر مہارت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ مکالمات کو اس خوبصورتی سے اردو کا جامہ پہنایا گیا ہے کہ اصل کی بے ساختگی، روانی اور قوت سے اردو کا قاری بخوبی آشنا ہو جاتا ہے۔ پیرزادہ صاحب کی یہ کاوش اردو زبان کے قارئین کے لئے ایک نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔‘‘ ۲؎
زیرِ نظر ڈرامے کی تفہیم کے لئے اس کے کرداروں کا مختصر تعارف ضروری ہے۔
عام آدمی ، ادھیڑ عمر۔ سرتاپا ایسا سیاہ چست لباس پہنے ہوئے جس میں باہر نکلی ہوئی توند نمایاں ہے، چہرے سے ہشیاری عیاں۔ غیر سنجیدہ اور شفیق، گھٹیا مزاح اور پھکڑ پن سے بے حد محظوظ ہونے والا۔
سر تھامس مور، پینتالیس اور پچاس کے درمیان عمر۔ زرد رنگت والا درمیانی جسامت کا شخص۔ زیادہ طاقت ور نظر نہیں آتا۔ لیکن ذہانت اور عالی دماغی ایسی کہ پوری شخصیت منور دکھائی دے۔ حرکات و سکنات کشادہ اور تیز لیکن مہذب۔ قدرتی طور پرمتوازن اور معتدل مزاج۔ چہرے کے خدوخال دانشورانہ اور بہت جلد مسرور ہوجانے والے۔ سنجیدگی اور خلاقیت کا مثالی نمونہ۔ صرف انتہائی بحران کے عالم میں تارک الدنیا زاہدِ خشک دکھائی دیتا ہے۔
رچرڈ رِچ، عمر تیس کے پیٹے میں، اچھی جسامت لیکن غیر ورزشی۔ ملول پڑھا کو چہرہ جس پر بھوک کی چمک نمایاں ہے۔ عملی میدان میں داخلے سے ڈرتا ہوا کتابی کردار جو ہر وقت اپنے آپ کو بچانے کے چکر میں رہتا ہے۔
ڈیوک آف نارفوک، عمر لگ بھگ پچاس سال۔ بھاری بھرکم ہوتے ہوئے چست و چالاک۔ روایتی فرض کی بجا آوری کی زنجیر میں بندھا غیر لچک دار لڑاکا سپاہی اور کھلاڑی۔ اپنی غیر نمایاں اخلاقی اور علمی حیثیت سے بخوبی آگاہ لیکن نہایت شریف و عالی ظرف شخص۔ اسے اس بات کا کامل یقین ہے کہ اس کے اعمال و افکار کی اہمیت محض اس بنا پر ہے کہ ان کا تعلق اس ذات سے ہے۔
ایلس مور، پینتالیس سال سے زیادہ عمر، تاجر گھرانے میں پیدائش۔ اب نہایت معزز و مؤقر خاتون۔ دور سے مضحکہ خیز البتہ قریب سے اثر انگیز دکھائی دینے والی، بہت بنی ٹھنی ہوئی۔ معاشرے کے اطوار پر فریفتہ، بری طرح فیشن زدہ، لیکن بہادر، جذباتی و نرم دل۔ اپنے خاوند سے پوجنے کی حد تک محبت کرتی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں اطراف سے پریشان و بیزار۔
مارگریٹ مور، عمر بیس سال سے زیادہ، بے انتہا سرگرم، اخلاق سے مرصع خوبصورت لڑکی۔ ناگوار لمحات میں مخصوص سکوت اپنے اوپر طاری کر لیتی ہے۔ تکلیف سے بچنے کا یہ ہنر اس نے اپنے والد سے سیکھا ہے۔
کارڈینل وولسی، عمر رسیدہ کہنہ سال شخص، ایک بڑا مگر فرسودہ جسم، قرمزی رنگ کا لباس پہنے ہوئے۔ تقریباً احساس برتری کا شکار، خود پسند۔

تھامس کرام ویل، چالیس برس کے قریب، متین اور سنجیدہ، چہرے پر نشاۃِ ثانیہ کا پر غرور ملمع۔خود فریبی ایسی کہ بڑے سے بڑا جرم بھی ’عمل موثر‘ کے نام پر کرنے سے نہ ہچکچائے۔ یوں کہہ لیجئے کہ ایک ’دانشور غنڈہ‘۔
چیپیوس، ساٹھ کے پیٹے میں، ایک پیشہ ور سفارتکار۔ پادریوں جیسے سیاہ لباس میں ملبوس۔ بظاہر باوقار جہاندیدہ شخص لیکن درحقیقت ایک گنوار کی مانند گھٹیا اطوار کا مالک۔
