علامہ شبلی ؒ بحیثیت مدیر : ڈاکٹرمحمدالیاس الاعظمی

علامہ شبلیؒ(۱۸۵۷ء-۱۹۱۴ء)نے مدیرکی حیثیت سے جو کارنامے انجام دئے اگرچہ گردش ایام نے ان کے نقوش دھندلے کردئے ہیں، تاہم اس کامطالعہ آج بھی دلچسپی اور فائدے سے خالی نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ صدی میں مسلمانوں میں تحقیق و تدقیق، تلاش وتفحص اور مختلف علوم و فنون سے جو شیفتگی پیداہوئی اس میں بالواستہ فیضان شبلی کا بڑادخل ہے۔
اہل علم و دانش اور ارباب نظرجانتے ہیں کہ شبلی کے ذوق تحقیق و تصنیف کو علی گڑھ نے پرِپر وازعطاکی، سرسید اور آرنلڈ کی صحبت ، کتب بینی کی سہولت اور علی گڑھ کی علمی فضا نے شبلی کے جذبہ تلاش و تفحص اور تصنیف و تالیف کو جلا بخشی، خود سرسید نے اپنا ذاتی کتب خانہ جو علم و تحقیق کا خزانہ تھا، شبلی کے لئے عام کردیاتھا، علامہ شبلی ایک خط میں لکھتے ہیں:-
’’سید صاحب نے اپنے کتب خانہ کی نسبت عام اجازت مجھ کو دی ہے اور اس وجہ سے مجھ کو کتب بینی کا بہت عمدہ موقع حاصل ہے ، سیدصاحب کے پاس تاریخ و جغرافیہ ، عربی کی چند ایسی کتابیں ہیں جن کو حقیقت میں میں کیا بڑے بڑے لوگ نہیں جانتے ہوںگے مگر یہ سب کتابیں جرمنی میں طبع ہوئی ہیں، مصرکے لوگوں کو بھی نصیب نہیں‘‘۔(۱)
علی گڑھ میں علامہ شبلی کے تحقیقی کارناموں مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم (۱۸۸۷ء)، المامون(۱۸۸۷ء)، الجزیہ(۱۸۸۹ء)، کتب خانہ اسکندریہ(۱۸۹۲ء)، اور سیرۃ النعمان (۱۸۹۱ء) وغیرہ جیسی لازوال تحریروں اور محققانہ کاوشوں نے علامہ شبلی کی عظمت علم و تحقیق کو قبول عام کا درجہ عطاکردیاتھا، چنانچہ ۱۸۹۴ء میں انسٹی ٹیوٹ گزٹ علی گڑھ کے ضمیمہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میگزین کو سرسید نے خالص علم و تحقیق سے عبارت کرناچاہاتو ان کی نگاہ انتخاب شبلی پر پڑی اور انھیں اس کا اڈیٹرمقررکیاگیا، خود مولاناشبلی لکھتے ہیں:-
’’قریباًچاربرس ہوئے کہ اس نام کا ایک رسالہ انگریزی اور اردو ملاہواعلی گڑھ کالج سے نکلنا شروع ہوا، اول اول وہ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ کا ضمیمہ بن کر نکلتارہا لیکن ۱۸۹۴ء میں اس نے ایک مستقل رسالہ کی صورت اختیار کی، اس کے مضامین زیادہ تر کالج کی خبروں اور اس کے متعلقات پر محدو د ہوتے تھے اور اس وجہ سے عام پبلک کو اس کے ساتھ چنداں دلچسپی نہ تھی۔
اس خیال سے اس کے منتظموں نے اس کو زیادہ وسعت دینی چاہی تاکہ وہ بالکل ایک علمی میگزین بن جائے جس میں کالج کی خبروں کے علاوہ مسلمانوں کے علوم وفنون، تاریخ اور لٹریچر کے متعلق مفید اور پرزور مضامین لکھے جائیں، اس صیغہ کا اہتمام خاص میری سپردگی میں دیا گیا ، میںاس رسالہ کے ترقی دینے میں حتی الامکان کوشش کروںگا۔‘‘(۲)
