ریڈیو کے عالمی ادارے اور فروغ اردو: ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

(ایک تعارفی تحریر)

نئی دنیا کی جہاں کئی ایجادات نے انسان کے روزمرہ معمولات پر گہرے اثرات مرتسم کیے ،وہیں ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی نشریات نے بھی اپنا اثر دکھایا ہے۔ٹرانسمیشن یا نشریات کا تاریخی مطالعہ واضح کرتا ہے کہ اس کا آغاز وارتقانجی تجارتی بنیادوں پرمحدود پیمانے پرعمل میں آیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پھیلتا چلا گیا۔بیسویں صدی کے شروع میں پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد ترقی یافتہ ممالک میں ریڈیو اسٹیشنوں نے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ان ریڈیوں اسٹیشنوں کے چلانے والے بیشتر ایسے لوگ تھے جنھیں ریڈیو سائنس میں، ترسیلِ عامہ اور تفریحی سر گرمیوں کے مقابلے میں زیادہ دلچسپی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ریڈیو کے تجارتی امکانات میں تیزی سے اضافہ ہوااور 1920ء میں پہلا باقاعدہ ریڈیو اسٹیشن قائم ہوگیا۔اس ریڈیو اسٹیشن نے مزید اسٹیشنوں کے قیام کو تحریک دی اور برطانیہ میں برٹش براڈ کاسٹنگ کمپنی کا قیام عمل میں آگیا۔
ہندوستان میں ترسیل عامہ کے ذرائع کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ ریڈیو کے حوالے سے پہلا نشریاتی ادارہ آل انڈیا ریڈیو تھا جس کا قیام 1936ء میں وقوع پذیر ہوا۔ اور اس کے بعد کئی مزید ریڈیو اسٹیشن قائم ہوئے۔ آل انڈیا ریڈیو نے اردو اور ہندی زبانوں کے فروغ کے لیے رسالہ "آواز” بھی جاری کیا۔تقسیم ِہندوستان کے وقت نو (9)ریڈیو اسٹیشن کام کر رہے تھے،جن میں تقسیم کے وقت بھارت کو چھ اور پاکستان کو تین ریڈیو اسٹیشن ملے ۔ فرنگیوں سے آزادی کے بعد ریڈیو نشریات کا نیا باب شروع ہوا اور آزاد ہونے والے دونوں ممالک میں نئے ریڈیو اسٹیشن قائم کیے گئےجن کے قیام سے ترسیلِ عامہ ،ایک نئی اور انوکھی جہت سے آشنا ہوئی ۔ریڈیوچوں کہ آواز کا کھیل ہے اس لیےترسیل عامہ کی دیگر صورتوں مثلاً ٹیلی ویژن اور اخبار سے اسےمنفرد مقام حاصل ہے۔یہ ترسیلِ عامہ کی ایک ایسی صورت ہے جس میں مُرسل ریڈیواسٹیشن کے بند کمرے میں ہوتا ہے اور مُرسل الیہ کھلی فضاؤں میں موجود ہوتا ہے ۔وہ جہاں ہے اور جس حالت میں ہے ، ریڈیو سُن سکتا ہے۔ریڈیو سے نشر ہونے والےپروگرام اس کی تنہائی کے ساتھی بنتے ہیں اور روز و شب کے ہنگاموں میں ،اپنی الگ دنیا بسانے میں اس کے معاون ثابت ہوتے ہیں ۔
ریڈیو ایک ایسا میڈیم ہے جس میں ترسیل کا ذریعہ آواز ہے اور آواز کی مدد سے کسی واقعے، تجربے اور تاثر کو سامع کے تخیل میں اتار دینا ،دشوار اورکٹھن عمل ہے۔اس مشکل اور کٹھن کام کو آسان بنانے میں تخلیقی ذہنوں نے اظہار کی نئی روشوں کو دریافت کیا۔اس کوشش میں ادب کی کئی اصناف کو مقبولیت حاصل ہوئی۔مثلاً ڈرامے کی دنیا میں یہ تبدیلی ظہور پذیر ہوئی کہ ریڈیو ڈرامے کی صورت میں نئی صنف عالمِ وجود میں آگئی۔ریڈیو کے توسل سے یک بابی ڈراموں کو وہ مقبولیت حاصل ہوئی جو اس سے پہلے اِسے کبھی نصیب نہ ہوئی تھی۔فیچر اور ریڈیائی تقریروں نے بھی ریڈیو کے توسط سے اپنا آپ منوایا۔
"ریڈیو کے عالمی ادارے اور فروغِ اردو”ڈاکٹر سمیرا اکبر کی ایسی کتاب ہے جس میں عالمی سطح کے ریڈیائی نشریاتی اداروں کے اردو زبان وادب پر مرتسم ہونے والے اثرات کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس حوالے سے وہ لکھتی ہیں :