چیپیوس کا مددگار، ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھنے والا زیر تربیت نو آموز سفارت کار۔
ولیم روپر، تیس سال سے اوپر کا، ٹھوس جسامت اور بے تاثر چہرے والا شخص۔ اوسط ذہانت کا مالک۔ اعتدال پسند دماغ، بلا کسی تخیل پروری کے۔ تاہم پوری ایمانداری سے اپنے دکھ، درد، مشاغل اور تفریحات کے بارے میں بے حد سنجیدہ۔
بادشاہ، خاصا نوجوان شخص، ڈاڑھی مونچھ صاف، روشن آنکھوں والا، باوقار اور کسرتی جسم، یورپ بھر میں نئی روشنی کی سنہری امید کی کرن۔ البتہ اپنی مطلق العنان طاقت کو جس چھچھورے پن سے وہ استعمال کرتا ہے، وہ مستقبل کی بدعنوانی کی غمازی کرتی ہے۔
ایک عورت، پچاس اور ساٹھ برس کے درمیان عمر۔ مرضی کی مالک، بزعم خود نہایت پاکباز، خود غرض، خفا و برہم۔
کرینمر، عمر لگ بھگ پچاس سال۔ چالاک دماغ والا ہشیار آدمی، وہ کلیسا کے منصب کو انتظامی عہدہ سمجھتا ہے اور مذہب کو رسوم و طریق کا مجموعہ۔ کیونکہ ذاتی حیثیت میں وہ ایک غیر مذہبی شخص ہے۔
ڈرامے کا سیٹ شروع سے آخر تک ایک جیسا ہی ہے البتہ اس میں روشنیوں کے بدلنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس کی ہئیت ڈیزائن کرنے والے پر منحصر ہے لیکن کسی حد تک ڈرامے کے ایکشن کا بھی اس میں عمل دخل رہے گا۔ میں نے اس سیٹ کا جو تصوراتی خاکہ بنایا ہے وہ ٹیوڈر عہد کی نمائندہ قدرے پست محرابوں والی ایک دوسرے کے اوپر دو گیلریاں۔ جن میں اسٹیج کے عقب یا باہر سے داخلہ ممکن ہو۔ اوپری گیلری سے زینے نیچے اسٹیج تک آتے ہیں۔ بالکنی کا تاثر دیتی آگے بڑھی ہوئی جگہ جس کے سامنے ڈیزائن دار پردہ پڑا ہوا ہے۔ ایک میز اور کرسیاں جو اس قدر بھاری بھرکم ہیں کہ انہیں اندر لانا یا باہر نکالنا دشوار ہے۔
ملبوسات بھی ڈیزائن کرنے والے کی مرضی کے مطابق ہی ہوں گے۔ تاہم میرے تصور میں اس دور کے ملبوسات کا کوئی حقیقی انداز موجود نہیں۔ البتہ میں سمجھتا ہوں کہ ملبوستان کے لئے سادہ رنگ استعمال ہونے چاہئیں۔ کارڈینل کے لئے گہرا نارنجی، مور کے لئے خاکستری، بادشاہ کو سنہری اور ڈیوک کے لئے سبز رنگ ہونا چاہئے جبکہ مارگریٹ کا لباس نیلا اور انتظامیہ کے افراد رِچ اور کرام ویل کے لئے سیاہ اور دھاری دار ملبوستان ہوں گے۔
مترجم نے اس ڈرامے کو بہت سلیس اندازِ تحریر میں پیش کیا ہے۔ اصل انگریزی متن ملاحظہ فرمائیے:
“These measurements, he will fulfil and by every means, wear the uniform of a pilot, but there will be a difference in the quality of cloth. His uniform will be made of gold. There is a need of extraordinary preparations to fulfil the innocent desires of king and someone has to do this. (Spreading my hands) during this, I prepare myself for extraordinary work, I think about them.” ؎3