اس کالج میگزین کو علمی آب و تاب دینے کے لئے علامہ شبلی نے سب سے پہلے اردو کے نامور اہل قلم ، مصنفین اور انشاپردازوں سے اس میں مضامین لکھنے کی فرمائش کی ، چنانچہ مولاناحالی (ف۱۹۱۴ء)، نواب محسن الملک(ف۱۹۰۷ء)، ڈپٹی نذیراحمد(ف۱۹۱۲ء)اور منشی ذکاء اللہ وغیرہ نے مضامین لکھنے کا وعدہ کیا(۳) اور ان کے بعض مضامین شائع بھی ہوئے۔
اس سلسلہ میں علامہ شبلی نے یہ منصوبہ بھی بنایاکہ اس میں اسلامی سلطنتوں کے تمدنی اور انتظامی کارناموں پر علمی و تحقیقی مضامین قلم بند کئے جائیں اور پھر انھیں کتابی صورت میں شائع کیاجائے(۴)، چنانچہ خود انھوںنے متعددمعرکہ آراتحقیقی مضامین سپردقلم کئے، علماء کے فرائض (جون ۱۸۹۵ء)، اسلامی حکومتیں اور شفاخانے (جولائی۱۸۹۵ء)، حقوق الذمیین (اپریل، مئی۱۸۹۶ء)، املا اور صحت الفاظ(مارچ۱۸۹۸ء)، سرسید اور اردو لٹریچر(جون ۱۸۹۸ء) جیسے ان کے گراں قدر مقالات اسی رسالہ کی زینت بنے۔
اپنی تحریروں کے علاوہ سرسید، مولاناحالی، منشی ذکاء اللہ، بہادر علی ، شیخ عبداللہ، حاجی محمداسماعیل، حامدعلی صدیقی اور پروفیسر ضیاء الدین کے علمی، ادبی ، تاریخی اور تعلیمی مضامین کے ذریعہ شبلی نے اس میں علمی شان پیدا کرنے کی کوشش کی ، جو اس دور میں یقینا ان کا ایک بڑاکارنامہ ہے۔
کالج میگزین کے مشمولات سے اندازہ ہوتاہے کہ اس کے موضوعات متنوع تھے، ادب ، تاریخ ، تہذیب ، تعلیم ، سوانح کے علاوہ کالج کی سرگرمیوں اور اس کی تنظیموں کی روداد وغیرہ بھی اس میں شائع ہوئیں، بعض انگریزی مضامین کے ترجمے بھی شائع ہوئے، پروفیسر آرنلڈ کے مضمون ’’جاپان‘‘کاترجمہ اسی میگزین میں شائع ہوا۔(۵)
قدیم اسلامی کتابوں کی اشاعت کی تجویزبھی علامہ شبلی نے اسی میگزین میں پیش کی تھی (۶)، ان کا خیال تھا کہ یورپ میں قدیم اور نادر کتابوں کی تلاش و جستجو اور طبع و اشاعت کے لئے متعدد انجمنیں قائم ہیں جو بیش بہا خدمات انجام دے رہی ہیں حتی کہ خود مسلمانوں کی نادر الوجود کتابیں ڈھونڈڈھونڈکرشائع کررہی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ یہ کام ہم خود انجام دیں اور دنیا کو بتائیں کہ مسلمانوں نے علوم و فنون کا کس قدر گراں مایہ ذخیرہ یاد گار چھوڑاہے۔(۷)
ندوۃ العلماء کے تیسر ے سالانہ اجلاس کی روداد بھی علامہ شبلی کے قلم سے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میگزین (مئی ۱۸۹۶ء) میں شائع ہوئی جس سے اندازہ ہوتاہے کہ اس زمانہ میں تحریک ندوۃ سے انھیں کس قدر دلچسپی تھی ، سر سید کی وفات (۱۸۹۸ء) کے بعداگرچہ انھوںنے حیدرآباد کا رخ کیا مگرحقیقت یہ ہے کہ ان کا دل و دماغ اب تحریک ندوہ سے وابستہ ہوچکا تھا، ایک خط میں انھوںنے لکھاہے کہ ’’سچ یہ ہے کہ صرف ندوہ کے لئے میں نے کالج چھوڑاتھاگوواقعات اتفاقی کی وجہ سے اس کا موقع نصیب نہیں ہوا‘‘۔(۸)