"ریڈیو گزشتہ صدی سے لے کر آج تک اردو زبان و ادب کے فروغ کے سلسلے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔دنیا بھر میں کئی ممالک کے سرکاری ریڈیو ادارے اردو نشریات پیش کر کے دنیا بھر کی سماعتوں کو اردو سے آشنا کر رہے ہیں اور اردو کی نئی بستیوں کے وجود کا موجب بن رہے ہیں۔”
ریڈیو کے عالمی اداروں کے اردو زبان و ادب پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلا باب” ایشیا کے ریڈیائی نشریاتی ادارے اور اردو کا فروغ ” کے عنوان سے کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔اس باب میں جن اداروں کا تعارف پیش کیا گیا ہے ، وہ یہ ہیں:ریڈیو صدائے روس، ریڈیو جاپان،آل انڈیا ریڈیو ،ریڈیو صدائے ترکی،ریڈیو تہران ، بنگلہ دیش بیٹر، چائنا ریڈیو انٹر نیشنل ،ریڈیو نیپال اور ریڈیو ویری تاس ایشیا ۔ڈاکٹر سمیرا اکبرنے مذکورہ اداروں کے آغاز و ارتقا،ان سے نشر ہونے والے پروگراموں کے تعارف اور رسائل کا تعارف کرایا ہے۔مثلاً آل انڈیا ریڈیو کے آغاز و ارتقا کا ذکر انھوں نے بڑی تفصیل سے کیا ہے۔وہ آل انڈیا ریڈیو کی وسعت اور دائرہ کار کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
"آل انڈیا ریڈیو کے شعبہ خبر سے روزانہ 90 ملکی اور غیر ملکی زبانوں سے 647 بلیٹن پیش کیے جاتے ہیں۔اور ایف ایم کے 41 چینلز سے 314 خبروں کے بلیٹن پیش کیے جاتے ہیں اور اس ادارے کی ایکسٹرنل سروس سے اس وقت 11 ہندوستانی اور16 غیر ملکی زبانوں میں نشریات پیش کی جاتی ہیں”
آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والے پروگراموں کی تفصیل کے ساتھ ساتھ اس کے رسالے ” آواز” کا تعارف بھی پیش کیا ہے۔اس رسالے کا آغاز آل انڈیا ریڈیو کے قیام کے تقریباً دو سال بعد ہوا۔اس کا نام اردو ادب کے معروف ادیب اسرار الحق مجاز نے تجویز کیا۔ اس رسالے نے اردو زبان و ادب کے فروخ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔رسالے کے تعارف کے ساتھ ساتھ اس کی ویب گاہ کا تعارف بھی کرایا گیا ہے۔اسی ساختیے( پیٹرن) پر دیگر اداروں کا تعارف کتاب میں موجود ہے۔
کتاب کا دوسرا باب ” یورپ اور امریکا کے ریڈیائی نشریاتی ادارے اور اردو کا فروغ” کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے۔جیسا کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ یورپ اور امریکا میں اردو بولنے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے ۔ اس میں کچھ مقامی افراد ہیں اور کئی ایسے ایشیائی لوگ بھی ہیں جو تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں وہاں مقیم ہیں ۔یہ لوگ ادبی نشستوں، مشاعروں اور مجالس کے ذریعے اپنا تخلیقی اظہار کرتے ہیں۔اس مقصد کے تحت انھوں نے ادبی انجمنیں بھی قائم کر رکھی ہیں ۔”سوسائٹی آف اردولٹریچر” اس کی زندہ مثال ہےجو برک ورجینا میں گزشتہ ایک دہائی سے کام کر رہی ہے ۔یورپ اور امریکا میں سامعین تک معلومات کی رسائی آسان بنانےکے لیے سرکاری نشریاتی ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ان اداروں کی تفصیل زمانی اعتبار سے اس باب میں پیش کی گئی ہے جو کہ کچھ یوں ہے۔برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن(بی بی سی)،وائس آف امریکا،ڈوئچے ویلے،فیملی ریڈیو ،فیبا ریڈیواردو اور ایڈونٹسٹ ورلڈ ویو ۔مذکورہ اداروں کی نشریات اب شارٹ ویو کے ساتھ ساتھ انٹر نیٹ پر بھی موجود ہے جنھیں پوری دنیا میں سماعت کیا جا سکتا ہے۔