ظفر المحسن نے درج بالا متن کی صورت میں رابرٹ بولٹ کے الفاظ کو اردو آزاد ترجمہ میں پیش کیا ہے اور تحریر کا حسن برقرار رکھا ہے۔ ترجمہ ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان کے الفاظ میں ڈھالنے کا نام ہے اور فاضل مترجم اس کام میں بڑے کامیاب نظر آتے ہیں۔
اب رابرٹ بولٹ کے ڈرامے کا اصل متن ملاحظہ فرمائیے۔ اصل ڈرامے کے صفحہ نمبر ۱۹۲ پر رابرٹ بولٹ لکھتا ہے:
” If the king died without an inheritor, these battles will begin again. Let him die without successor and then the ‘peace’, which you wish for, will disappear like candle after being burned out. Therefore, England needs an inheritor, for whom certain steps are crucial to take, these steps may not be considered a good omen (Ceremoniously, he said). Many of church’s affairs need improvement. (Moor smiled). It is fine.” ؎4
ان سطور کا ترجمہ پروفیسر ظفر المحسن نے ان الفاظ میں کیا ہے:
’’اگر بادشاہ بغیر (مرد) وارث کے مر گیا تو یہ لڑائیاں پھر شروع ہو جائیں گی۔ اسے بغیر وارث کے مرنے دو اور پھر یہ ’امن‘ جس کا تمہیں اتنا خیال ہے یوں غائب ہو جائے گا (موم بتی کو پھونک مار کر بجھا دیتا ہے) لہذا انگلستان کو وارث درکار ہے جس کے لئے کچھ معین اقدامات ضروری ہیں، جنہیں شاید سب لوگ اچھا نہ سمجھیں (تکلفاً کہتا ہے) کلیسا کے بھی بہت سے معاملات اصلاح طلب ہیں تھامس! … (مور مسکراتا ہے) ٹھیک ہے یہ تدبیریں ۔‘‘۵؎
ترجمے میں نہ صرف الفاظ تبدیل ہوئے ہیں بلکہ ایک پوری تہذیب تبدیل ہوتی ہے اور اس سے وابستہ تمام روایات بدل کر دوسری زبان میں تبدیل کرنا ہوتی ہیں نیز احساسات بھی تبدیل کیے جاتے ہیں۔ رابرٹ بولٹ نے بہت ہی سنجیدہ معاملہ پیش کیا ہے کہ اگر بادشاہ بغیر وارث کے مر گیا تو امن ختم ہو جائے گا۔ دیکھنے میں تو یہ صرف چند سطور ہیں مگر راوی کے برسوں کے تجربات اور احساسات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ پروفیسر ظفر المحسن نے کمال مہارت سے اسے اردو زبان میں ڈھالا ہے کہ وہی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو رابرٹ بولٹ کے اصل ڈرامے سے محسوس ہوتی ہے۔ ایک اور متن ملاحظہ فرمائیں:
” But Richard! Keep in mind that when you will be crowned a designation, people will propose you offices of every type, in many ways. Once, I had been offered the whole village (as a proof), which included a wind mill and a big edifice. Other than that, an armor house and God knows how many other things were included in it. I was not amazed by that.”؎6
اب پروفیسر ظفر المحسن کا اسلوب ملاحظہ فرمائیے:
’’لیکن رچرڈ! یہ بات یاد رکھو کہ جب تم کسی منصب پر ہوگے تو لوگ تمہیں ہر طرح کی پیش کشیں کرتے رہیں گے۔ مجھے تو ایک بار ایک پورے گاؤں کی (بطور رشوت) پیش کش کی گئی تھی معہ ایک عدد پن چکی اور بڑی حویلی کے۔ علاوہ ازیں اسلحہ خانہ اور خدا جانے کیا کیا کچھ اس میں شامل تھا۔ مجھے اس پر حیرانی نہیں ہوئی۔‘‘۷؎