تحریک ندوہ میں خود ان کے بہ قول ان کی دلچسپی کی دو خاص چیزیں’’نصاب تعلیم‘‘ اور ماہنامہ’’الندوہ‘‘تھیں(۹)، چنانچہ جب وہ پوری طرح یکسوہوکرندوہ آئے تو ان دونوں امور کی طرف مکمل توجہ کی ، انھیں الندوہ کا ایڈیٹربنانے میں ارکان ندوہ نے لیت و لعل سے کام لیا(۱۰)، تاہم وہ ایڈیٹربنائے گئے گو مشترکہ ہی سہی(۱۱) لیکن وقت نے ثابت کردیاکہ اگر وہ ایڈیٹرنہ ہوتے تو الندوہ -الندوہ نہ ہوتا۔
محمڈن اینگلواورینٹل کالج میگزین کی ادارت (۱۸۹۴ء) کے دس سال بعد شبلی نے الندوہ کی ادارت(۱۹۰۴ء) سنبھالی، ظاہر ہے اس کے تجربات یہاں کام آئے ہوںگے، دونوں رسالوں کے مطالعے سے محسوس ہوتاہے کہ علامہ شبلی علی گڑھ کے بالمقابل یہاں زیادہ آزادی کے ساتھ اپنے افکار و خیالات کو پیش کرتے ہیں، غالباًاس کی بڑی وجہ تحریک ندوہ سے ان کی ذہنی اور جذباتی ہم آہنگی ہے۔
ماہنامہ الندوہ کی اشاعت کے حسب ذیل مقاصد تھے:
[۱] علوم وفنون پر ریویو
[۲] علوم قدیمہ و جدیدہ کا موازنہ
[۳] اثبات عقائد اسلامیہ از عقل
[۴] تحقیقات جدیدہ
[۵] کتب نادرہ قدیمہ پر ریویو
[۶] رپورٹ ماہوار ندوہ (۱۲)
ماہنامہ الندوہ کے دستورالعمل میں بھی یہ مقاصد بیان کئے گئے ہیں (۱۳)، البتہ اس میں حسب ذیل اضافہ ہے:
[۱] اکابرسلف کی سوانح عمریاں جس میں زیادہ تر ان کے اجتہادات سے بحث
ہوگی۔
[۲] نصاب تعلیم مروجہ پر بحث
[۳] علمی خبریں۔(۱۴)
الندوہ ان مقاصد کے ساتھ اگست ۱۹۰۴ء میں بڑی آب و تاب سے نکلا اور بہت جلد علمی دنیا میں ایک امتیازی درجہ حاصل کرلیا، شاید ہی کسی اور علمی رسالے کو اس قدر جلدایسی مقبولیت ملی ہو ، وہ ہر حلقے موافق و مخالف میں پڑھا اور قدر کی نگاہ سے دیکھاگیا، ڈپٹی نذیراحمدکے ان عربی اشعار سے اس کی شہر ت ومقبولیت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے:
یقولون ان العلم والفضل والنھی

حبیس علی المتقدم المتبصر
فلما یصفحنا صحائف ندوۃ

وجدنا بان الفضل للمتاخر
ترجمہ:’’لوگ کہتے ہیں کہ فضل و کمال اگلوں کا حصہ تھا مگر جب میںنے الندوہ کے صفحے دیکھے تو پایاکہ فضل و کمال پچھلوں ہی کا حصہ ہے‘‘۔(۱۵)
الندوہ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے مولاناسید سلیمان ندوی نے لکھاہے کہ:
’’الندوہ کا اثر خصوصیات کے ساتھ نوجوان علمااور قریب فارغ التحصیل طلبہ پر بے حد پڑا اور نام نہیں لوں گا مگر بتاسکتا ہوں کہ بڑے بڑے مقدس آستانوں اور درس گاہوں کے حاشیہ نشینوں نے اس کے طرز نگارش اور پیرایہ بیان کی نقل اتاری اور اپنے اپنے دائرے میں ناموری حاصل کی اور ان سے دین و ملت کو فائدہ پہنچا‘‘۔(۱۶)
علامہ شبلی نے ماہنامہ الندوہ کے ذریعہ متعددکام انجام دئے، تحریک ندوہ کو بام عروج تک پہنچایا، نصاب تعلیم پر بحث کا آغاز ہوا، علوم قدیمہ پر نقد و جرح کا سلسلہ شروع کیا، ان کے علاوہ شبلی نے اپنے افکار و نظریات کی پیش کش بھی ماہنامہ الندوہ کے ذریعہ کی ، اس سلسلے کا سب سے اہم کارنامہ تصنیف و تالیف کے لئے طلبائے ندوہ اور دیگر اہل قلم کی ذہنی و دماغی تربیت ہے ، چنانچہ مولاناسید سلیمان ندوی ، مولاناعبدالسلام ندوی، مولاناابوالکلام آزاد، مولاناضیاء الحسن ندوی، خواجہ عبدالواحداور عبداللہ عمادی وغیرہ نے اسی رسالے سے نام وری حاصل کی اور نام ور مصنف ہوئے۔
تصنیف و تالیف کے لئے علامہ شبلی نے یہیں مولاناسید سلیمان ندوی کی تربیت کی اور اس کے تمام گر سکھائے ، الندوہ کا سب ایڈیٹرمقرر کیا، شذرات لکھنے کا انھوںنے یہیںآغاز کیا، ماہنامہ’’معارف‘‘اعظم گڑھ کی ادارت اور اس کی خدمات کا اگربہ نظرغائر مطالعہ کیاجائے تو یہ حقیقت پوشیدہ نہ رہ سکے گی کہ سب شبلی کی تربیت کا نتیجہ ہے۔
مولاناابوالکلام آزاد الندوہ ہی میں(اکتوبر۱۹۰۵ء -مارچ ۱۹۰۶ء)شبلی کے زیر تربیت رہے ، یہیں سے علمی دنیا میں وہ متعارف ہوئے، ارباب نظرجانتے ہیںکہ ’’الہلال‘‘ میںجوکچھ جلوہ گر ہوا، اصلاًاس کا تخم الندوہ ہی میں پڑاتھا، مولاناآزاد کے علاوہ مولاناسید سلیمان ندوی اور مولانا عبدالسلام ندوی بھی الہلال سے وابستہ رہے جن کی تربیت بھی شبلی نے الندوہ ہی میں کی تھی ۔
صاحب اقبال کامل اور مصنف شعرالہند مولاناعبدالسلام ندوی نے الندوہ ہی سے قلم پکڑناسیکھا، ۱۹۰۶ء میں ان کا پہلا مضمون ’’تناسخ‘‘ شائع ہوا، علامہ شبلی نے ان کی بڑی حوصلہ افزائی کی ، انعام سے نوازااور ان کے بڑے مصنف ہونے کی پیشین گوئی کی ۔(۱۷)
تصنیف و تالیف کی تربیت اور ذہنی و دماغی نشوونما کے حوالے سے اگردیکھاجائے تو واقعہ یہ ہے کہ علامہ شبلی کے بعد ہندوستان میں علم و فن کی جو بہار آئی اور اہل قلم اور نامورانِ علم و فن کی جو کہکشاں سجی وہ سب فیضان شبلی ہی کا پرتو ہے ۔
یک چراغیست دریں خانہ کی از پرتو

ہرکجا می نگری انجمنے ساختہ اند
علامہ شبلی نے الندوہ کی ادارت کے زمانے میں احباب و معاصرین اور خاص طور سے اپنے تلامذہ کو جو خطوط لکھے ہیں ان سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ مدیر کی حیثیت سے ایک ایک پہلو پر نظررکھتے تھے۔ موضوعات ، مقاصد اور معیار کا انھیں بڑاخیال رہتا،ایک مرتبہ اپنی بعض مصروفیات کی وجہ سے الندوہ کے لئے مضامین نہ لکھ سکے تو سب ایڈیٹرمولاناسیدسلیمان ندوی کو لکھاکہ ’’عزیزی چند روز تک میرے مضمون سے اب پرچہ بالکل خالی رہے گا ، دیکھو ایسا نہ ہو کہ اپنی حیثیت سے گرجائے‘‘۔(۱۸)
