“رومال” ۔۔۔۔۔ تحریر و ترجمہ : فاروق سرور

( پشتو ادب سے )

عجیب سا رومال ہے یہ۔ رنگ بھی کمبخت کا اڑ چکا ہے ، لیکن پھر بھی اس کا غرور نہیں گیا۔گوکہ یہ ابھی بوڑھا ہو چکا ہے۔لیکن تمہاری خوشبو اب بھی اس میں جوان رہتی ہے۔بلکہ ہر وقت مسکراتی رہتی ہے۔اسی لئے تو یہ ہر وقت خوبصورت رہتا ہے۔
میں اب بھی اسے سونگھتا ہوں ، کیونکہ تم نے مجھے یہ تحفے میں دیا تھا۔اپنی خوبصورت آنکھوں کی مسکراہٹ ڈال کر اسے میرے حوالے کیا تھا ۔
اس رومال کی وجہ سے مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے،تمہاری یادیں میری اردگرد رقص کرنے لگتی ہیں اور تب میں ہر وقت پاگلوں کی طرح اپنے ساتھ باتیں کرنے لگتا ہوں۔
اس رومال کی وجہ سے میرے دوست مجھ سے سخت ناراض رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھینک دو اسے۔ یہ ایک بے وفا کا رومال ہے۔اس سے دور رہ کر ہی تم ہوش میں آ سکو گے ۔لیکن میں اسے نہیں پھینکنا چاہتا۔ تمہاری یادوں سے نہیں نکلنا چاہتا۔
تب ایک دن ایک پرندہ اچانک یہ رومال مجھ سے چرا لیتا ہے۔میں پھولوں اور درختوں کے درمیان بہت دیر تک اس کا پیچھا کرتا ہوں۔لیکن پھر پرندہ میری نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔
اب میں مزید پاگل ہو جاتا ہوں۔ جس سے میرے دوست کافی پریشان ہو جاتے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اب میرا کیا علاج ہوگا۔
رومال کو چوری کرنے والا مخصوص رنگ کا مخصوص پرندہ ہوتا ہے۔اس لئے میں اسے کئی بار اب دوبارہ دیکھ لیتا ہوں۔لیکن میں اس کا آشیانہ ڈھونڈنے میں ناکام رہتا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہوتا ہے کہ رومال وہیں اس کے آشیانے میں پڑا ہوگا۔
تب ایک دن میرے حیرت کی انتہا نہیں رہتی۔جب میں پرندے کو تمہاری حویلی سے اڑتا ہوا دیکھتا ہوں۔
اچھا تو یہ چور تم نے ہی بھیجا تھا؟اس رومال کی چوری تم نے ہی کروائی تھی؟
رات کے اندھیرے میں جب چاند آسمان پر دمک رہا ہوتا ہے۔ میں بانسری اٹھا کر تمہاری محل نما حویلی کی دیوار کے پیچھے آکر کھڑا ہو جاتا ہوں اور بانسری بجانے لگتا ہوں۔
مجھے یقین ہوتا ہے کہ تم دیوار پر آ جاؤ گی۔لیکن تم نہیں آتی۔ البتہ وہ چور پرندہ اڑ کر وہاں دیوار پر آ کر بیٹھ جاتا ہے ۔
پرندہ زور زور سے ہنستا ہے اور کہتا ہے کہ جاو یہاں سے۔ وہ مغرور تمہارے پاس نہیں آئے گی۔ حویلی اس کے ظالم دولت مند باپ نے اس کے پیار میں اس کے نام کردی ہے۔وہ اب اور مغرور ہو چکی ہے۔تمہارا کیا ۔ تم تو ایک غریب ہو۔اس کا باپ بھی یہی کہتا تھا اور اس کے باپ کو اعتراض بھی یہی تھا۔
“جب وہ مغرور ہو چکی ہے تو پھر تم مجھ سے میرا رومال چرا کر یہاں کیوں لے آے؟”
“شاید تمہاری خوشبو میں کوئی خاص بات تھی۔اسی لئے میں اسے یہاں لے آیا۔”
“جاؤ اس قاتل حسینہ کو بلاؤ ۔میرا پیغام اسے دو۔میں مانتا ہوں کہ اپنے باپ کی طرح اب وہ بھی ظالم ہو چکی ہے۔شاید وہ یہاں چلی آئے۔”
“میں نے کہا نا کہ وہ حسینہ اب اور مغرور ہوگئی ہے۔جاؤ غریب کہیں کے۔ وہ یہاں نہیں آئے گی۔”
پرندہ اب پاگلوں کی طرح ہنستا ہے اور دیوار پر رقص کرنے لگتا ہے۔
میں ایک بڑا سا پتھر اٹھا کر اس کی طرف زور سے پھینکتا ہوں، تاکہ اس ظالم پرندے کو جان سے مار دوں۔
لیکن پرندہ رات کے اندھیرے میں فوراً وہاں سے اڑ جاتا ہے۔اب میں اس کی حویلی میں کودتا ہوں۔اگر اس کا مغرور اور ضدی دولت من باپ مجھے جان سے بھی مارے۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں میں اس سے ضرور ملوں گا۔
لیکن حویلی کے اندر میرے قدم آگے جانے سے رک جاتے ہیں،کیونکہ اس سنسان بڑی سی حویلی میں ماسوائے ایک تازہ قبر کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔

You might also like
  1. یوسف خالد says

    بہت خوب

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post