پروفیسر ظفر المحسن نے جابجا اپنے منفرد اسلوبِ نگارش کے جوہر دکھائے ہیں۔ انھوں نے ایک بہترین مترجم ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ کہیں کہیں انھوں نے انگلش الفاظ کو ہوبہو برتا ہے۔ جہاں کہیں انھوں نے محسوس کیا ہے کہ اصل الفاظ ہی صحیح معانی و مطالب پیش کر سکتے ہیں، انھوں نے ہوبہو رکھ دیے ہیں۔ مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’میں اسے دریا کے نیچے کی طرف چلاتا ہوا ڈوجٹ بینک (Digget’s Bank) تک لے گیا۔ وہاں سے مڑا اور اوپر کی طرف ٹلبری روڈز (Tilbury Roads) تک لے آیا۔ اس بحری جہاز میں تو دنیا کے گرد چکر لگایا جا سکتا ہے۔۔‘‘۸؎
’اک سدا بہار آدمی‘ (A Man for All Seasons) کا مصنف رابرٹ بولٹ ۱۹۲۴ء میں مانچسٹر (Manchester) میں پیدا ہوا۔ اس کا والد ایک چھوٹی سی دکان کا مالک تھا لیکن بولٹ نے اپنے ملک کے بہترین ادارے مانچسٹر گرامر اسکول (Manchester Grammar School) سے تعلیم حاصل کی کیونکہ اس کے والدین تعلیم کی اہمیت اور قدر و قیمت سے بخوبی واقف تھے۔ کچھ عرصہ ایک بیمہ دفتر (Insurance Office) میں ملازمت کے بعد اس نے مانچسٹر یونیورسٹی (Manchester University) سے تاریخ کے مضمون میں ڈگری حاصل کی۔ ایکسیٹر یونیورسٹی (Exeter University) میں ایک سال پوسٹ گریجوایٹ تعلیم کے بعد رابرٹ بولٹ نے ایک گاؤں ڈیون (Devon) کے اسکول میں بطور استاد ملازمت کا باقاعدہ آغاز کیا۔ سات سال بعد اس کا تقرر مل فیلڈ (Millfield) میں شعبہ انگریزی کے سربراہ کی حیثیت سے ہوا۔ اس عرصے کے دوران اس نے متعدد ریڈیو ڈرامے تحریر کیے۔ ۱۹۸۵ء میں درس و تدریس کو خیرباد کہہ کر اپنا سارا وقت تصنیف و تالیف میں صرف کرنے کا فیصلہ کیا۔ ۱۹۵۰ء میں اس کے دو ڈرامے “The Tiger and The Horse” اور “A Man For All Seasons” بیک وقت لندن (London) کے تھیٹروں میں پیش کئے گئے۔ “A Man For All Seasons” کو انگلستان (England) اور امریکہ (America) میں نہ صرف بے پناہ کامیابی ملی بلکہ ۱۹۶۲ء میں نیویارک (New York) کے نقادوں نے اس ڈرامے کو ’سال کا بہترین غیر ملکی ڈراما‘ قرار دیا۔
رابرٹ بولٹ کو فلم سازی سے بھی دلچسپی رہی۔ اس نے “Lawrence of Arabia”، “Dr. Zhivago”، “Ryan’s Daughter” کے علاوہ کئی فلموں کے مسودے (Script) اور مکالمے لکھے۔ “A Man For All Seasons”کو فلم کے طور پر بھی پیش کیا لیکن یہ اسٹیج ڈرامے سے کافی مختلف تھی۔
زیرِ نظر ڈراما “A Man for All Seasons” پر فنی نقطہ نگاہ سے مشہور جرمن ڈراما نگار برٹولٹ یریکٹ (Bertolt Brecht) (۱۹۵۶ء۔۱۸۹۸ء) کی چھاپ نظر آتی ہے۔ بریخت نے فن ڈراما نگاری میں کئی نئے تکنیکی انداز استعمال کرنے کے علاوہ بہت سے اچھوتے تجربات بھی کیے ہیں۔ رابرٹ بولٹ نے بریخت کے زیر اثر ’ڈرامائی رزمیہ‘ (Epic Theater) تکنیک کو بھی استعمال کیا ہے۔ اس تکنیک کی ایک خوبی تاریخی واقعات و حقائق کو بالکل کمزور ربط والے مناظر کے سلسلے کے طور پر پیش کرنا ہے اور موجودہ ڈرامے میں ’عام آدمی‘ (The Common Man) کو ایک منظر سے دوسرے منظر میں لے جانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