مضامین کی ترتیب ، کتابت و طباعت کا حسن، تصحیح وغیرہ کا وہ بڑاخیال رکھتے(۱۹)اور حسن و نفاست کے ساتھ اس کی اشاعت کے خواہش مند رہتے(۲۰)، وہ ایک ایڈیٹرکے لئے ضروری خیال کرتے تھے کہ مضامین بغیردیکھے شائع نہ ہوں(۲۱)اور ایک دو ماہ کے مضامین ہمیشہ موجودرہیں۔(۲۲)
ادب و انشااور تحریرکے معیار و مذاق کا بھی انھیں بڑاخیال رہتا، مولاناعبدالسلام ندوی نے رسالہ’’ادیب‘‘ الہ آباد پر تبصرہ کیا اور لکھا کہ ’’حال میں الہ آباد انڈین پریس سے ادیب ظاہری شکل و صورت میں اس آب و رنگ سے نکلا کہ تمام لوگ پکار اٹھے کہ
اس طرح کا جمال ہو ، ایسا شباب ہو(۲۳)
چوںکہ یہ تبصرہ شذرات میں لکھاگیاتھا اس لئے علامہ شبلی نے تنبیہ کی اور مولانا عبدالسلام ندوی کو لکھاکہ:-
ــ’’ رسالہ ادیب کی نسبت تم نے جو ریمارک لکھاہے وہ ایڈیٹوریل میں لکھا ہے جس سے قیاس ہوتا ہے کہ میرا لکھا ہوا ہے ، مجھ کو اس سے نہایت افسوس ہوا، میراوہ طرز عبارت نہیں اور جو مصرعہ تم نے نقل کیا ہے اس کو میں اپنے حق میں ازالہ حیثیت عرفی سمجھتا ہوں، آئندہ احتیاط رکھو کہ ایسے مبتذل اور عامیانہ فقرے درج نہ ہونے پائیں‘‘۔(۲۴)
اس تنبیہ کے بعد مولاناعبدالسلام ندوی نے اس کی تردید کی (۲۵)، مگر بالآخرعلامہ شبلی کا خدشہ درست نکلا، مولاناعبدالحلیم شرر نے ’’عذرگناہ بدتراز گناہ‘‘کے عنوان سے ان پر سخت تنقید کی ۔(۲۶)
اسی طرح مولاناسید سلیمان ندوی کو ایک خط میں لکھا کہ ’’دونوںپر چوں میں تمہارا مضمون بہت اچھا نکلا، اب تم کو تصنیفی سلیقہ آچلا ہے البتہ عبارت کی ابھی تک کمزوری باقی ہے‘‘۔(۲۷)
علمی رسالوں کے لئے علامہ شبلی علمی خبروں کو ضروری خیال کرتے تھے، ان کی کوشش ہوتی تھی کہ الندوہ میں پابندی سے علمی خبریں شائع کی جائیں، مولاناابوالکلام آزاداور مولاناعبدالسلام ندوی اپنی سب ایڈیٹری کے زمانہ میں اس کا اہتمام کرتے رہے، سید صاحب نے بھی اس کا لم کو جاری رکھا، ایک مرتبہ کئی ماہ تک ناغہ ہوگیا تو علامہ شبلی نے تنبیہ کی اورلکھاکہ ’’تم نے غلطی کی اور ہمیشہ یہ غلطی ہوتی ہے کہ الندوہ میں علمی خبریں نہیں دیتے، جس کی وجہ سے اب کی ۲۰-۲۵روپئے کا نقصان اٹھانا پڑا‘‘۔(۲۸)
علامہ شبلی نے کسی تنقید کا جواب سوائے المامون(۲۹)کے نہیں لکھا، ان کے ایک مضمون ’’اسلام اور مسئلہ ارتقا‘‘ پر اعتراضات ہوئے(۳۰)، سید صاحب نے اس کا جواب لکھا (۳۱)،علامہ نے اس پر ناراضگی ظاہر کی اور لکھا کہ ’’اس سے کم ظرفوں کا حوصلہ بڑھتا ہے کہ ہم بھی اتنے ہیں کہ لوگ ہمارا جواب لکھیں(۳۲) مگر پھر انھوںنے اس کی وضاحت کی کہ:-