کتاب کے تیسرے باب کو ” خلیجی ممالک کے ریڈیائی نشریاتی ادارے اور اردو کا فروغ ” کے عنوان سے رقم کیا گیا ہے۔خلیجی ممالک تیل کی دولت سے مالامال ہیں جس کے باعث برِ صغیر پاک و ہند سے تلاشِ معاش کے سلسلے میں ہزاروں افراد وہاں مقیم ہوگئے ہیں۔اس طرح وہاں اردو بولنے والوں کا وسیع طبقہ وجود میں آگیا ہے جو رفتہ رفتہ بڑھتا جا رہا ہے۔گلزار جاوید کے ایک مضمون کے مطابق خلیجی ممالک کے تعلیمی اداروں میں کم و بیش پچاس ہزار طلبا و طالبات جدید علوم کے ساتھ ساتھ اردو کی بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اردو دان طبقے کے علمی و ادبی ذوق کی تسکین کے لیے مجلسوں ، مشاعروں مذاکروں اور تقریبات کے ساتھ ساتھ اخبارات، ٹیلی ویژن اور ریڈیو بھی کام کر رہے ہیں۔ریڈیو چینلز شارٹ ویو اور انٹر نیٹ پر خلیجی ممالک سے باہر بھی سنے جاتے ہیں۔ مذکورہ اداروں کی کوششوں سے اردو خلیجی ممالک کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے۔اس باب میں ریڈیو کے وہ ادارے جوان ممالک میں اردو کے فروغ کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں،کا تعارف پیش کیا گیا ہے جو کہ یہ ہیں :سعودی عالمی اردو نشریات،ریڈیو کویت اردو سروس،ریڈیو قاہرہ ، مصر اردو سروس۔ مذکورہ ادارے مذہبی، معلوماتی ،حالاتِ حاضرہ اور تفریحی پروگرام پیش کر کے علمی ذوق کی تسکین کا سامان کرتے ہیں ۔
کتاب کا چوتھا باب ” اردو کے فروغ میں ایف ایم/ آن لائن ریڈیو چینلز کا کردار” کے زیرِ عنوان تحریر کیا گیا ہے۔ایف ایم ریڈیو ، کمیونٹی ریڈیو بھی کہلاتا ہے کیوں کہ اس کی نشریات محدود علاقے تک صاف سنی جا سکتی ہیں۔شارٹ ویو نشریات کے مقابلے میں ایف ایم کا علاقہ محدود ہوتا ہے لیکن انٹر نیٹ کے ذریعے اس کوپوری دنیا میں سنا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ایف ایم ریڈیو کاآغاز 1998ء میں کراچی سے ہوا تھاجو اب پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔یہ چینلز مذہبی، سیاسی اور تفریحی پروگرام پیش کر کے عوام کی علمی آبیاری کرتے ہیں ۔ایف ایم ریڈیو مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کمیونٹی کے لیے تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں ۔ بعد ازاں ان کی ریڈیو رپوٹ چینل پر نشر کر دی جاتی ہے۔اس باب میں چھبیس ایف ایم چینلز کا تعارف کرایا گیا ہے۔ ایف ایم چینلز مقامی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی بھی ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر اکاونٹ موجود ہیں ۔ ان اکاونٹس کی مدد سے ان کے سامعین پوری دنیا میں موجود ہیں ۔
ڈاکٹر سمیرا اکبر نے "ریڈیو کے عالمی ادارے اور فروغِ اردو” کو محنت اور جانفشانی سے تکمیل کے مراحل سے گزارا ہے۔یہ تحقیقی مقالہ اردو زبان اور ریڈیو نشریات سے محبت کرنے والوں کے لیے معلومات کا خزانہ بھی ہے اور تاریخی دستاویز بھی۔مذکورہ کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہےکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع ابلاغ اور ترسیل کی آمد سے ریڈیو کے سامعین میں اضافہ ہوا ہے۔ شارٹ ویو اور میڈیم ویوکے بجائے اب فریکو نسی ماڈو لیشن ( ایف ایم) نے لے لی ہے جو اب مقامی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی بھی ہےکیوں کہ انٹر نیٹ کے توسط سے اسے پوری دنیا میں سنا جاتا ہے۔ریڈیو کے بڑے اداروں نے اب موبائل ایپلی کیشنز بھی متعارف کرائی ہیں جوسامعین کو دنیا کے کسی بھی خطے میں ریڈیو پروگرام سننے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔اب ہر ریڈیو ادارے نےاپنی اپنی ویب گاہیں بھی ترتیب دے لی ہے جس سےان کے دائرہ اثر میں اضافہ ہو اہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post