ماڈرن تھیٹر (Modern Theater) کے حوالے سے بریخت کی ایک اور اہم پیش رفت ’تاثرِ بیگانگی‘ (Alienation Effect) سمجھی جاتی ہے۔ یہ ’ڈرامائی التباس‘ (Theatrical Illusion) کے بالکل برعکس ہے۔ یعنی ڈراما نگار ناظرین کو یہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کرتا کہ اسٹیج پر پیش کردہ واقعات حقیقتاً وقوع پذیر ہو رہے ہیں بلکہ جان بوجھ کر انہیں یاد دلاتا رہتا ہے کہ وہ تھیٹر میں موجود کرداروں کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اس ڈرامے میں ’عام آدمی‘ (The Common Man) مختلف دورانیوں میں بیک وقت ڈرامے کے اندر اور باہر مختلف کرداروں میں موجود رہتے ہوئے ’تاثر بیگانگی‘ (Alienation Effect) کو قائم و برقرار رکھتا ہے۔ تاہم یہ ’تاثر‘ بریخت یا اس کے پیروکاروں کے ڈراموں میں موجود ’بیگانگی‘ کے تاثر سے قدرے دھیما اور مختلف ہے۔
یریخت کے بعض مخالفین و ناقدین اس بات پر معترض رہے کہ اس نے اکثر ڈراموں کے موضوعات پرانے واقعات اور داستانوں سے لیے ہیں لہذا اس کے ہاں طبع زاد اخلاقیت (Originality) کا فقدان ہے۔ اس کے جواب میں بریخت کا کہنا ہے کہ پرانے واقعات اور کہانیاں ہمارے اجتماعی لاشعور کا حصہ ہیں۔ اس وجہ سے ان کے کردار معاشرے کے لئے اجنبی نہیں ہوتے اور ان کرداروں کے حوالے سے ڈرامے کے ذریعے اپنی بات کہنا اور اس کا ابلاغ زیادہ آسان ہے بجائے اس کے کہ نئے موضوعات اور غیر مانوس کرداروں کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے۔ بریخت کے اتباع میں رابرٹ بولٹ نے بھی سولہویں صدی کے مشہور واقعہ کو اپنے ڈرامے کا موضوع بنایا ہے۔
اس ڈرامے میں ’عام آدمی‘ کا کردار نہایت اہم اور نمایاں ہے اور اس کردار کی خوبی یہی ہے کہ ’یہ ہم سب میں مشترک ہے‘۔ ڈرامے میں ’عام آدمی‘ مختلف کرداروں میں جلوہ گر ہے۔ کہیں وہ مور کا خادم ہے، تو کبھی کشی ران، کہیں جیلر تو کبھی جلاد، لیکن اس کا رویہ ہر کردار میں یکساں ہے اور وہ ڈرامے سے باہر نکل کر ناظرین سے گفتگو کرنے اور طنزیہ انداز میں ڈرامے کے کرداروں کے افعال کی تشریح کرنے پر بھی قادر ہے جس کے باعث مختلف مناظر میں ربط و تسلسل برقرار رہتا ہے۔ اس کردار کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ ہر زمانے میں (بشمول ہمارے موجودہ دور کے) موجودہ مشترک رہا ہے۔
اس ڈرامے کے پس منظر کی تاریخِ انگلستان کافی مشہور ہے۔ شہنشاہ ہنری ہشتم جس کے باعث اور جس کے دور میں یہ سب واقعات رونما ہوئے اور جسے اپنی سفلی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہر ذہنی و جسمانی آسائش و سہولت میسر تھی …ایسا شخص جس کا حکم ماننے سے کوئی انکار نہیں کر سکتا تھا، اس سارے ہجوم میں مقبول ترین شخصیت کے طور پر نمایاں ہے۔ اس کی شخصیت میں ہمیں اپنے سِفلی جذبات و احساسات کا پرتو دکھائی دیتا ہے اور روایتی طور پر ہم اسی کے خیالات و احساسات سے حظ اٹھا کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔
اس کے مقابل ہمیں قرونِ وسطیٰ کے دور کا پورا مذہبی ڈھانچہ صف آرا نظر آتا ہے۔ مذہب جس کی بنیاد تو تقویٰ اور پرہیزگاری پر رکھی گئی تھی لیکن تب تک وہ ان پرشکوہ کلیساؤں کی مانند وسیع و عریض، بلند و بالا، بے لچک اور حرص و ہوس سے آلودہ ہو چکا تھا جنہیں شاہ ہنری نے اپنی تسکین کی خاطر بڑی ذلت و لاچاری کے ساتھ زمیں بوس کر دیا۔
اس تصادم کا آغاز یوں ہوا، جب ہنری ابھی شہزادہ تھا، اسے بادشاہ بننے کی کوئی امید نہیں تھی کیونکہ اس کا بڑا بھائی آرتھر (Arthur) موجود تھا۔ آرتھر کی شادی ہسپانیہ (Spain) کی شہزادی کیتھرائن (Catherine) سے ہو گئی لیکن جلد ہی آرتھر فوت ہو گیا۔ ہسپانیہ اور انگلستان (England) کے شاہی خانوادے اس ٹوٹے تعلق کو جوڑنا چاہتے تھے، جس کا صاف اور واضح طریقہ یہ تھا کہ آرتھر کی نوجوان بیوہ (کیتھرائین) کی شادی ہنری سے کر دی جائے جو اب تخت و تاج کا وارث بن چکا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ درپیش تھا کہ ہسپانیہ اور انگلستان عیسائی بادشاہتیں تھیں اور عیسائی قانون کے مطابق بھائی کی بیوہ سے شادی منع تھی۔
عیسائی ہونے کا مطلب کلیسا (Church) کے قوانین کی پیروی کرنا تھا اور ان دنوں محض ایک ہی کلیسا تھا (اگرچہ وہ بہت سی بدعتوں کا شکار ہو چکا تھا) اور پوپ (Pope) کو اس کا سربراہ ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ ہسپانیہ اور انگلستان کی عیسائی حکومتوں کی درخواست پر پوپ نے اس قانون سے صرفِ نظر کر لیا جو کسی شخص کو بھائی کی بیوہ سے شادی کرنے سے روکتا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ جب شہزادہ ہنری انگلستان کے تخت پر ہنری ہشتم کی حیثیت سے متمکن ہو اتو کیتھرائین اس کی ملکہ بنی۔
چند سالوں تک یہ شادی بخیر و خوبی چلتی رہی۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کا احترام کرتے اور باہمی پسندیدگی بھی موجود تھی۔ ہنری کے اور بھی مشاغل تھے لیکن محض ہلکے پھلکے۔ تاہم بالآخر بادشاہ کی خواہش اپنی بیوی کو طلاق دینے کی ہو گئی۔
طلاق کی خواہش کے محرکات ایک شہنشاہ میں بھی عام لوگوں کی مانند غیر یقینی، دوراز کار اور لاچار کرنے والے ہی ہوتے ہیں۔ تاہم تین قرینِ قیاس وجوہات یہ سمجھی جا سکتی ہیں، کیتھرائین وقت گزرنے کے ساتھ بہت زیادہ خشک مزاج اور حد درجہ مذہبی ہو گئی تھی، شہنشاہ، این بولین (Anne Boleyn) کے دامِ الفت کا اسیر ہو گیا تھا۔ ہسپانیہ سے ملکی تعلقات ختم ہونے کو تھے اور اس بارے میں حکومتی رویہ بھی مخاصمانہ ہو چکا تھا۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی وجہ ایسی نہ تھی کہ طلاق ضروری ہو جاتی، البتہ ایک چوتھی وجہ سے معاملہ اس نہج تک پہنچا۔ وہ یہ کہ کیتھرائین کے بطن سے ہنری کا کوئی بیٹا پیدا نہ ہو سکا اور اب وہ تقریباً بانجھ ہو چکی تھی۔ گو کیتھرائین سے ہنری کی ایک بیٹی موجود تھی لیکن سارے ریاستی زعما اس بات پر متفق تھے کہ انگلستان پر کسی ملکہ کی حکمرانی کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔ این بولین اور ہنری پُر اعتماد تھے کہ ان کے ہاں بیٹا ہو سکتا ہے لیکن یہ بیٹا اسی صورت ہنری کا وارث ہوتا اگر این بولین، ہنری کی بیوی بن جاتی۔