’’گزشتہ پرچے میں جو مضمون مسئلہ ارتقاپرنکلاتھااس کا مقصد یہ نہ تھا کہ ہمارا یہ عقیدہ بھی ہے بلکہ صرف یہ دکھلاناتھاکہ مسئلہ ارتقاکا خیال ڈارون کا پیداکیاہوا کوئی نیا خیال نہیں ہے بلکہ اس سے مدتوں پہلے بعض حکمائے اسلام کی بھی یہی تحقیق تھی‘‘۔(۳۳)
وہ مدیروں کے لئے اہل علم سے ربط و ضبط اور خط و کتابت کو بھی لازمی قرار دیتے تھے، مولاناسید سلیمان ندوی کو متعدد خطوط میں اس کی طرف متوجہ کیاہے۔(۳۴)
خلاصہ یہ کہ علامہ شبلی نے ایک مدیر کی حیثیت سے الندوہ کے ہر پہلو پر نظررکھی بلکہ اسے خوب سے خوب تر بنانے کی ہرممکن کوشش کی اور یہی وجہ ہے کہ ان کے بعد الندوہ کا وہ معیار قائم نہ رہ سکا اور بالآخروہ بند ہوگیا۔
الندوہ نے دیرپااثرات قائم کئے اس کے بعد علمی افق پر جو بھی رسائل آئے ، انھوںنے کسی نہ کسی نوع سے اس کی تقلید کی ،الندوہ کے جو نتائج نکلے مولاناسید سلیمان ندوی کے الفاظ میں وہ یہ ہیں:-
[۱] اردو زبان میں علمی مباحث کا ایک بڑاذخیرہ پیداکیا۔
[۲] جدیدتعلیم یافتوں کو اسلام کے مذہبی اور علمی کارناموں سے آشنا کیا۔
[۳] علماء کو جدید مسائل سے روشناس کیا۔
[۴] عربی خواں طلبہ میں اپنے پرانے ذخیروں سے کام لینے کا سلیقہ پیداکیا۔
[۵] اسلام اور تاریخ اسلام پر بہت سے اعتراضات کو رفع کیا۔
[۶] قوم میں ندوہ کے مقاصدکی تبلیغ کی ، اصلاح نصاب کی ضرورت سمجھائی اور عربی تعلیم کی اہمیت ذہن نشین کی۔(۳۵)
ان نتائج کے پس منظرمیں یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ آج ملک میں علم و تحقیق کی جو فضا بالخصوص تحقیقی مقالہ نگاری کاجو سلسلہ چلا وہ سب بہ راہ راست یابالواسطہ علامہ شبلی ہی کا فیضان ہے۔
۱۹۱۲ء میں سید میرجان نے لکھنؤ سے مسلم گزٹ جاری کیا جودراصل علامہ شبلی ہی کی تمام تر کوششوں کا نتیجہ تھا، اس کی تفصیل حیات شبلی میں موجودہے(۳۶)،ہندوستان میں مسلمانوں کا اب تک کوئی آزاد اخبار نہیں ہے جو ان کے خیالات کی ترجمانی کرسکے، مولاناشبلی کی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ ان کو اس زمانہ میں اس کا خیال پیداہوا، چنانچہ انھوںنے اس کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ اس کی ذمہ داری بھی قبول کی ، مولوی وحیدالدین سلیم کو علی گڑھ سے بلاکرایڈیٹربنایا، متعددمضامین اور نوٹ لکھے، ان کوششوں کی وجہ سے بہت جلد مسلم گزٹ مقبولیت کے آسمان پر چمک اٹھا۔