پوپ سے ایک بار پھر رجوع کیا گیا، لیکن اب کے صرف انگلستان نے۔ اسے کہا گیا کہ وہ کیتھرائین کی ہنری سے شادی کو اس بنیاد پر باطل قرار دے دے کہ یہ اس کلیسائی قانون کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت بھائی کی بیوہ سے شادی کو منع کیا گیا ہے لیکن اب انگلستان کی جانب سے شادی کو فسخ قرار دینے اکا صرار ہسپانیہ کی طرف سے اس کو صحیح سمجھے جانے پر زور دینے کے باعث تعدیل ہو گیا اور ان دنوں پوپ پوری طرح ہسپانیہ کے زیر اثر تھا کیونکہ روم (Rome) جہاں پوپ کی رہائش تھی اسے ہسپانی فوجیں پوری طرح تاراج کر کے وہاں قابض تھیں۔ علاوہ ازیں ہم تصور کر سکتے ہیں کہ فطری طور پر پوپ اس بات سے کس قدر ناخوش ہوا ہوگا کہ اس کے اختیارات کو پانی کی ٹونٹی کی مانند کھولا یا بند کیا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں بہت سوچ بچار اور ٹال مٹول کے بعد جبکہ ہنری اپنے بڑھتے ہوئے غصے کو دبائے منتظر تھا، یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ جہاں تک پوپ کا تعلق ہے شاہ ہنری کی ملکہ کیتھرائین سے شادی قائم رہے گی۔
ایک مطلق العنان شہنشاہ کی بے چینی و بے قراری عاشق کے جذبات میں ڈھل کر دوچند ہو گئی تھی، جس سے معاملہ مزید گھمبیر ہو گیا اور اب یہ شہنشاہ اور اس کے مقربین کے لئے زندگی یا موت کا مسئلہ بن چکا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ بائبل (Bible) میں ایسی شادیوں (جس طرح کی اس نے کیتھرائین سے کی تھی) کے بارے میں واضح احکامات موجود تھے کہ یہ ممنوع ہیں اور اس کی سزا بھی (اپنے مرد جانشین سے محرومی کی صورت میں) وہ بھگت رہا تھا۔ اوہ اس وقت حالتِ گناہ میں تھا۔ اسے اس حالتِ گناہ میں اس کے والد نے پوپ کی مؤثر مدد سے دھکیلا تھا اور اب پوپ اسے مسلسل حالتِ گناہ میں رکھنا چاہتا تھا۔ ہنری سمجھتا تھا جو شخص دوسرے کو حالتِ گناہ میں رکھنا چاہے اسے خدا کے فرستادہ (اوتار) ہونے کا دعویٰ زیب نہیں دیتا اور بلاشبہ اس سارے معاملے کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہنری اس نتیجے پر پہنچا جس کے لئے صدیوں سے مختلف آوازیں بلند ہوتی رہی تھیں کہ نام نہاد پوپ کی حیثیت معمولی بشپ (Bishop) سے زیادہ کچھ نہیں تھی وہ محض روم کا بشپ تھا۔ یوں ہر چیز نہایت واضح اور ہر کام ممکن ہو گیا۔ اگر پوپ کلیسا کا سربراہ نہیں بلکہ دوسرے پادریوں کی مانند عام بشپ ہے تو اس کے بطور سربراہِ کلیسا خصوصی اختیارات بھی موجود نہیں۔ خصوصی طور پر بلا شبہ اس کے پاس (لیوٹکس ۱۸ میں درج شدہ) خدائی حکم کو نظر انداز کرنے کا کوئی اختیار نہ تھا لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ایک اہم بات یہ تھی کہ اس کے پاس دوسرے بشپوں (Bishops) کی تعیناتی کے اختیارات بھی نہیں تھے۔ یوں ایک اور قدیم جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا۔