علامہ شبلی نے اس زمانہ میں ملی مسائل پر جو مضامین لکھے وہ اسی اخبار میں شائع ہوئے،فتنہ ارتدادکی لہراٹھی تو تمام برادران اسلام کی خدمت میں اس اخبار کے ذریعہ نومسلمانوں کو دو بارہ ہندوہوجانے سے بچانے کی اپیل کی ، مجلس علم کلام کی تجویز بھی اسی اخبار کی زینت بنی اور ان کا شاہ کار سیاسی مقالہ مسلمانوں کی پولیٹکل کروٹ اسی اخبار کے صفحات پر شائع ہوا جس نے مسلمانوں کی سیاسی فکر میں ایک انقلاب برپاکردیا۔
مسلم گزٹ کے گو ایڈیٹرمولوی وحیدالدین سلیم رہے تاہم عملاًاس کے مدیر علامہ شبلی ہی تھے، ان ہی کی تجاویز اور مشوروں سے یہ نکلتاتھا، یہی وجہ تھی کہ اس زمانہ میں یہ عام خیال پیدا ہوگیاتھاکہ یہ علامہ شبلی ہی کا اخبارہے۔(۳۷)
اس اخبار کے ذریعہ علامہ شبلی نے مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور ملی جذبہ برانگیختہ کرنا چاہا اور اس میں وہ بہت کامیاب رہے ، دراصل یہی وہ صورتھاجوبعدمیںالہلال نے پھونکا۔
آخرعمر میں جب علامہ شبلی سیرۃالنبی کی تالیف و تدوین اوردارالمصنفین کی بنا و تاسیس میں مصروف تھے، انھیں ایک علمی رسالہ’’معارف‘‘ کے اجرا کا خیال پیداہوا، چنانچہ انھوںنے اس کا خاکہ اور اس کے اغراض و مقاصد پر مشتمل ایک نوٹ لکھا جو ان کی ایک قلمی یادداشت میں اس طرح محفوظ ہے:
[۱] نام: معارف
[۲] چیف ایڈیٹر: شبلی
[۳] اسٹاف: مولوی سلیمان،مولوی عبدالماجد،مسٹرحفیظ،مولوی عبدالسلام
[۴] تعداد صفحات : تقطیع و کاغذ:۲۰×۲۹،ضخامت ۴۰صفحے، قیمت ۳؍روپئے
[۵] متنوعات مضامین:فلسفہ ، تاریخ، قدیم و جدید سائنس
[۶] ادبیات: شعر،اردو شاعری کی تاریخ اور اسالیب
[۷] اقتباسات: مجلات علمیہ یورپ اور مصرو بیروت
[۸] فن تعلیم: کتب نادرہ کا ذکر اور ان کے اقتباسات یا ان پر اظہار رائے
[۹] تنقید: کتب یا علوم قدیمہ پر (۳۸)
مگر ابھی معارف کا اجرانہ ہوسکاتھاکہ ان کا وقت موعودآپہنچا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
ان کی وفات کے بعد مولاناسید سلیمان ندوی نے علامہ شبلی کی خواہش اور خیال کے مطابق جولائی ۱۹۱۶ء میں ماہنامہ ’’معارف‘‘جاری کیا، علامہ شبلی نے مختصراًاس کے جو اغراض و مقاصد تحریرکئے تھے، سید صاحب نے تفصیل سے اس کی وضاحت کی اور ایک علمی رسالے کی ضرورت کا ذکر کیا۔(۳۹)
۱۹۱۶ء سے آج تک معارف علامہ شبلی کے قائم کردہ نہج پر بلا ناغہ نوے برس سے شائع ہورہاہے، سیکڑوں موضوعات پر ہزاروں علمی و تحقیقی نگارشات شائع ہوچکی ہیں، برصغیر کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی، آج اس کی حیثیت کسی معرکۃالآراانسائیکلوپیڈیا سے کم نہیں، اس کی اہمیت شاعر مشرق علامہ اقبال کے اس قول سے واضح ہے کہ ’’معارف ایک ایسا رسالہ ہے جس کے پڑھنے سے حرارت ایمانی میں ترقی ہوتی ہے(۴۰)، عبدالمجید