اگر پوپ کے پاس بشپ کی تقرری کے اختیارات نہیں تھے تو پھر شہنشاہ کے علاوہ یہ اور کس کے پاس ہو سکتے تھے؟ شہنشاہ ظلِ الٰہی کے پاس! ہنری کے اجداد، سارے دوسرے ہنری، یہ سوچنے میں بلاشبہ حق بجانب تھے کہ روم کے بشپوں نے ذرہ بھر قانونی جواز کے بغیر صدیوں سے (مذہب کے نام پر) ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی تھی۔ یہ تو (ایک طرح سے) شہنشاہ کے اختیارات کو غصب کرنے کے مترادف تھا اور یہ سلسلہ عرصہ ٔ دراز سے جاری تھا۔ ایسی سوچوں سے اس کا غیظ و غضب مزید بڑھتا گیا اور اس نے طے کر لیا کہ یہ معاملہ مزید جاری نہیں رکھا جا سکتا۔
اب اسے ایک اچھے بشپ کی تلاش تھی جسے بشپ آف کنٹربری (Biship of Canterbury) تعینات کیا جا سکے۔ ایسا بشپ جو مرحوم بھائیوں کی بیویوں کے بارے میں خدائے بزرگ و برتر کے قانون میں تبدیلی کرنے کا خواہاں نہ ہو، تاہم اس میں اتنا جوش و ولولہ موجود ہو کہ وہ روم کے بشپ سے مشورہ کیے بغیر بادشاہ کی (کیتھرائین سے) طلاق کروا سکے۔ تھامس کرینمر کی صورت میں وہ بشپ میسر آگیا۔ یوں کیتھرائین کو طلاق ہو گئی۔ این سے بادشاہ کی شادی بخیر و خوبی انجام پائی اور ایک ایسے کلیسائے انگلستان کا قیام عمل میں آیا جو اپنی راہ متعین کرنے کے لئے آزاد تھا۔
کم و بیش یہی اس ڈرامے کا سیاسی و مذہبی پس منظر ہے، بلکہ اس پس منظر میں سیاست اور مذہب آپس میں بری طرح خلط ملط ہو گئے ہیں لیکن ہمیں اس دور کے سماجی و معاشی عوامل بھی مدنظر رکھنے چاہئیں جنہیں آج کے زمانہ میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
پروفیسر ظفر المحسن نے ترجمہ نگاری کے تمام آداب ملحوظِ خاطر رکھے ہیں۔ انھوں نے آزاد ترجمے کی صورت میں رابرٹ بولٹ کی تصنیف کو ایک طبع زاد کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ ترجمہ کم اور طبع زاد زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ دراصل یہی مترجم کی کامیابی ہے۔ ’ایک سدا بہار آدمی‘ اردو ادب میں بہترین اضافہ ہے۔

حوالہ جات
۱۔ ظفر المحسن پیر زادہ، پروفیسر، ایک سدا بہار آدمی، لاہور: ادارہ تالیف و ترجمہ، جامعہ پنجاب، ۲۰۱۳ء، ص۶
۲۔ ایضاً، فلیپ اندرون صفحہ
3. Robert Bolt, A Man for All Seasons, London: Heinmans, 1960, p 120
4. Ibid, p. 192
5. Ibid, p 230
۶۔ ظفر المحسن پیر زادہ، پروفیسر، ایک سدا بہار آدمی، محولہ بالا، ص۸۷
۷۔ ایضاً، ص۸۸
۸۔ ایضاً، ص۸۹

You might also like
  1. شبیر احمد قادری ، فیصل آباد ۔ 03006643887 says

    بہت خوب مجاہد حسین صاحب ، کیا کہنے ، بہت عمدہ مضمون ہے ،ڈرامے کے کرداروں ، اور کہانی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔
    مجاہد صاحب صاحب آپ ، ماشاء اللہ، خوب لکھتے ہیں ۔ سلامت رہیں ۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post