سالک کے بہ قول ’’معارف بلامبالغہ دنیائے اسلام کا بہترین علمی و تحقیقی رسالہ ہے اور جس نے ہماری تاریخ و تحقیق کے ذخیرہ کو مالامال کیاہے‘‘(۴۱) اور آخر میں عالم اسلام کے مایہ ناز محقق ڈاکٹرمحمدحمیداللہ مرحوم نے اسے ہماری تاریخ حال کا مستقبل میں ایک وثیقہ اور ماخذقرار دے (۴۲)کر ثابت کردیا کہ معارف کی قدرو منزلت کسی دور میں کم نہیں ہوئی، بلاشبہ یہ سب علامہ شبلی ہی کی کوششوں کا ثمرہ ہے۔
حوالے
(۱) مکاتیب شبلی، ج۱،ص۱۴۵۔ مرتبہ مولانا سیدسلیمان ندوی، دارالمصنّفین ، اعظم گڑھ ۱۹۲۸ء
(۲) محمڈن اینگلواورینٹل کالج میگزین ، علی گڑھ، جنوری ۱۸۹۶ء ٹائٹل کا صفحہ ۲۔
(۳) ایضاً۔
(۴) مولانا سیدسلیمان ندوی، حیات شبلی، ص۱۶۲، دارالمصنّفین ایڈیشن ، طبع چہارم
(۵) محمڈن اینگلواورینٹل کالج میگزین ، علی گڑھ ، جنوری ۱۸۹۶ء، ص۲۵
(۶) ایضاً، مئی ۱۸۹۶ء ص۲۱۶
(۷) ایضاً۔
(۸) مکاتیب شبلی، ج۱،ص۱۴۳۔ مرتبہ مولانا سیدسلیمان ندوی، دارالمصنّفین ، اعظم گڑھ ۱۹۲۸ء
(۹) ایضاً ص۱۴۵۔
(۱۰) ایضاً ص۱۴۳-۱۴۵۔
(۱۱) علامہ شبلی کے ساتھ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی بھی ایڈیٹر تھے۔
(۱۲) نقوش لاہور، مکاتیب نمبر ، ص۱۸۴، ادارۂ فروغ اردو لاہور، نومبر ۱۹۵۷ء، مدیرمحمد طفیل ۔
(۱۳) ماہنامہ الندوہ لکھنؤ، اکتوبر ۱۹۰۴ء، آخری صفحہ ٹائٹل
(۱۴) ایضاً۔
(۱۵) حیات شبلی ، ص۸۱۰
(۱۶) ایضاً، ص۴۴۱۔
(۱۷) مکاتیب شبلی، ج۲،ص۲۰۹ بنام مہدی افادی
(۱۸) ایضاً ج۲، ص۶۸، مرتبہ مولانا سیدسلیمان ندوی، دارالمصنّفین اعظم گڑھ، ۱۹۷۱ء
(۱۹) ایضاً ج۲، ص۶۲و۶۴
(۲۰) نقوش لاہور، مکاتیب نمبر، ص۱۸۵
(۲۱) ایضاً۔
(۲۲) مکاتیب شبلی، ج۲، ص۷۰۔
(۲۳) ماہنامہ الندوہ لکھنؤ، مارچ ۱۹۱۰ء ص۶
(۲۴) مکاتیب شبلی، ج۲، ص۱۴۹
(۲۵) ماہنامہ الندوہ، اپریل ۱۹۱۰ء
(۲۶) دلگداز، جون ۱۹۱۰ء ص۶-۸
(۲۷) مکاتیب شبلی، ج۲، ص۷۳
(۲۸) ایضاً س۷۲
(۲۹) المامون پرمولانا حبیب الرحمن خاں شروانی نے سخت تنقید کی تھی جس کے جواب مین علامہ
نے ایک مراسلہ لکھا تھا جوآزاد اخبار لکھنؤ کی ۲۲؍فروری ۱۸۸۹ء کی اشاعت میں شائع ہوا
(۳۰) مکاتیب شبلی، ج۲ص۶۷
(۳۱) ایضاً
(۳۲) ایضاً ص۷۸
(۳۳) ماہنامہ الندوہ، اکتوبر ۱۹۰۷ء ص۱-۲
(۳۴) مکاتیب شبلی، ج۲ص۵۶-۱۱۱
(۳۵) حیات شبلی، ص۴۴۰
(۳۶) ایضاً،ص۶۱۱
(۳۷) ایضاً، ص۶۱۳
(۳۸) قلمی یادداشت ، محفوظہ دارالمصنّفین، اعظم گڑھ
(۳۹) شذرات،ماہنامہ معارف ، جولائی ۱۹۱۶ء
(۴۰) اقبال نامہ حصہ اول ، مکتوب بنام سیدسلیمان ندوی ، ص۸۰، مطبوعہ لاہور
(۴۱) ماہ نو-کراچی ، جنوری ۱۹۵۴ء ص۲۵
(۴۲) ماہنامہ معارف، دسمبر ۱۹۸۷ء، ص۴۷۱، مکتوب پیرس۔
٭٭٭

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post